Daily Mashriq


غداری کی تہمت

غداری کی تہمت

حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست سماعت کیلئے منظور کی جس میں نواز شریف کیخلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی استدعا کی گئی ہے۔ دوسری جانب جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے نواز شریف کیخلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی دائر درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی ہیں۔ درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی کہ روزنامہ ڈان کو دیئے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان دینے پر نواز شریف غداری کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔ تاہم عدالت نے درخواست گزاروں کو متعلقہ حکومتی اداروں سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ متعلقہ ادارے کون سے ہیں اور ایسی عدالتی درخواستیں قابل سماعت کیوں نہیں تھیں؟ اس کو سمجھنے کیلئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آئین پاکستان کی نظر میں غداری کیا اور غدار کون ہوتا ہے۔ غداری کا تعین کرنے اور غدار کیخلاف کارروائی کا آغاز کرنے کا حق آئین کس کو دیتا ہے؟ پھر یہ کارروائی کیسے ہوتی ہے؟ اس کی مثالیں موجود ہیں۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل چھ کہتا ہے کہ ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے دستور پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔ یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد سامنے آئی ہے۔ ماہرِ قانون ایس ایم ظفر کے مطابق غداری کا لفظ پہلی مرتبہ 1973 کے آئین میں استعمال ہوا۔ تاہم اس وقت دیئے جانے والے غداری کے تصور میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد تبدیلی آئی جو اضافہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ آئین کو معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرنے والا شخص یا ایسے شخص کی امداد کرنے والا شخص غدار ہوگا۔ ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والا شخص آئین کے مطابق غداری کی تعریف کے اندر نہیں آتا۔ وہ قومی سلامتی کے زمرے میں آتا ہے جس کی کئی ذیلی دفعات ہو سکتی ہیں۔ ان میںفوج میں بغاوت کی ترغیب دینا، امن عامہ کی صورتحال پیدا کرنا اور دشمن ملک کیساتھ مل کر سازش کرنا شامل ہیں، اس پر آئین کا آرٹیکل 6 نہیں لگ سکتا، جب تک کہ یہ تمام چیزیں اس مقام تک نہ پہنچ جائیں کہ آئین کو منسوخ کر رہی ہوں۔ ماہرِ قانون بابر ستار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غداری کے آئینی تصور کا تعلق آئینی معطلی سے ہے یعنی اگر آئین کو معطل یا منسوخ کیا جائے۔ اس کی تاریخ بھی یہی ہے کہ اس سے قبل کیونکہ فوجی حکومتیں آتی رہی تھیں تو 1973 کے آئین میں غداری کا تصور شامل کیا گیا۔ اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ کوئی عدالت غداری کے فعل کی تصدیق نہیں کرے گی۔ غداری کا یہ آئینی تصور انتہائی احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے اس لئے ہمارا جو اکثر یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر کسی ادارے کے خلاف کوئی بات کر دیں تو وہ غداری کے زمرے میں آ جائے گا، میرا نہیں خیال کہ یہ بات درست ہے۔ بابر ستار نے غداری کے مقدمے کی کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ 1973 کے آئین میں غداری کا تصور شامل کرنے کے بعد ایک قانون بنایا گیا جس میں یہ کہا گیا کہ وفاقی حکومت یہ فیصلہ کرے گی کہ کوئی غداری کا مرتکب ٹھہرا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد ایک خصوصی عدالت تشکیل دی جائے گی جو اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی کا آغاز کرے گی۔ ان کے مطابق جیسا کہ ہم نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ میں دیکھا۔ ایک زمانے میں نیشنل عوامی پارٹی(نیپ) اور بعض دیگر قوم پرست جماعتوں کے لیڈروں کو غدار قرار دے کر ان کے خلاف مقدمات چلائے جاتے تھے۔ جن فوجی حکومتوں کے دور میں یہ مقدمات قائم کئے گئے انہیں خود بھی اس بات کا علم ہوتا تھا کہ یہ لوگ غدار نہیں ہیں لیکن چونکہ مخالفین کو ذلیل کرنا مقصود ہوتا تھا اس لئے اس طرح کے مقدمات قائم کئے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ عظیم شاعر فیض احمد فیض پر بھی غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا حالانکہ وہ وطن کی محبت میں سرشار ایک ایسا شاعر تھا جس نے صرف آمریت کے خلاف بولنے کا جرم کیا تھا۔اگر اس کا غداری کا ٹریک ریکارڈ ہوتا تو کیا اسے پختونخوا میں حکومت بنانے اور سیاست کرنے کی اجازت دی جاتی؟ نواز شریف پر بھی غداری کی تہمت لگانا پرلے درجے کی ناانصافی ہے۔ وہ تیس سال سے اقتدار میں ہے۔ ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں ان کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے جو موٹر وے بنائی اس کا ایک پہلو تو عوامی ہے جبکہ ایک دفاعی۔ عام طور پر جنگوں کے دوران ائیر پورٹس تباہ کر دئیے جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں موٹرویز جنگی جہازوں کی ہنگامی لینڈنگ میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ گویا کبھی بھارت کیساتھ جنگ ہوئی تو نواز شریف کی بنائی ہوئی موٹرویز پاکستان کے دفاع میں اہم اور مؤثر کردار ادا کریں گی۔ وہ غدار ہوتا تو کیا چائنہ کیساتھ سی پیک معاہدہ کر کے پاکستان کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی کوشش کرتا؟ پاکستان میں سیاست کرنے والا کوئی بھی لیڈر غدار نہیں ہے اس لئے کسی پر بھی غداری کی تہمت نہ لگائی جائے کیونکہ تہمت لگانے والے کیلئے اللہ کی پکڑ ہے۔

متعلقہ خبریں