Daily Mashriq

نوے دنوں کے بعد سو دن!

نوے دنوں کے بعد سو دن!

پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات2018 کے بعد حکومت کے قیام کی صورت میں پہلے 100 روز کیلئے6 نکاتی ایجنڈے کا اعلان کردیا جس میں طرزِ حکومت کی تبدیلی اولین ترجیح ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف کے6 نکاتی ایجنڈے میں طرز حکومت کی تبدیلی کے علاوہ معیشت کی بحالی، زرعی ترقی اور پانی کا تحفظ، سماجی خدمات میں انقلاب، پاکستان کی قومی سلامتی کی ضمانت وغیرہ شامل ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے ابتدائی100 روز میں ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرے گی اور نچلے طبقے کو اوپر لایا جائے گا۔دریں اثنائاقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے پاکستان نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ 2017 رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق ترقی کے اعتبار سے خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر، میٹرو بس پروجیکٹ، اورنج ٹرین اور دیگر منصوبے پنجاب کی پہچان بن گئے ہیں جہاں انسانی ترقی کے تصور کو عملی صورت میں ڈھال دیا گیا ہے۔ نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق انسانی ترقی کے لحاظ سے پنجاب کے 6 اضلاع یو این ڈی پی کی رینکنگ میں شامل ہیں جبکہ خیبرپختونخوا انسانی ترقی میں خاطر خوا کامیابی حاصل نہ کرسکا اور اس کا کوئی ضلع اس رینکنگ میں شامل نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق میڈیم ڈویلپمنٹ ڈسٹرکٹ میں پنجاب کے 19 اور خیبر پختونخوا کے 4 اضلاع شامل ہیں جبکہ تعلیم اور صحت میں بھی پنجاب دیگر صوبوں سے آگے ہے۔ جہاں صحت کی تسلی بخش سہولتوں کا تناسب 78فیصد ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں صحت کی تسلی بخش سہولتوں کا تناسب 73فیصد ہے۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد نوے دن میں رشوت وبدعنوانی کے خاتمے سمیت تبدیلی لاکر دکھانے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا اس میں صوبائی حکومت کو کتنی کامیابی ہوئی اس کا فیصلہ عوام پر چھوڑتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے، تین سو پچاس ڈیم بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا جسے حقیقت پسندانہ قرار دینا تحریک انصاف کا حق ہے لیکن اس دعوے کو ثابت کرنے اور اس پر عملدرآمد میں صوبائی حکومت کی بری طرح ناکامی سب پر عیاں ہے۔ اس تناظر میں تحریک انصاف کے مرکز میں حکومت کے ممکنہ قیام کے بعد ان کے بلند وبانگ پروگرام اور دعوؤں کو کسی طور حقیقت پسندانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس پروگرام پر عملدرآمد تو کجا اس جانب پیشرفت بھی بہت بڑی بات ہوگی۔ یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ پی ٹی آئی کو الیکشن سے قبل ہی اس امر کا یقین کیسے ہے کہ آنے والی حکومت ان کی ہے، پی ٹی آئی اپنے منشور میں محولہ اصلاحات اور دعوؤں کو سمو کر پیش کرتی تو اس کا ایک پراثر منشور سامنے آتا جس کا موازنہ اس کی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے نہ کیا جاتا مگر چونکہ تحریک انصاف نے فرض کر لیا ہے کہ مرکز میں اس کی حکومت آرہی ہے اور وہ سو دن میں وہ کچھ کر دکھائیں گے جو سول وفوجی حکمران ستر سالوں میں نہ کر سکے۔ اگر پارٹی قیادت کی استعداد کی روشنی میں دیکھا جائے تو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کسی بھی قسم کے انتظامی معاملات کا کوئی تجربہ نہیں اور نہ ہی وہ کسی تجربہ کار سیاسی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سربراہ کیساتھ جغادری سیاستدانوں کا ایک ٹولہ ضرور موجود ہے مگر چونکہ تحریک انصاف میں ان کی نظریاتی جڑیں موجود نہیں اسلئے وہ پارٹی چیئرمین سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے پیش کرنے کے قابل نہیں۔ خیبر پختونخوا میں عمران خان یقیناً بڑی تبدیلیوں اور کارکردگی کے خواہاں تھے مگر زمینی حقائق سے گزر کر تمناؤں اور خواہشات کو برلانا جوئے شیر لانے کے مترادف معاملہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان پانچ سالوں کی حکومت سے پی ٹی آئی کی قیادت کو حقیقت پسندانہ اہداف طے کرکے ان کو عملی جامہ پہنانے کی تگ ودو کو کامیاب بنانا ابھی سیکھنا باقی ہے۔ عمران خان اپنے ممکنہ اقتدار کے پہلے سو دنوں میں کابینہ کی تشکیل اور حکومت سازی کے معاملات سے ہی گزریں تو یہ بڑی بات ہوگی کجا کہ سو دن میں اس قدر کارکردگی دکھائی جائے کہ پاکستان کا قبلہ ہی بدل جائے۔ یکایک ملک میں ترقی بھی آئے، شفافیت بھی قائم ہو، پچاس لاکھ لوگوں کو گھر بھی ملیں، ایک کروڑ افراد کو ملازمتیں بھی دی جائیں اس قدر تیزی سے کارکردگی تو امریکہ سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ممکن نہیں، قرضوں میں جکڑے ہوئے ملک میں تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ تحریک انصاف کی قیادت یو این ڈی پی کی رپورٹ کے آئینے میں جائزہ لے تو اس کو اس امر کا بخوبی احساس ہوگا کہ تنقید کرنے اور عملی طور پر کر دکھانے میں بڑا فرق ہے۔ خیبر پختونخوا کی پسماندہ سمجھے جانے والے جنوبی پنجاب سے بھی کم ترقی کسی مخالف سیاسی جماعت کی پھبتی نہیں بلکہ ایک مستند ادارے کے اعداد وشمار اور سروے پر مشتمل رپورٹ ہے۔ ان تمام تحفظات واعتراضات کے باوجود ہماری دعا ہوگی کہ تحریک انصاف کو وہ سب کچھ کرنے کا موقع مل جائے جس کی وہ داعی ہے۔ وطن عزیز کے عوام آوے سے آوا بگڑی ہوئی صورتحال میںکسی آواز دوست کے منتظر ہیں خواہ وہ آواز جس کسی کی بھی ہو عوام منتظر ہیں کہ وہ دن کبھی تو آئیں گے جب وطن عزیز رشوت وبدعنوانی سے مکمل طور پر پاک ذمہ دار فلاحی ریاست ہوگی جہاں عوام کو بنیادی سہولیات میسر آئیں گے اور ان کے مسائل حل ہوں گے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنی اپنی جگہ سرگرم ہوںگی اور بشرط اقتدار اپنے اپنے طے کردہ ترقی کے اہداف کے حصول میں خلوص اور دیانتداری سے کوششیں کریںگی۔

متعلقہ خبریں