مشرقیات

مشرقیات

علمائے کرام نے لکھا ہے کہ بغیر علم کے عابد کو شیطان کچے تاگے ( یعنی کمزور دھاگے ) کی لگام ڈالتا ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ بعد نماز عصر شیاطین سمندر پر جمع ہوتے ہیں ۔ سمندر کے بیچ میں ابلیس کا تخت بچھا ہوا ہوتا ہے ، شیاطین کی کار گزاری پیش ہوتی ہے ۔ کوئی کہتا ہے : میں نے آج اتنے لوگوں کو شرابیں پلائیں ، کوئی کہتا ہے میں نے اتنے زنا کرائے ۔ کسی نے کہا : '' میں نے آج فلاں طالب علم کو دین پڑھنے سے باز رکھا ۔ '' شیطان یہ سنتے ہی تخت پر سے اچھل پڑتاہے اور اس کو گلے سے لگالیتا اورکہتا ہے : بس تونے زوردار کام کیا اور شیاطین یہ کیفیت دیکھ کر جل گئے ۔ ابلیس بولتاہے: تمہیں نہیں معلوم جو کچھ تم نے کیا ، سب اسی (علم دین پڑھنے سے روکنے والے ) کا صدقہ ہے ۔ اگر قرآن وحدیث کا علم ہوتا تو وہ لوگ گناہ نہ کرتے ۔ بتائو ! وہ کونسی جگہ ہے جہاں سب سے بڑا عابد ( عبادت گزار ) رہتا ہے ، مگر وہ عالم نہیں ۔ انہوں نے ایک مقام کا نام لیا ۔ ابلیس انسان کی شکل بن کر راستے پر کھڑا ہوگیا ۔ عابد تہجد کی نماز کے بعد فجر کے واسطے مسجد کی طرف تشریف لائے ۔ راستے میں ابلیس کھڑا تھا ،کہنے لگا کہ حضرت ، مجھے ایک مسئلہ پو چھنا ہے ۔ عابد نے فرمایا : جلد پو چھو ، مجھے نماز کو جانا ہے ۔ اس ابلیس نے اپنی جیب سے ایک شیشی نکال کر پوچھا : کیا خدا تعالیٰ قادر ہے کہ ان آسمانوں اور زمینوں کو اس چھوٹی سی شیشی میں داخل کر دے ؟ عابد نے سوچا اور کہا '' کہاں آسمان و زمین اور کہا یہ چھوٹی سی شیشی ! '' ابلیس بولا : بس یہی پوچھنا تھا ، تشریف لے جائیے اور پھر اپنے چیلے شیاطین سے کہا:دیکھو میں نے اس عابد کی راہ ماردی ، اس کو خدا کی قدرت پر ہی ایمان نہیں ، عبادت کس کام کی ۔ طلوع آفتاب کے قریب عالم صاحب جلدی کرتے ہوئے تشریف لائے ، اس ابلیس نے کہا : مجھے ایک مسئلہ پوچھنا ہے ، انہوں نے فرمایا :جلدی پوچھو نماز کا وقت کم ہے ، اس نے وہی سوال کیا سن کر عالم نے فرمایا : ملعون ! تو ابلیس معلوم ہوتا ہے ۔ ''ارے ! وہ قادر ہے کہ یہ شیشی تو بہت بڑی ہے ، ایک سوئی کے ناکے کے اندرا گرچاہے تو کروڑوں آسمان و زمین داخل کردے ،، ''بے شک خدا سب کچھ کر سکتا ہے ۔ '' (پ1البقرہ 20)امام رازی نے ایران کے بادشا ہ نو شیر وان عادل کاو اقعہ نقل کیا ہے ، وہ یہ کہ ایک بار شکار کھیلنے نکلا ، اور دوڑ لگاتا ہوا آگے نکل گیا اور اپنے لشکر سے جدا ہوگیا ۔ اسے پیاس کی شدت محسوس ہوئی اور وہاں ایک باغ نظر آیا ۔ وہ اس میں داخل ہوا ، دیکھا کہ انار کے درخت ہیں اور ایک لڑکا بھی وہا ںموجود ہے ۔ اس نے لڑکے سے کہا کہ ایک انار مجھے دو ۔ اس نے ایک انا ر دیا ۔ بادشاہ نے اس کو چھیلا اور اس انار سے بہترین مزید ار رس لباب نکلا ۔ بادشاہ کو یہ انار کا باغ بہت پسند آیا ، تو دل میں عز م کر لیا کہ یہ باغ اس کے مالک سے چھین لوں گا ۔ پھر اس لڑکے سے کہا کہ ایک اور انار لائو ۔اس نے ایک انار لا کر دیا ۔ جب اس میں رس نکلا تو بہت کم رس نکلا اور ساتھ ہی کٹھا بد مزہ بھی ۔حاکم کی بد نیتی کا اثر اس باغ کے میووں پر بھی پڑا۔

اداریہ