Daily Mashriq


رمضان ٹرانسمشن ، جائز یا ناجائز؟

رمضان ٹرانسمشن ، جائز یا ناجائز؟

جب مشہورو معروف نعت خوان منظور الکو نین سے پو چھا کہ آپ نے کبھی اپنی سریلی آواز میں گانا گانے کی بھی کو شش کی ہے، تواس پر منظور لکوانین بر جستہ بولے کہ جس زبان پر ایک دفعہ خداوند لا عزال اور اُسکے پاک پیغمبر سیدنا حضرت محمد ۖ کانام آئے اُس زبان پر دوسرا نام کیسے آئے گا۔ہمیں کوئی حق حا صل نہیں کہ کسی کے کام پر تنقید کریں ۔مگر ہر پاکستانی ایک مسلمان کی حیثیت اور ماہانہ بجلی کے بل کے ساتھ ٣٠ رو پے جگاٹیکس ادا کرنے کی صورت میں حق رکھتاہے کہ وہ نجی اور حکومتی چینلز کے پروگراموں پر تبصرہ کر کے اپنے خیالات اور احساسات حکام بالا تک پہنچائیں۔ کیو نکہ یہ پروگرامز وطن عزیزکے ١٩ کروڑلوگوں کے لئے ترتیب د یئے اور دکھائے جاتے ہیں اور اس دھرتی کا ہر سامع اور قاری اپنا یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ الیکٹرانک چینلز کے پروگراموں پر سیر حا صل گفتگو اور تبصرہ کریں۔ کیا سر کاری ٹی وی اور دوسرے نجی چینلزکے احبا ب اقتدار یہ بتا نا پسند فرمائیں گے، کہ کیا الیکٹرانک چینلز پرمذہبی پروگراموں کے لئے علمائے کرام، فقہائے دین اور مذہبی سکالرز نایاب اورختم ہو گئے ہیں؟۔کیا میڈیا اور شو بز کے یہ لوگ انہی مذہبی سکالرز، عالم دین اور فقہائے دین سے اچھا پروگرام کرتے ہیں؟ ۔ کیا مذہبی معاملات پر شو بز سے وابستہ لوگوں کی دسترس ان عالموں اور مذہبی سکالروں سے زیادہ ہیں جن کا اوڑھنا بچھو نا صرف دین اسلام کی تبلیغ اور خدمت ہے؟ میرے خیال میں پی ٹی وی اور دوسرے نجی چینلز کے احباب اختیار کا جواب نفی میں ہو گا۔ مگر بد قسمتی سے اسلام کو مسح شکل میں پیش کرنے اور یہود و ہنود کی خو شی کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ حقوق نسواں، این جی او اور عورتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے نام اور انکو آگے لانے کے نام پر جو ڈرامے کھیلے جار ہے ہیں وہ کسی سے پو شیدہ اور مخفی نہیں۔ بعض اوقات تو پروگرام میں شو بز سے تعلق رکھنے والی بہنوں کے سر پر دو پٹہ ہو تا ہے مگر اکثر یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ مذہبی پروگرام کے دوران اکثر و بیشتر انکے سر ننگے اور کپڑے اتنے مختصر ہو تے ہیں کہ ایک قاری اور سامع مذہبی مو ضو ع سے زیادہ اُس عورت اور لڑکی کے حسن اور زیبا ئش کی طر ف متوجہ ہوتا ہے۔ ما ضی میں رمضان میں پی ٹی وی اور کچھ نجی چینلز نے کچھ اچھے پروگرام پیش کئے جو ایک مُستحسن قدم ہے۔ مگر بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی وی حکومت پاکستا ن کا نہیں بلکہ کسی یو رپین اور مغربی ممالک کا ٹی وی چینل ہے۔ کچھ عرصہ پہلے پا کستان ٹیلیوژن شکوہ اور جواب شکو ہ کا پروگرام کئی اقسا ط میں ٹیلی کا سٹ کر رہے تھے ۔ جس طر ح رحمان بابا، بابا بُلھے شاہ اور خواجہ فرید صو فیہ شاعری کر تے تھے اسی طر ح اُ ردو اور فا رسی زبان میں عظیم شا عر اور مفکر علامہ اقبال بھی صو فی اور فلسفی شا عرہیں۔ اگر رحمان بابا اور علامہ اقبال کے کلاموں کو دیکھا جائے تو وہ اپنی شاعری کے ذریعے اللہ تعالی اور پاک پیغمبر ۖ اور صو فی شاعری کو پر وان چڑ ھا رہے تھے۔ مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا والے اسکو جس انداز سے نشر اور ٹیلی کاسٹ کر تے ہیں وہ بالکل اُسکی صوفیہ اور حمدیہ شاعری کے ساتھ مذاق ہے۔ گزشتہ سال پاکستان ٹیلی وژن پر شکوہ اور جواب شکوہ کو بڑے گائیک نعیم عباس روفی پیش کررہے ہوتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ علامہ اقبال ٢٠ صدی کے دنیا کے عظیم ترین شاعروں میں سے ہیں۔ اُنکی شاعری پر اسلام ، مذہب، روحانیت ، اخلاقی قدروں ،تصوف کا اتنا گہرا اثر ہے کہ انکو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مگر بد قسمتی اور ستم ظریفی یہ ہے کہ نعیم عباس روفی نے کلام اقبال اور خا ص طو ر پر شکوہ اور جواب شکوہ کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے تھے۔اسلامی اور مشرقی روایات کے مطابق جب کوئی اسلامی اور صوفی شاعری پڑھتے ہیں تو اسلام کے کچھ بنیادی اصولوں یا کم ازکم علاقائی، ثقافتی، معا شرتی قدروں اور روا یات اور حیود اور قیودکو ذہن میں رکھ کر قوالی ، حمدیہ یا صوفی کلام پیش کرتے ہیں۔

مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ جس وقت نعیم عباس روفی شکوہ اور جواب شکوہ پیش کررہے ہوتے تھے ۔نعیم عباس روفی دونوں کانوں میں بالیاں ڈال کر شکوہ اور جواب شکوہ پیش کر رہے ہوتے تھے۔ فرنچ کٹ دا ڑھی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دا ڑھی کی یہ قسم یہودیوں ، قادیانیوں اور احمدیوںکی ہوتی ہے ۔ اور کچھ عر صہ پہلے جب کوئی اس قسم کی دا ڑھی رکھ لیتا تو اسکو یہو دی ،احمدی اور قادیانی تصور کیا جاتا تھا ۔ نعیم عباس روفی کے کان میں لگی بالیوں کے بارے میں میں یہ کہہ سکوں گا کہ مشرقی معاشرے میں دونوں کانوں میں با لی ڈالنا لڑکی یا عورت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔بلکہ اس سے زیادہ افسوس تو مُجھے ٹی وی پر وڈیو سر پر ہے کہ اُس کو اتنا شُد بُد نہیں کہ مذہبی پروگرام کو کیسے پیش کیا جائے۔جا معہ العلوم الاسلام بنو ری ٹائون کے رئیس دارالافتا مولانا مفتی انعام لحق نے فتوی دیتے ہوئے کہا کہ ایسی رمضان ٹرانسمیشن جس میں مخلوط اجتماعا ت منعقد کئے جاتے ہیں اور جن میں اداکاروں اور گلو کاروں کو بلوایا جاتا ہو ایسے پروگرام شریعت کی رو سے بالکل ناجائز اور حرام ہیں۔ جامعہ فا روقیہ شاہ فیصل کالونی کے استا ذالحدیث مہتم جامعہ صدیقہ مولانا مفتی منظور احمد مینگل ،جامعہ اشرف المدارس، جامعہ انوریہ عالمیہ اور جامعہ الدراسات الاسلامیہ گلشن ا قبال کے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ دین اسلام مسلمانوں کو احترام رمضان کا حکم دیتا ہے، مگر میڈیا اور خصوصاً ٹیلیوژن چینل نے رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر مذموم حرکات کا ارتکاب شروع کرکے اور خود عالمانہ رائے قائم کرکے خرافات کے راستے کھول دئے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک اور دین کے نام پر جو کھیل تما شہ ہو رہا ہے وہ نہ صرف حرام بلکہ ناجائز اور قبیح عمل ہے ۔ ایسے پروگرام منعقد کرنا خدا کے غضب کو دعوت دینا ہے۔

متعلقہ خبریں