Daily Mashriq


خلائی مخلوق

خلائی مخلوق

لوگ اس کی شرافت کے گن گایا کرتے تھے۔ جب اس نے قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ لگایا تو سہاگنوں نے اپنے زیور تک اتار کر اس کی جھولی میں ڈال دئیے۔ کنجوسوں نے اپنی تجوریاں اس کے نام کر دیں، بیواؤں نے اپنے یتیموں کا ترکہ اس کی زنبیل میں ڈال دیا، بزرگوں نے اپنے گور و کفن کیلئے پس انداز کئے ہوئے توشے اس کے حوالے کر دئیے۔ یہ سب جذبے تھے اس حب الوطنی کے جس نے ملک کے اندر اور ملک سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کو ایسا کرنے پر کیا اور وہ کرگزرے۔ وہ مر مٹے اس کے اس جملے پر جس میں اس نے کچکول کو توڑ دینے کی سلطان راہی برانڈ پنجابیت بھری بڑھک ماری تھی۔ مگر آہ کہ نہ وہ کچکول ٹوٹا، نہ قرض اترا اور نہ ہی ملک سنور سکا بلکہ پاکستان کا بچہ بچہ جرم ناکردہ کی پاداش میں قرضوں کی منوں مٹی کے بوجھ تلے دبتا، دبتا اور دبتا رہ گیا۔ اس نے کہا تھا کہ اے لوگو جب تم ہنڈیا پکاؤ تو گھی کا ایک آدھ چمچ کم ڈالو اپنی ہنڈیا میں اور جمع کرادو یہ رقم ملکی خزانے میں۔ اس کی یہ بات سن کر ہمیں 1965 کی پاک بھارت جنگ یاد آگئی جب پاکستان کے عوام نے ایک ٹیڈی پیسہ فی ٹینک کے حساب سے افواج پاکستان کو جانے کتنے ٹینک خرید کر دئیے تھے۔ سو ہم نے بھی گھر والوں کو ایک کی بجائے دو چمچ کم گھی کی ہنڈیا پکانے کا مشورہ دے دیا تھا۔ ادھر ملک کے عوام ملک کو بنانے اور سنوارنے کی آرزو میں نگار وطن پر اپنی جمع پونجی نچھاور کرتے رہے اور ادھر منی لانڈرنگ کے ذریعے لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک منتقل ہوتی رہی۔ ارشاد گرامی ہے کہ میں تین بار وزیراعظم بنا ہوں۔ ہمیں تو اس کا آئینہ ہوتا چہرہ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے کہہ رہے ہوں، میں نے تین بار جھانسہ دیا ہے پاکستان بھر کے عوام کو۔ فرماتے ہیں مجھے پاکستان کے کروڑہا لوگوں نے ووٹ دے کر منتخب کیا اور مکھن سے بال کی طرح نکال باہر پھینکا ہے صرف پانچ بندوں نے۔ ارے صاحب، یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ آپ کو پاکستان کے کروڑہا افراد نے دل کی دھڑکنوں کا ترجمان مان کر منتخب کیا، لیکن یہ بھی تو جھوٹ نہیں کہ آپ نے ان کے اعتماد کو کتنا ٹھیس پہنچایا،

اک گزارش ہے حضرت ناصح

آپ اب اور کوئی کام کریں

کے مصداق ہم آں جناب سے دست بستہ عرض گزار ہیں کہ خدا کیلئے آپ اسے پانچ بندوں کا فیصلہ مت کہیں آپ اسے پاکستان کے آئین اور اس کے قانون کی بالادستی سمجھیں اور اس کا دل وجان سے احترام کریں۔ آپ تو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے قانون کو اور آپ تو بھول ہی بیٹھے تھے کہ کتنے لمبے ہوتے ہیں قانون کے ہاتھ، کتنی طاقت ہوتی ہے قانون دانوں کے ہاتھ میں پکڑی قلم کی۔ آپ عمر بھر اپنے خاندان کے شریفوں کو نواز کر نواز شریف ہونے کے معنی ومفہوم واضح کرتے رہے۔ نظر آجانا چاہئے آپ کے ہر اس ووٹر کو آپ کا خوبصورت چہرہ جن کے ووٹوں کے بل بوتے پر آپ کرسی اقتدار پر براجمان ہونے کے باوجو قانون ساز اسمبلی میں حاضر رہنے کو کسر شان سمجھتے رہے۔ بہت اونچا اڑنے لگے تھے نا آپ اس پاک وطن کی مٹی سے بنی زمین سے۔ زمین پر تو پاؤں ہی ٹک نہیں پارہے تھے آپ کے۔ جس کشتی کا مانجھی بنایا آپ کو اس میں چھید؟ جس باغ کا مالی چنا اس باغ کی تاراجی؟ کیوں برا منانے لگے آپ پاک سر زمین کی حفاظت کرنے والی افواج کا۔ خوب نبھایا ہے آپ نے کروڑہا عوام سے کیا ہوا عہد وفا۔ اصل میں یہ جو الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہو نا، اس میں آپ کا قصور ہو نہ ہو آپ کی عمر کا دوش ضرور ہے۔ ساٹھ برس کی عمر کو پہنچتا ہے نا جو، بے چارا سٹھیا جاتا ہے۔ سول سرونٹ رولز کے مطابق ایسے بندے کو کام کاج کے قابل نہ سمجھ کر ریٹائرڈ کر دیا جاتا ہے۔کیا ملک کی دولت لوٹنے کا الزام کم تھا جو پاک وطن سے غداری کا الزام بھی سر لے لیا۔ بیتاب عظیم آبادی نے شاید یہ بات آپ جیسے شریفوں ہی کیلئے کہی تھی کہ

کتنے الزام آخر اپنے سر

تم نے غیروں کے سر چڑھا کیلئے

آپ 2009 میں ہوئے تھے ساٹھ برس کے، اب کے برس آپ 69 برس کے ہو گئے ہیں۔ چند مہینے بعد لوگ یہ کہنا چھوڑ دیں گے کہ آپ سٹھیا گئے ہو۔ اب تو لوگ یہ کہنا شروع کردیں گے کہ’ اسے دیکھو ٹانگیں قبر میں لٹکائے بیٹھا ہے اور باتیں کیسی کر رہا ہے کیونکہ قانون اور انصاف کی دھجیاں اڑانے والی لن ترانیوں کے بعد اب آپ جناب نے ملک میں خلائی مخلوق کے اتر آنے کی باتیں شروع کر دیں ہیں۔ ہم خلائی مخلوق کے امریکہ میں اترنے کے چرچے سنتے آرہے ہیں۔ آج کل اسے ٹرمپ کے رویوں کا طرفہ تماشا کرنے امریکہ ہی میں اترنا چاہئے تھا

کبھی کبھی عرض غم کی خاطر ہم اک بہانہ بھی چاہتے ہیں

جب آنسوؤں سے بھری ہوں آنکھیں مسکرانا بھی چاہتے ہیں

لیکن پاکستان اور اس کی عوام کا تین برس تک استحصال کرنے والے وزیراعظم اور اس کے حواریوں کے بیانات کا لب ولہجہ دیکھ کر یوں لگ رہا ہے جیسے خلاء والوں کو اب کی بار امریکہ کا دورہ منسوخ کرکے پاکستان کا رخ کرنا پڑا۔ اگر یہ بات سچ ہے تو ہماری دعا ہے کہ اللہ کرے کہ خلائی مخلوق کا یہ مطالعاتی دورہ پاکستان اور اہالیان پاکستان کیلئے نیک شگون ثابت ہو۔

کس منہ سے ہاتھ اُٹھائیں فلک کی طرف ظہیرؔ

مایوس ہے اثر سے دعا اور دعا سے ہم

متعلقہ خبریں