Daily Mashriq

جے یو آئی( ف) کا بلا جواز احتجاج

جے یو آئی( ف) کا بلا جواز احتجاج

علاقہ جات کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی توثیق اور موجودہ حکومت کی مدت حکمرانی کے دوران ہی اس عمل کی تکمیل طے ہوجانے کے بعد انضمام کی مخالف جماعت جے یو آئی (ف) کاخیبر ایجنسی اور درہ آدم خیل میں مرکزی شاہراہیں بند رنے کا اقدام کسی طور قابل قبول نہیں اور نہ ہی ان مٹھی بھر عناصر کو فاٹا کے عوام کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ گوکہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے کسی عوامی ریفرنڈم کا انعقاد تو نہیں کیاگیا لیکن قبائلی عوام کی غالب اکثریت فاٹا اصلاحات رائج کرنے کی متمنی تھی۔ فاٹا کے عوامی نمائندوں اور عمائدین نے بار بار اسمبلی میں اور اسمبلی کے باہر ہر فورم پر فاٹا کی موجودہ ہیئت میں تبدیلی لا کر اس بارے دبائو ڈالنے کے لئے احتجاج اور دھرنے کا سہارا تک لیا ہے۔ ملکی سطح پر سیاسی جماعتوں کے درمیان فاٹا کے انضمام پر دیگر سیاسی مخالفتوں کے باوجود اتفاق رائے کا ہونا ایک متفقہ اجتماعی فیصلہ ہی گردانا جاسکتا ہے جس سے حکومتی جماعت مکمل اتفاق رکھنے کے باوجود محض ان دو اتحادی جماعتوں کے دبائو اور من مانی کے باعث عملی جامہ پہنانے میں لیت و لعل کا مظاہرہ کرتی رہی۔ خدا خدا کرکے جب یہ بیل منڈھے چڑھی تو بجائے اس کے کہ اس فیصلے کو اختلاف کے اظہار کے باوجود تسلیم کرتی جے یو آئی اسے بلا وجہ متنازعہ بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ اس کے اس اعتراض کی وقعت نہیں کہ یہ عالمی ایجنڈا ہے۔ اگر ہے بھی تو یہ عالمی ایجنڈا کم اور عوامی ایجنڈا زیادہ ہے جس کی مخالفت کی تو گنجائش ہے مگر اسے تضادات اور احتجاج کا ذریعہ بنانا کسی طور احسن نہیں۔ جے یو آئی(ف) کو اپنے موقف میں فاٹا کے عوام کے مفاد میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی عوامی حمایت متاثر نہ ہو اور اگر جے یو آئی پھر بھی مصر ہے تو اسے ایسا کرنے کی آزادی ہے مگر عرصہ بعد قبائلی علاقہ جات کا لوٹ آنے والا امن متاثر نہ کیا جائے اور فاٹا کی ہیئت میں تبدیل ہوتے وقت احتجاج کاکلچر وہاں متعارف نہ کرایا جائے۔

سوات موٹر وے کے پہلے مرحلے کی خوش آئند تکمیل

حکومت خیبر پختونخوا کے وسائل اور مساعی سے کرنل شیر خان شہید انٹر چینج صوابی سے چکدرہ تک تعمیر ہونے والے موٹر وے کے صوابی کاٹلنگ سیکشن کی تکمیل موجودہ حکومت کے بڑے اور اہم منصوبے کی پایہ تکمیل کو پہنچنے والا بڑا منصوبہ ہے۔ کاٹلنگ سے چکدرہ حصے پر بھی کام تیز رفتاری سے جاری ہے جس کا افتتاح دسمبر تک متوقع ہے ۔ سوات موٹر وے نہ صرف ملاکنڈ ڈویژن کے سیاحتی مقامات تک باآسانی بسہولت اور تیز تر رسائی کا باعث ہوگا اور فاصلہ کم ہوگا بلکہ اس موٹر وے سے اسی کلو میٹر کے اسی پورے علاقے میں خاص طور پر اور پورے ملاکنڈ ڈویژن میں بالعموم ترقی کے نئے دور کاآغاز ہوگا۔ سڑکوں کی بہتری کے باعث سیاحوں کی اس پر کشش خطے کی طرف آمد میں اضافہ ہونے سے پورے علاقے کے عوام کو کاروبار روز گار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قدیم فاتحین کے اس قدیم و مختصر روٹ کی بحالی تاریخ و ثقافت کی بحالی کے مترادف ہے جس کا سہرا موجودہ صوبائی حکومت کے سر جاتا ہے۔ کسی صوبائی حکومت کی جانب سے موٹر وے کی تعمیر کو ممکن بنانا خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے۔ اس روٹ کے ساتھ ہی دیر چترال روڈ ‘ لواری ٹنل اور چترال بروغل تا گلگت اور ساتھ ہی جنوبی ایشیائی ریاستوں سے ملانے والی شاہراہ کی تعمیر کا منصوبہ سی پیک کے تناظر میں خاص طور پر اہم ہیں۔ ان منصوبوں پر عملی کام کا آغاز کردیاگیا ہے اور فنڈز مختص کئے گئے ہیں اس کی مزید اہمیت شاہراہ قرا قرم کی برفباری اور کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر معطلی کی صورت میں چترال سے متبادل سی پیک روٹ کا ہونا بین الاقوامی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ اگر موٹر وے کے سوات کاٹلنگ روٹ کی تکمیل کو اس عظیم منصوبے کے اولین مرحلے کی تکمیل و آغاز قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ صوبائی حکومت کے اس شاہراہ کی تعمیر سے ملاکنڈ ڈویژن میں سیاسی طور پر بھی حکمران جماعت کی عوامی حمایت میں اضافہ نا ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں