Daily Mashriq

عرب امریکہ سربراہی کانفرنس اور پاکستان

عرب امریکہ سربراہی کانفرنس اور پاکستان

برطانوی صحافی رابرٹ فسک کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ کانفرنس کا مقصد عرب نیٹو فورس کے خواب کو حقیقت بنانا ہے۔ ایک اور نمایاں بات جس کا ذکر پہلے ہی میڈیا میں آ چکا ہے یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ اس کانفرنس کے حوالے سے سعودی عرب نے جو سرکاری ویب سائٹ قائم کی ہے اس میںدنیا بھر میں برداشت اور اعتدال پسندی کو فروغ دینے کے ذریعے دہشت گردی ' پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے سلامتی سے متعلق ایک زیادہ طاقت ور اور موثر شراکت داری قائم کرنے کے طریقوں پر غور کرنا اس کانفرنس کا مقصد ہے۔عالمی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے 29عرب ملکوں کی ایک فوج کے قیام کا پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے جس کے سربراہ کے طور پر پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کا تقرر غالباً ہوچکاہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کامیاب بزنس مین ہیں، کے سعودی عرب جانے سے پہلے امریکی انتظامیہ نے اسلحہ کے دو بڑے سودوں کا اعلان کر دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر کے میزائل فراہم کیے جائیں گے اور اس سے بھی بڑا سودا سعودی عرب کے ساتھ ایک سوا ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کا کیا گیا ہے۔ 

مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ اسلحہ ''مسلم نیٹو آرمی'' کومسلح کرنے کے لیے فراہم کیا جا رہا ہے۔ سربراہی کانفرنس کے مقاصد کے حوالے سے سعودی ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے فروغ کو اعتدال پسندی اور برداشت کے ذریعے روکنے کے لیے زیادہ مضبوط باہمی شراکت داری قائم کی جائے گی۔ اس سے قطع نظر کہ صد ر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں کیا کہتے ہیں اور سربراہی کانفرنس کے مقصد کے بارے میں سعودی عرب کی ویب سائٹ میں عالمی دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کا اعتدال اور برداشت کے ذریعے مقابلہ کرنے کے حوالے سے اعتدال اور برداشت کی حدود کہاں تک جاتی ہیں، عالمی دہشت گردی کے متعلق اس 54رکنی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کا خطاب کلیدی اہمیت کا حامل ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں پاکستان ایسا ملک ہے جس نے دہشت گردی کے انسداد میں بیش بہا قربانیاں دی ہیں ۔ پاکستان کے ساٹھ ہزار ' سویلین اور فوجی دہشت گردی یا دہشت گردی سے متعلق واقعات میں شہید ہو چکے ہیں۔ اور گزشتہ ایک عشرے کے دوران پاکستانی معیشت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں بھاری نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف دنیا کی جنگ لڑ رہا ہے یا کم ازکم دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سب سے بڑے محاذ پر نبرد آزما ہے۔ اس کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے گوریلا دہشت گردوں کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی جنگ جیتی ہے اور اب جنگجوؤں کے سلیپنگ سیلز کو آشکار کرکے ان کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔ یہ کہنا بھی ضروری ہونا چاہیے کہ پاکستان پر یہ جنگ اس کے ہمسایہ بھارت نے مسلط کی ہے جس کی سرکاری خفیہ ایجنسی پاکستان میں دہشت گردی کے لیے کارندے بھیجتی ہے (کلبھوشن یادیو ایک مثال ہے) اور افغانستان میں مقیم پاکستان مخالف دہشت گردوں کو اسلحہ ' سرمایہ ' تربیت فراہم کرتی ہے اور اہداف تک دہشت گردوں کو رہنمائی فراہم کرتی ہے۔(تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کی ویڈیو پیش کی جا سکتی ہے) بھارت کی سفاکیت اور دہشت گردی کی واضح مثال مقبوضہ کشمیر میں کئی ماہ سے جاری کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ہے جس پر براہ راست گولیاں برسا کر اور پیلٹ گنوں سے چھرے برسا کر گزشتہ چھ ماہ کے دوران کئی سو نہتے کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جا چکا ہے۔ اسرائیل کی دہشت گردی اور انتہا پسندی دنیا میں پرتشدد انتہاپسندی کی دوسری مثال ہے جہاں ساڑھے چھ ہزار فلسطینی بچے' بوڑھے ' عورتیں اور مرد اسرائیل کی جیلوں میں ہیں اور اسرائیل کی جیلوں میں غیر انسانی سلوک کے خلاف دو ہزار فلسطینی قیدی ایک ماہ سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ جن کی ملاقات بند کی ہوئی ہے۔ پاکستان میں ضرب عضب کے کامیاب آپریشن کے بعد آئے دن دہشت گردی کی وارداتوں کے سراغ افغانستان میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں اور علیحدگی پسند بلوچ رہنماؤں تک جاتے ہیں ۔ کیا وزیراعظم نواز شریف کو یہ حقائق کانفرنس کے سامنے پوری صراحت کے ساتھ بیان کرنے کا وقت کانفرنس کے دوران ملے گا اور کیا مسلم عرب نیٹو کے مقاصد میں کشمیریوں کے خلاف بھارتی دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی بھارتی سرپرستی کی سرکوبی بھی شامل کروا سکیں گے؟ ۔

اداریہ