کلبھوشن کا مقدمہ: پارلیمنٹ میں زیرِبحث لایا جائے

کلبھوشن کا مقدمہ: پارلیمنٹ میں زیرِبحث لایا جائے

عالمی عدالت انصاف کی طرف سے بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کو پھانسی کی سزا کو روکنے کے بارے میں حکم امتناعی پر پاکستان کے عوام نے جس ردِ عمل کا اظہار کیا ہے وہ فطری ہے۔ بھارت کا یہ حاضر سروس فوجی افسر پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشیں کرتا رہااس نے دہشت گردوں اور جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جنہوں نے ہزاروں پاکستانیوں کو قتل کیا ہے۔ اس نے دہشت گردی کی وارداتوں کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے اس نے ریاست پاکستان کے خلاف جاسوسی کی ہے۔ دنیا کے ہر قانون میں ایسے شخص کے مقدمے کی سماعت فوجی قانون کے تحت ہوتی ہے اور پاکستان کی فوجی عدالت نے اسے موت کی سزاسنائی ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر ایسے شخص کی سزا کو مؤخر کرنے کے بارے میں فیصلہ پر پاکستان کے عوام کا غم و غصہ بجا ہے۔ بھارت نے اپنے جاسوس کی سزا کے خلاف پاکستان میں اپیل نہیں کی نہ اس کے لیے رحم کی استدعا کی۔ یہ بھارت کی چال ہے جس کے ذریعے وہ ''اپنی دھرتی کے بیٹے'' کی جان کو داؤ پر لگا کر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں گیا ہے۔ اس چال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں اپنے مؤقف کا جودفاع کیا ہے۔ اس کے بارے میں مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے وکیل خاور قریشی نے خود ایک بیان میں کہا کہ مقدمے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے محض سزائے موت کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے جو معمول کی کارروائی ہے اور جس کا مطلب یہ ہے کہ مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ یہ مقدمہ سارے ملک میں بحث کا موضوع بن گیا ہے اور حکومت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس مقدمے پر بھرپور توجہ نہیں دی گئی۔ ایک طرف یہ کہا جارہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے مارچ 2017ء میں جو اعلا ن جاری کیا گیا اس میں عالمی عدالت انصاف کا دائرہ اختیار تسلیم کیا گیا ہے اس کے مقابلے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مارچ 2017ء کے اعلان نامے میں 1960ء کے اعلان نامے کی وسعت محدود کر دی گئی اور اب کلبھوشن یادیو ایسے مقدمات کو عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار سے خارج قرار دیا گیا ہے۔ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے ایک تفصیلی گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان کے قوانین ہی کلبھوشن کے مقدمے میں نافذ العمل ہوں گے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کلبھوشن کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملے گی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کہتے رہے ہیں کہ کلبھوشن کے مقدمہ میں کارکردگی سے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ ریاست پاکستان کی سالمیت کے خلاف جاسوسی اور دہشت گردی کے ارتکاب کے معاملہ میں قومی اتفاقِ رائے ہونا چاہیے۔ اس لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ قومی اسمبلی میں زیرِ بحث لایا جائے۔ جہاں وزیرخارجہ سرتاج عزیز یہ تفصیل بیان کر سکتے ہیں کہ پاکستان کو عالمی عدالت میں جانے کے لیے بہت کم وقت ملا تھا اور اب مقدمے کی بھرپور تیاری کی جائے گی ۔وزیر داخلہ بھارتی جاسوس اور دہشت گردی کی کارروائیوں اور اس کے مقدمے کے بارے میں بہتر طور پر تفصیلات پیش کر سکیں گے ' اس مقدمے کے حوالے سے اپوزیشن کی طرف سے جو اعتراضات اُٹھائے جا رہے ہیں وہ بھی تفصیل کے ساتھ سامنے آ جائیں گے اور حکومت کی طرف سے عالمی عدالت انصاف کے حکم امتناعی کے بعد اس مقدمے کے لیے جو تیاری کی جارہی ہے وہ بھی سامنے آ جائے گی۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ خاور قریشی نے مقدمے میں وکالت کا حق ادا کیا۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں ایڈہاک جج کے تقرر کی درخواست دینے کے لیے وقت نہ تھا۔ ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ اب پاکستان کی طرف سے وکالت کے فرائض اٹارنی جنرل انجام دیں گے۔ یہ کنفیوژن ختم ہونا چاہیے ۔اس مقدمے کی پیروی کے بارے میں جن شکوک و شہبات کا اظہار سامنے آ رہا ہے وہ قومی اتفاقِ رائے کے منافی ہے حالانکہ اس قومی اہمیت کے معاملے پر حکومت اپوزیشن کا موقف ایک ہونا چاہیے۔ اس لیے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں سیر حاصل بحث ضروری سمجھی جانی چاہیے۔ اس بحث میں مقدمے کے تمام پہلوؤں اوراس کے فیصلے کے بارے میں سبھی امکانات پر غور کیا جانا چاہیے کہ عدالت کے فیصلے کی ہر صورت کے حوالے سے پاکستان کا ردِعمل کیا ہو گا۔

اداریہ