Daily Mashriq


روشنی اور سیاہی کی حد فاضل

روشنی اور سیاہی کی حد فاضل

سلسلہ روزوشب کے درمیان اور تو کچھ بھی نہیں بس روشنی اور سیاہی کی ایک حد فاصل درمیان میں پڑتی ہے کہ اسی حد سے تو دونوں کو وجود میسر ہے ۔چمکتا سورج اجسام کو وجود بخشتا ہے ورنہ تو کائنات کی اصل توسیاہی ہے ۔ہماری بصارتیں بھی تو نور کی محتاج رہتی ہیں ۔کائنات کا یہ سب سے خوبصورت کیمرہ یعنی ہماری آنکھ نائٹ وژن سے عاری ہے ۔120سے 480میگا پکسل تک کی طاقت رکھنے والی انسانی آنکھ بہرحال روشنی کی محتاج ہے ۔اللہ کی شان کیا بیان کی جائے کہ انسان کا عجز بیان بھی ایک حقیقت ہے ۔ حرف کن سے کتنی کائناتین تخلیق ہوئیں ، کتنے سیارے وجود میں آئے ، کتنی دنیا ئیں اور کتنے چاند سورج کووجود ملا ہو،ہم انسان اب تک اس کی گنتی بھی نہ کرپائے ۔ اندازوں سے آگے ہماری سوچ فی الحال نہیں پہنچ سکتی ۔ہم تو اس کی بنائی گئی کائناتوں کے ایک چھوٹے سے نقطے یعنی زمین کے باسی ہیں ۔تعداد اورمجموعی حجم کو دیکھا جائے تو کیا زمین اورکیا اس پر بسنے والے، انتہائی حقیر درجہ رکھتے ہیں ۔لیکن جو مالک ہے سب جہانوں کا، اورجو کچھ کہ موجود ہے اور جو کچھ کہ موجود نہیں ان سب کا مالک اسی نقطہ بھر سیارے کے باسی انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیتا ہے ۔ ضرور انسان میں ایسا کچھ ہے کہ وہ خود اس کی تخلیق کو ''احسن تقویم ''کہتا ہے ۔پھر مٹی سے اٹھائے خمیر والے اسی انسان کواس نے فرشتوں جیسی پاک مخلوق سے بھی افضل قراردیا تو اس کے بعد تو اس کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی کہ ''کن فیکون ''کے اس سفر میں انسان ہی سب توجہ کا مرکز ہے ۔زندگی انسان کی زندگی ہی ہے کہ اسی زندگی کے مطابق ہی بعد میں کچھ فیصلے ہونے ہیں ۔ سو انسان ہی مرکز کائنات ہے ۔بھلے سے وہ ایک چھوٹی سی دنیا کا باسی کیوں نہ ہولیکن اس چھوٹی سی دنیا میں اس خالق نے کتنے رنگوں کی مصوری کررکھی ہے اور کیا کیا کچھ اس میں رکھ چھوڑا ہے کہ شمار بھی ممکن نہیں ۔انسان جسے اپنے علم پر بڑا ناز ہے لیکن اب تک اتنی ترقی کے باوجود انسان کن فیکون کے1کو بھی نہیں پہنچا۔جبکہ اللہ نے اسے تسخیر کائنات کا منصب دے رکھا ہے۔اب جبکہ انسان نے تسخیر کائنات کا کام سرانجام دینا ہے تو گویا اس کا یہ علمی سفر بہت آگے جائے گا۔ انسان شعور و آگہی کی بنیاد پر کائنات میں اللہ کے چھپائے ہوئے رازوں پر سے پرت در پرت پردے ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہے ۔انسان کی یہ کوششیں کیا رنگ لائیں گی اور اس کی انتہا کیا ہوگی اس کا جواب فی الوقت دینا شاید ممکن نہیں لیکن یہ طے ہے کہ آج کا انسان شعورکی اعلیٰ قوتوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ سائنس اور جدید آلات نہ صرف انسانی زندگی میں بے حد و بے پناہ تبدیلیاں لائے ہیں وہیں تحقیق و جستجو کے نئے در بھی وا ہوئے ہیں ۔ اللہ بے شک قادر مطلق ہے اور اسے ہر ایک چیز اور ہر ایک بات پر قدرت حاصل ہے ۔لیکن کائنات کے اس سفر میں اللہ نے انسان کو بھی شریک کرنا تھا اس لیے اس ذات نے علت و معلوم یعنی Cause and Efec کی بنیاد پر سلسلہ روز شب کی بنیادرکھی ۔گویا ہر کاز کسی ایفیکٹ کو جنم دیتا ہے اور کوئی ایفیکٹ خود کسی کا کاز بن جاتا ہے ۔ ہمارا تو ایمان ہی یہی ہے کہ اللہ کا حرف ''کُن ''اس کائنات کا پہلا کاز تھااور فیکون جو کہ اسی کن کا ایفیکٹ ہے کہ جو ہنوز جاری وساری ہے ۔ بقول اقبال 

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

خدا چاہتا تو کسی اور سسٹم سے کائنات بنا سکتا تھا لیکن اس ذات نے انسان کو ایک لوجیکل ذہن عطا کیا ہے اور یہ ذہن علت و معلول پر ہی عمل کرتا ہے سو کائنات کو بھی اللہ نے لوجیکل بنادیا تاکہ انسان اسے تسخیر کرنے آسانیاں محسوس کرے ۔انسان کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ انسان ہر چیز کو لاجیکل انداز ہی میں سمجھنے کی کوشش کی کرتا ہے ۔جبکہ کچھ چیزیں انسان کے شعور سے بالاتر ہوتی ہیں ۔ خود اللہ کی ذات کو انسان کا محدود شعوری نظام سمجھنے سے قاصر ہے ۔ کیونکہ انسان جو کچھ بھی سوچتا ،سمجھتا اور پرکھتا ہے اس میں انسان کا مشاہدہ ، تجربہ اور شعور شامل ہوتا ہے ۔ اب اس انسان اس چھوٹی سی دنیا میں اتنا بڑا مشاہدہ ، تجربہ اور شعور رکھ ہی نہیں سکتا کہ تمام کائناتوں پر حاوی اس خالق ذات کو سمجھ سکے ۔ اللہ یہاں انسان پر ایک اور احسان کرتا ہے کہ انسان کواس کی محدود زبان اور محدود شعور کے ذریعے سمجھاتا ہے ۔یہ الہام کا حوالہ ہے کہ خدا انسان سے اپنے نبی کے ذریعے کلام کرتا ہے اور اسے کائنات کی حقیقت ، زندگی کی حقیقت اورخود اپنی ذات کی حقیقت سمجھاتا ہے ۔ انسان نے خدا کو جتنا بھی سمجھا ہے وہ بنیادی طور پر الہام ہی کے ذریعے سمجھاہے ۔ الہام کا سلسلہ تو مکمل ہوچکا ہے لیکن جو الہام کتابوں اور صحائف کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔ان میں بھی سوائے قرآن مجید کے کوئی دوسری کتاب یا صحیفہ انسانی ترمیم و اضافے سے نہیں بچ سکا ۔ قرآن ہی بس ایک مکمل کلام الہٰی ہے کہ جس کو مشعل راہ بنایا جا سکتا ہے ۔ قرآن بلا شبہ اللہ کا کلام ہے اور رہتی دنیا تک ہدایت کا ذریعہ ہے تواس کی تفہیم کا سلسلہ بھی نہ رکنے والا ہے ۔ انسان کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی تفہیم کے نئے نئے انداز اور مفاہیم سامنے آتے ہیں ۔ سائنس کی ہوشربا ترقی میں بالخصوص آج کا دور انتہائی تشکیک کا دور ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان نے اپنی ترقی کا مدار مادیت پر رکھا ہے ۔جس میں انسانی آسائش کی طلب سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ انسان کے بائیولاجیکل مسائل کا حل و علاج بھی بہت ترقی کررہا ہے لیکن انسان کی نفسیات میں کوئی بڑا ارتقا ء سامنے نہیں لایا جاسکا ۔ انسان آج بھی ویسا ہی وحشی ہے ۔ اس کے حیوانی جذبے ابھی تک ویسے ہی ہیں جو ماضی میں تھے ۔ جس کی بدولت انسان دنیا میں فساد پھیلا رہا ہے ۔ انسان کی اصل ترقی کا دور اس وقت شروع ہوگا جب وہ اپنے حیوانی جذبوں کی شدت اور اپنی نفسیات کی پیچیدگیوں پر قابو پائے گا۔میرے خیال میں یہی وہ وقت ہوگا جب انسان خود کو اور اپنے خالق کو سمجھ سکے ۔ اگر وہ وقت آگیا تو بلاشبہ انسان خدااور اس کی خدائی کو سمجھ سکے گا۔

متعلقہ خبریں