یہ کیسا واویلا ہے

یہ کیسا واویلا ہے

حیر ت کی بات ہے کہ جس قسم کے بیا نا ت جاری ہورہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے سیا سی قائدین کو عالمی عدالت کے طریقہ کا ر اور اس کے اختیا ر کے بارے میں ذرہ بھر شد بد نہیں ہے ۔ جب پانا ما لیکس کے بارے میں ایک فیصلہ آیا تو اس وقت بھی یہ زور اٹھا یا گیا کہ عوام کو تا ثر ملا عدالت نے پاناما لیکس کے بارے میں فیصلہ دید یا ہے حالا نکہ عدالت نے مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ مقدمے کے فیصلے کے لیے ٹھوس شواہد حاصل کر نے کی غرض سے تفتیشی کمیشن بنا نے کافیصلہ دیا مقدمہ تو جو ں کا تو ں پڑا ہو ا ، اب جو ائنٹ کمیشن کی رپو رٹ کی روشنی میں مقدمہ چلے گا اور فیصلہ آئے گا ۔ عالمی عدالت نے بھی مقدمے کی سما عت مکمل ہو نے تک یا دیو کو پھانسی نہ دینے کا کہا ہے ظاہرہے کہ عدالت اس مقدمے کو دیکھناچاہتی ہے جیسا کہ اس نے کہا بھی ہے کہ عدالت کے دائر ہ اختیا ر کے بارے جو اعتراض ہے عدالت اس کا بھی جا ئزہ لے گی علا وہ ازیں اگر وہ کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد نہ رکواتی اور پا کستان اس کو پھانسی کے پھند ے پر چڑھادیتا ہے تو پھر مقدمہ کس بات پر آگے بڑھے گا ہنوز یہ فیصلہ ہو نا ہے کہ یا یہ مقدمہ مذکورہ عدالت میں چل سکتا ہے یا نہیںاس بارے میںقوانین کیا ہیں اور کیا کہتے ہیں ۔ عالمی عدالت اقوام متحدہ کی ایک شاخ ہے جس کو اقوام متحدہ کے منشور کا چا رٹر حاصل ہے اس بنیا دپر جو ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں وہ عدالت کے ضوابط ، قوانین کے بھی پا بند ہیں مگر عدالت کو ان رکن ممالک پر لا زمی طو رپر یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ا ن کے بارے میں لا زمی سماعت کر یں ، اسی طرح جو ممالک رکن نہیں ہیں ان کے لیے مقدمہ عدالت میںلانے کا طریقہ کا ر مختلف رکھا گیا ہے ، عالمی عدالت انصاف ممالک کے درمیا ن تنازعات کا تصفیہ عالمی قوانین کے دائر ے میں ہی کرسکتی ہے اس کی وضا حت عدالت کے ضابطے میں کر دی گئی ہے ، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ عدالت تنازعہ کے فریقو ں پر لازمی اختیا ر سماعت نہیں رکھتی بلکہ تنا زعے کا قانو نی حل بتا تی ہے وہ بھی جب تنا زع کے تما م فریق اس امر پر راضی ہو ں کہ عدالت سماعت کر کے تصفیہ کر ے ، پا کستان نے تو سماعت کو تسلیم ہی نہیں کیا ہے ، ایک معاہد ہ کے تحت رکن ممالک عدالت کو سماعت کا حق دیتے ہیں پا کستان اور بھارت نے بھی ایسے معاہد ے پر دستخط کر رکھے ہیں ، مگر یہ اختیاربھی ممالک کو حاصل ہے کہ وہ اس معاہد ے سے جب چاہے الگ ہو سکتا ہے نا کا ر گو ا کے معاملے میں امریکا نے اپنے خلا ف فیصلہ آنے پر عدالت کے فیصلے سے انحراف کیا تھا اور الگ ہو گیا تھا، پا کستان نے تو مقدمہ سے کا فی پہلے یعنی 29مارچ 2017ء کو اقوام متحدہ میں اپنے مستقل مندوب ڈاکڑ ملیحہ لو دھی کے ذریعے ایک نیا اعلا ن جمع کر ادیا ہے جس میںکئی حدودوقیود کا ذکر کیا گیا ہے جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملہ پا کستان کی سلامتی سے متعلق نہ ہو، عدالت نے متعد د با رخود بھی کہا ہے اور اس پر عمل بھی کیا ہے کہ عدالت کسی ریا ست کی سا لمیت اور خودمختاری کی وجہ عدالت کے سامنے پیش نہیں کر سکتی ۔جہا ں تک بھارت کا تعلق ہے تو اس نے مقدمہ اس بات کے لیے درج کیا ہے کہ پا کستان کو حکم دیا جا ئے کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے ، عدالت نے یہ دیکھنا ہے کہ آیا یہ بھارت کا حق بنتا بھی ہے یا نہیں ، قانو ن یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی کسی ملک میں جرائم کا ارتکاب کر ے اور وہ عام شہر ی ہو تو اس کو قونصلر رسائی مل سکتی ہے ، لیکن کلبھوشن پا کستان باقاعدہ ویزہ حاصل کر کے نہیں آیا تھا ، اس کاپہلا جرم یہ ہے کہ وہ غیر قانو نی طو رپر پاکستان میںگھسا جس کی بناء پر وہ قونصلر رسائی سے قانو نی طو ر پر محروم ہے پھر اس نے جا سوس کا کر دار ادا کیاجو پاکستان کی سلامتی سے تعلق رکھتا ہے ، بھارت نے پاکستان کو اجمل قصاب کے معاملے میںبھی قونصلر رسائی فراہم نہیں کی تھی اور پاکستان کی تفتیشی ٹیم بھارت پہنچنے سے پہلے پہلے اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی تھی جہا ں تک عالمی عدالت کے گیا رہ رکنی بینچ میں بھارتی جج کے شامل ہو نے کہ بات ہے تو یہ قانو نی حق حاصل ہے کہ جب کسی فریق کے ملک سے تعلق رکھنے والا جج بینچ میں شامل ہو تو دوسرے فریق کے موقف پر اس کے ملک کے جج کو بھی بینچ میں شامل کرلیا جا تا ہے اگر پا کستان مطالبہ کر تا تو پاکستانی جج کو شامل کیا جا سکتا ہے مگر اس مر حلے میں پا کستان کا درست اقدام ہے کیو ں کہ پاکستان کا موقف ہے کہ عدالت مجا ز ہی نہیں ہے کہ مقدمے کی سما عت کر ے تو اپنے جج کا مطالبہ کس بنا پر کیا جا ئے اگر یہ مطالبہ کر لیا جائے تو مطلب ہو گا کہ پاکستان نے عدالت کا حق سماعت تسلیم کر لیا ہے ۔ بات کہی جا رہی تھی کہ سیاستدانوںکے افسو س ناک رویو ں پر کہ وہ قومی سلامتی کے موضو ع پر بھی سیا ست گردی کو چمکا تے ہیں اور اس طرح اپنی غرض کے وسوسے عوام میں ڈالتے ہیں جس میں سیا ستد انو ں کا ساتھ پاکستان کامیڈیا بھی دے رہا ہے خاص طورپر الیکٹرانک میڈیا ۔ ہزار اختلا ف کے باوجو د جہا ں قومی سلامتی کا معاملہ ہو وہاں سیا ستدانوں کو سنجید ہ ہو نا چاہیے ، پاکستان کی واحد شخصیت بھٹو مر حوم کی تھی جن کے چاہنے والے تھے تو ایسے تھے کہ ان پرمر مٹنے کو تیا ر تھے اور مخالف تھے تو ایسے مخالف کہ اللہ کی پنا ہ مگر جب بھٹو شملہ معاہد ہ کر نے بھارت جا رہے تھے تو پاکستان کی پوری قومی اسمبلی نے بلا کسی اختلاف اور تحفظات کے بھٹومر حوم کو اعتما د کا ووٹ دیا تھاکہ وہ کسی سیا سی جماعت کے سربراہ یا کسی حکمر ان کی حیثیت سے بھارت سے مذاکرات کے لیے نہیں آئے ہیں بلکہ وہ پو ری قوم کا اعتما د لے کر اور پوری قوم کی نمائندگی کا اعزاز لے کر بھارت سے مذاکرات کے لیے آئے ہیں اس امر کا ہی نا م قومی یکجہتی ہے کلبھوشن کے معاملے پر اپوزیشن کرنا درست نہ ہو گا بلکہ قومی یکجہتی کا مظاہرکرنا ہوگا کہ بھارت سمیت ساری دنیا دیکھ لے کہ پا کستان اپنی سلامتی کے معاملے میں بنیا ن مرصوص کی حیثیت ہے ۔

اداریہ