میرا شہر پشاور

میرا شہر پشاور

یہ لکھتے ہوئے دکھ ہوتا ہے کہ پشاور کی تصویر روزبروز بدصورت ہوتی چلی جارہی ہے یہ بڑھتی ہوئی آبادی کا شاخسانہ ہے نظام کی خرابی یا پھر ارباب اختیار کی بے حسی؟ جب پشاور کی فضائوں میں سانس لینے والے پشاور سے محبت کے بلند بانگ دعوے کرنے والے اس کی خوبصورتی کا خیال نہیں کرتے جنھیں یہ احساس ہی نہیں ہے کہ سارے کام حکومت کے کرنے کے نہیں ہوتے بہت سے کام ہمیں خود بھی کرنے چاہیںاگر میں اپنے محلے میں کوڑا کرکٹ پھینک کر کارپوریشن سے یہ توقع رکھوں کہ اس کے اہل کار الہ دین کے چراغ والے جن کی طرح آکر یہ گندگی اٹھالیں گے تو بڑی زیادتی کی بات ہے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ کوڑا گلی میں پھینکنے کی بجائے اسے اس کے لیے مخصوص کیے گئے ڈسٹ بن میں پھینکا جائے بہت سے مہربان ڈسٹ بن کے باہر ہی کوڑا پھینک کر رخصت ہوجاتے ہیں۔آہستہ آہستہ بہت سے بازارو ں میں تجاوزات کا سلسلہ پھر سے بڑھنے لگا ہے پشاور کی سبزی منڈی کی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں سے دو ٹرک بڑی آسانی کے ساتھ گزر سکتے ہیں لیکن جب سبزی فروش اپنی دکانوں کو چھوڑ کر سبزیاں اپنی دکان کے آگے سجا کر بیٹھ جاتے ہیں تو سبزی منڈی کنجوس کے دل کی طرح تنگ ہوجاتی ہے اسی طرح ہشتنگری کے پل کے نیچے تجاوزات کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا گیا تھا مگر اب پھر سے ہتھ ریڑیاںسڑک کے کنارے کھڑی نظر آتی ہیں تجاوزات کے خلاف آپریشن سے پہلے اس پل کے نیچے سے گزرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا سڑک بھی جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی لیکن اس سڑک کو بھی تعمیر کردیا گیا اور تجاوزات بھی ہٹا دی گئیں تو مخلوق خدا نے سکھ کا سانس لیا اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پل کے نیچے سڑک کے عین درمیان میں بنے ہوئے چبوترے پر پھل فروشوں نے پھر سے قبضہ جمالیا ہے جب گاہک وہاں خرید وفروخت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو اس سے ٹریفک کی روانی میں خلل پڑتا ہے اسی طرح سڑک کنارے پھل فروشوں کی گاڑیاں بھی ٹریفک کی روانی میں مسلسل خلل انداز ہو رہی ہیں کارپوریشن کا عملہ اس ساری صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہے بلکہ یوں کہا جائے تو شاید بہتر ہوگا کہ یہ سب کچھ کارپوریشن اہل کاروں کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ذرا آگے بڑھیے تو فقیر آباد چوک جسے عرف عام میں گورنمنٹ کالج چوک کہا جاتا ہے وہاں گندگی کے ڈھیر منہ چڑاتے نظر آتے ہیں اسی طرح گورنمنٹ کالج کے بالکل سامنے سڑک کے کنارے ڈھیروں کی تعداد میں کھڑے رکشے ٹریفک کی روانی میں مسلسل رکاوٹ ہیں رکشوں کی یہ غیر قانونی ورکشاپ سڑک کے اچھے خاصے حصے پر قبضہ جمائے ہوئے ہے یہ جگہ انتہائی حساس ہے یہاں سڑک اس قسم کی تجاوزات سے مکمل طور پر پاک صاف ہونی چاہیے اگر یہاں سے رکشوں کی ورکشاپ کو ہٹا دیا جائے ہتھ ریڑھیوں کو دیس نکالا دے دیا جائے تو یہ سڑک ٹریفک کی آمدو رفت کے لیے مزید وسیع ہوسکتی ہے گورنمنٹ کالج پشاور شہر کا سب سے بڑا اور معتبر تعلیمی ادارہ ہے ہمیں اس کے آس پاس کے علاقے کو اس قسم کی تجاوزات سے پاک رکھنا چاہیے گورنمنٹ کالج سے دو قدم آگے بڑھیے تو پشاور کا تاریخی شاہی باغ ہے جسے پشاور شہر کی ایک بہترین تفریح گاہ بنایا جاسکتا ہے لیکن اس کی حالت زار دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا شکار ہے اس میں موجود پلے لینڈ اس کی خوبصورتی پر ایک بدنما داغ ہے جو سارا دن بند پڑا رہتا ہے مگر اس میں موجود سنوکر کلب کی میزیں ہر وقت آباد رہتی ہیں جہاں کالج کے طلبہ کالج اوقات کے دوران سنوکر کھیلتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں سنوکر پر شرط لگا کر کھیلنا یہاں عام سی بات ہے یہ کتنا بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے طلبہ کو ایک محفوظ اور پاک صاف ماحول مہیا کرنے میں ناکام رہے ہیں اس کے علاوہ جمعے کے بابرکت دن افغان گرائونڈ کی دیوار کے ساتھ کتوں کی منڈی الگ سے سجتی ہے یہاں ہر قسم کے کتوں کی بھرمار ہوتی ہے کتوں کی خرید وفروخت ہوتی ہے ایک تاریخ شاہی باغ کی اس سے بڑی توہین اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم اسے اس قسم کی گندگیوں سے پاک رکھنے میں ناکام رہے ہیں یہاں پر بھی رکشوں کی مرمت کا کام سڑک پر ہی کیا جاتا ہے پہلے اس قسم کی ورکشاپ شہروں سے باہر بڑی بڑی سرائوں میں ہوا کرتی تھیں لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اب یہ ساری جگہیں شہر کا حصہ بن چکی ہیں شہر کے اندر بڑے بڑے چوراہوں میں گاڑیوں کے غیر قانونی اڈے متعلقہ اداروں کی آشیر باد سے قائم ہیں سب کو معلوم ہے سب کو نظر آتا ہے لیکن ان کا قلع قمع کرنے کے لیے کوئی مناسب قدم نہیں اٹھایا جاتا شاید یہ بہت سے لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ ہیں اس لیے کوئی انھیں ہٹانے کی زحمت گوارا نہیں کرتا یہ سب کچھ کرنے کے لیے نہ تو کسی بہت بڑے بجٹ کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کے لیے کسی فالتو فورس کی ضرورت ہے یہ سب کچھ بڑی آسانی کے ساتھ ختم کرکے شہر کی خوبصورتی کو بحال کی جاسکتا ہے!چلتے چلتے ایک نظر پتنگ فروشی کے کاروبار پر بھی ڈال لیتے ہیں اندرون شہر یکہ توت میں پتنگوں کی تھوک خرید فروخت کی بہت بڑی مارکیٹیں قائم ہیں جہاں کروڑوں روپوں کا کاروبار ہورہا ہے پتنگ بازی کی وجہ سے ہر سال بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں لیکن آج تک کوئی مائی کا لال پتنگوں کے اس گھنائونے کاروبار کو ختم نہیں کرسکا اخبارات میں پتنگ بازی کے نقصانات پر بڑے بڑے فیچرز لکھے جاتے ہیں عدالتیں اس کاروبار کو بار بار بند کرنے کے احکامات جاری کرچکی ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود ہم نے کبھی یہ خبر نہیں سنی کہ اندرون یکہ توت پتنگوں کا کاروبار کرنے والے تاجروں کی دکانیں سیل کرکے ان پر مقدمات قائم کرد یئے گئے ہیں! ۔

متعلقہ خبریں