Daily Mashriq


مقابلہ بمقابلہ

مقابلہ بمقابلہ

پاکستان میں انتخابات نہیں ہوا کرتے سیاسی دنگل ہوتے ہیں، گویا انتخابات کے نا م پر سیاسی دنگل کا فائنل کھیلا جاتا ہے۔ ہار جیت کو امپائر کی انگلی کا اشارہ قرار دے دیا جاتا ہے، اپنے کرتوت پر نظر نہیں پڑتی، ان دنوں ایسا ہی ماحول بنا ہوا ہے چنانچہ برخوردار بلاول، حسین مزاج آصف زرداری، پیر فرتوت نہیں شاید غلط ہو گیا پیر رعنا عمران خان، سندیافتہ مرتاض نواز شریف سب ہی ایک دوسرے کا شجرہ نسب ہی کھنگال رہے ہیں مگر ایسے میں پیر رعنا عمران خان نے تو سب کو مات دے ہی دی۔ انہوں نے سو سال کا پارٹی وژن نہیں بلکہ سو دن کا دے دیا ہے، گزشتہ انتخاب کے موقعہ پر ان کا وژن نوے دن کا تھا اب اگلے پانچ برسوں کیلئے یہ دن لمبے ہو کر سو کی شکل اختیار کر گئے ہیں، یہ خوشی کی بات ہے کہ انہوں نے ایک انتخابی منشور تو دیا باقی جماعتیں تو اس معاملے میں ٹھس نظر آرہی ہیں، عمرانی منشور یا پورے سو دن کا وژن کیا ہے۔

مختصر ترین الفاظ میں یہ ہے کہ وہ پورے ملک کی تقدیر سو دن میں بدل کر رکھ دیں گے۔ ان کا فرمانا ہے کہ 2013 میں ان کا تجربہ ناقص تھا یہ تسلیم کرنے کیساتھ ہی یہ دعویٰ کیا ہے کہ اب ایسا نہیں ہے وہ ملک کا مقدر کیسے بدلیں گے اس کا وژن یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں عوام میں نوکریاں بانٹ دیں گے۔ یہ بات صادق لگتی ہے کیونکہ جب وہ برسر اقتدار ہوںگے تو کوئی دھرنا وغیرہ تو ہوگا نہیں چنانچہ اس امن کے دور میں نوکریاں ہی نوکریاں بانسوں کی طرح اگ آئیں گی جس سے مستفید ہوا جائے گا۔ جس طرح انہوں نے قابل فخر کارنامہ کے پی کے میں انجام دیا ہے کہ صوبے کو تو نہ بدل پائے البتہ پولیس کو بدل ڈالا ہے یعنی اسے غیر سیاسی بنا دیا ہے۔ اسی طرح پورے ملک کی پولیس کو غیر سیاسی بنا دیں گے جبکہ عوام کا مسئلہ پولیس کے سیاسی یا غیر سیاسی ہونے کا کبھی نہ رہا بلکہ پولیس کا ماورائے قانون وانصاف رویہ درد سر رہا ہے جو آج بھی ہے۔

خیر ان باتوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو اس وقت ملک کی تین جماعتوں کو سب سے بڑی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے ان میں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پی پی پی شامل ہیں اور تینوں جماعتیں ابھی تک اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں اور آئندہ انتخابات میں ان کا اقتدار ہی کارکردگی کا مصفا آئینہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ ادھر پی ٹی آئی کا سو دن کا وژن سامنے آیا ادھر ساتھ ہی کارکردگی تھالی میں پیش ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے پاکستان نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ عیاں کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ترقی کے لحاظ سے کے پی کے جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے ہے۔

یہ آئینہ ہے ان تینوں پارٹیوں کا، ہنوز عمران خان کی طرف سے یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس عالمی ادارے نے بھی دھاندلی کی ہے کیونکہ ترقی کی دوڑ میں میٹرو بس، گرین ٹرین کو پنجاب کی شناخت قرار دیا ہے جبکہ عمران خان کا موقف ہے کہ موٹر وے بنانے سے ترقی نہیں آتی بلکہ قوم بنانے سے ترقی آتی ہے، چنانچہ وہ گزشتہ پانچ سال کے پی کے میں قوم بنانے میں مصروف رہے جس کی وجہ سے وہ جنگلہ بس نہ بنا پائے ہیں مگر کوشش ہے کہ حکومت چھوٹ جانے سے پہلے اس کا چند فٹ کا ہی سہی افتتاح ان کی پارٹی کے ذریعے ہو جائے کہ یہ ثابت ہو جائے کہ ترقی موٹر وے سے نہیں بلکہ جنگلہ بس کے ذریعے ہوتی ہے یا پھر سوات ایکسپریس وے کے ذریعے ہوتی ہے مگر سیاسی مخالفین سوات ایکسپریس وے کو بھی مو ٹر وے نہیں قرار دے رہے ہیں۔

قوم بنانے کیلئے پی ٹی آئی کی حکومت نے بے لاگ اور بے باک احتساب بیورو قائم کیا تھا اب ان کے سو دن کے انقلاب میں بھی ایسا ہی احتساب بیورو قائم کرنے کا عزم ہے جس کی وجہ سے شریفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے تاہم وہ مطمئن نظر آرہے ہیں کیونکہ پانچ سال میں تحریک نے اپنے ایک وزیر کا احتساب کیا ہے اس کے بعد احتساب بیورو کو بے باپ کر دیا تاکہ بے باک احتساب ہو یعنی احتساب فائلیں ڈائریکٹر جنرل کی عدم تقرری کا شکار ہو جائیں اور دھول میں اس قدر اٹ جائیں کہ حروف اپنی شناخت ہی کھو بیٹھیں۔ بہرحال مخالفین کی زبان بندی نہیں ہو سکتی لیکن یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کے پی کے میں حکومت بنانے کے روز سے بحرانوں سے دوچار رہی ہے۔ کے پی کے کو بحرانوں کا سامنا رہا ہے یہ حکومت کی سطح کا نہ تھا بلکہ پارٹی پالیسی کی وجہ سے تھا وہ جو کہتے ہیں کہ سر منڈھتے ہی اولے پڑے چنانچہ شروع ایام میں ہی اپنے ایک وزیر کی بدعنوانی کے حوالے سے گردن دبوچنا پڑی مگر اس دبوچا دبوچی میں جو پارٹی بحران پیدا ہوا اس کے بعد کسی کی گردن نہ دبوچی جا سکی۔ پھر 2018ء کے سینیٹ کے انتخابات نے پارٹی کی پاکیزگی کو ایسا آلودہ کیا کہ اب تک یہ فیصلہ نہ ہو پایا کہ بجٹ پیش کیا جائے یا نہیں جبکہ ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کرانے کا عزم ظاہر ہو رہا ہے لیکن وہ بھی اس طرح کہ میدان کھلے طور پر اپوزیشن کے حوالے کر دیا جائے اور بتایا جائے کہ پی ٹی آئی کے دور میں بھی صوبے کی مفاہمت کی اعلیٰ روایا ت کو برقرار رکھا گیا ہے۔

ان تمام حالات میں عالمی ادار ے کو ترقی کی رینکنگ کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے تھا یا کم ازکم رپورٹ میں ذکر کر دیا جاتا کہ بنیادی طور پر پی ٹی آئی کی عمدہ کارکردگی سے مجموعی طور پر کے پی کے میں ریکارڈ ترقی ہوئی ہے کیونکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے ازخود بحران پیدا نہیں کیا اپنی توجہ انسانی ترقی کی طرف ہی مرکوز رکھی جبکہ پی ٹی آئی کو احتساب کے حوالے سے لے کر سینیٹ کے حوالے تک پارٹی بحرانوں کا سامنا رہا لیکن یہ بات تو ماننے والی ہے کہ اس ترقی کی دوڑ میں کے پی کے اپنے سے بڑے بھائی سندھ کے شانوں تک نہیں تو شانے کے قریب تک تو کھڑ ا ہے۔

متعلقہ خبریں