عرب اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس

عرب اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس

عرب اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس کے پہلے دن امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں دونوں ملکوںکے درمیان 350ارب ڈالرکے تجارتی معاہدے اور یادداشتیں طے ہوئی ہیں۔ امریکہ کے صدر کے پہلے غیرملکی دورے کے دوران اس بڑے حجم کے معاہدوں نے جہاں ایک طرف یہ ثابت کر دیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک کامیاب بزنس مین ہیں وہاں انہوں نے امریکیوں کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ امریکی صنعتوں کو تقویت دینے اور امریکیوں کی ملازمتوں کو محفوظ کرنے اور فروغ دینے کے پروگرام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان 350ارب ڈالر کے سودوں میں ایک سو دس ارب کے سودے امریکی اسلحہ کی خریداری کے بارے میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ اسلحہ عالمی دہشت گردی کے انسداد کے لیے خریدا جا رہا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے ریاض پہنچنے سے پہلے ہی سعودی عرب تین ارب ڈالر کے امریکی میزائل خریدنے کا سودا کرچکا تھا اور ایک ارب ڈالر کے امریکی میزئل متحدہ عرب امارات کو فروخت کرنے کا معاہدہ طے پا چکا تھا۔ ایک سو دس ارب ڈالر کے دفاعی سامان کے علاوہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان جو 205ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے اور یادداشتیں طے پائی ہیں ان کی تفصیلات ابھی عام نہیںکی گئی ہیں۔ تاہم اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان سودوںمیں بھی امریکی مصنوعات کی برآمد کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ میڈیا میں یہ تاثرعام ہے کہ یہ اسلحہ نئی قائم کی جانے والی 29اسلامی ملکوں کی فوج کے لیے خریدا جا رہا ہے جس کی سربراہی کے لیے پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کا انتخاب کیا جا چکا ہے ۔ اس حوالے سے یہ سوال تشنہ جواب رہتے ہیں کہ 29ملکوںکی فوج کے پاس اسلحہ اور دفاعی سازوسامان کی نوعیت کیا ہے اور یہ 110ارب ڈالر کا جو اسلحہ خریدا جارہا ہیاس سے پہلے سے موجود اسلحہ اور سازوسامان میں اضافہ مقصود ہے یا اس اضافی اسلحہ کی نوعیت پہلے سے موجود اسلحہ سے مختلف ہے۔ یقینا سعودی حکومت نے خریداری کی فہرست تمام پہلوؤںکو مدِنظر رکھ کر مرتب کی ہوگی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ 54ملکوںکی اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس سے اسلام اور دہشت گردی کے موضوع پر خطاب بھی کریں گے۔ اس خطاب کا لب لباب کیا سامنے آتا ہے اس سے اندازہ ہو سکے گا کہ وہ مسلم دنیا سے کیسے تعلقات استوار کرنے کا نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی مسلمان دشمنی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ موجودہ عرب اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس میں ایران کی عدم موجودگی بھی اس کے ایک پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمان ملکوں سے امریکہ جانے والوںپر جو پابندیاںعائد کی تھیں وہ بھی ان کے مسلمانوں کے بارے میں نقطۂ نظر کی غمازی کرتی ہیں۔ ایسی کانفرنسوں کے بنیادی امور سفارتی سطح پر پہلے سے طے کر لیے جاتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب سے یہ اندازہ ہو سکے گا کہ انہوں نے سعودی عرب میں عرب اسلامی ملکوں کی سربراہی میں شرکت سے قبل مسلمانوں کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر میں تبدیلی کی ہے یا نہیں۔ پسِ منظر میں ہونے والے سفارتی انتظامات کے حوالے سے سعودی عرب کے رویے میں ایک تبدیلی سعودی وزیر خارجہ کے اس بیان سے محسوس کیا جا سکتی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ اور بیٹی سعودی عرب کے دورے کے دوران سکارف نہ پہننے میں مرضی کی مالک ہوں گی۔ اور ٹی وی چینلز میں یہ نظر آیا کہ انہوں نے سکارف نہیں پہنا۔ اس سے مغربی دنیا میں مقیم ان مسلمانوں کی حوصلہ شکنی ہو گی جن کی خواتین ان ملکوں کی حکومتوں کے سکارف پہننے پر پابندی کے احکام کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ ایک ٹی وی چینل نے وہ فوٹیج بھی دکھائی جس میں ملکہ برطانیہ نے سعودی عرب کے دورے کے دوران سرپوش پہننے کو ترجیح دی تھی۔ عرب اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر اعظم نواز شریف کر رہے ہیں۔ جنہیں کانفرنس میں شرکت کے لیے سعودی فرمانروا کی جانب سے دعوت خود سعودی وزیر خارجہ نے پہنچائی جو ایک خصوصی پروٹوکول کی علامت ہے۔ میڈیا میں یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ سعودی حکمران وزیر اعظم نواز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ون آن ون ملاقات کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں لیکن امریکی دفتر خارجہ نے ایسے امکان کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ 54ملکوں کی کانفرنس میں ایسا انتظام یقینی نظر نہیں آتا۔ کانفرنس چونکہ دہشت گردی پر متوجہ ہے اس لیے اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کا وفد دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالے جن کا اعتراف ساری دنیا میں کیا جا رہا ہے اور کانفرنس پر یہ واضح کرے کہ پاکستان بھارت کی ریاست کے زیرِ انتظام دہشت گردی کا ہدف ہے۔ جس کا ایک ثبوت کلبھوشن یادیو کے اعترافات ہیں اور دوسرا ثبوت افغان حکومت کا اعتراف ہے کہ وہ اپنے علاقے سے پاکستان میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو داخل ہونے سے روکنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور کانفرنس کو اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کی جائے کہ مشترکہ اعلامیہ میںمقبوضہ کشمیر میں بھارت کی دہشت گردی ، بلوچستان میں علیحدگی پسندوںکے لیے بھارتی سرپرستی اور افغانستان میں مقیم پاکستان مخالف دہشت گردوں کو اسلھہ اور امداد کی فراہمی پر بھارت کی مذمت کی جائے اور اس کی روک تھام کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑھ بندی کی حمایت حاصل کی جائے۔

اداریہ