Daily Mashriq

جوتا دکھائی‘ باردانہ اور نصیحت

جوتا دکھائی‘ باردانہ اور نصیحت

اسمبلیوں پر محاورے کی زبان میں نزع کا عالم ہے یعنی چل چلاؤ کی کیفیت سے دو چار یہ اسمبلیاں بس چند روز کی مہمان ہیں لیکن بدقسمتی سے ان میں سے سکون غائب دکھائی دیتا ہے۔ کے پی اسمبلی میں سپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی بازگشت کے حوالے سے اجلاس کے انعقاد پر گومگو کی کیفیت طاری ہے۔ اب ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں مگر اجلاس ہوگا یا نہیں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بلوچستان اسمبلی کی مشیر خزانہ رقیہ ہاشمی نے بعض ارکان کے ناروا روئیے کیخلاف استعفیٰ دے دیا۔ پنجاب اسمبلی میں بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ ایک اخباری انٹرویو اور ازاں بعد انٹرویو کے مندرجات پر ڈٹے رہنے کے بیان پر اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کر رکھا ہے جبکہ سندھ اسمبلی میں ایک بار پھر محاورے کے مطابق جوتیوں میں دال بٹنے کی سی کیفیت نے جنم لیا ہے اور مسئلہ اس وقت کھڑا ہوا جب مسلم لیگ فنکشنل کی رکن نصرت سحر عباسی نے ’’منہ دکھلائی‘‘ کے طرز پر ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کو جوتا دکھا دیا۔ اس پر ہنگامہ آرائی ہوئی‘ ڈپٹی سپیکر جو اس وقت اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں نے طیش میں آکر سحر عباسی کو باہر نکلوا دیا اور ان کی جماعت سے کہا کہ وہ سحر عباسی کو تمیز سکھائیں بلکہ یہ بھی کہا کہ انہیں آئندہ ٹکٹ نہ دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نصرت سحر عباسی ایوان میں شور شرابا کرتی ہیں اور یہ نہیں بتاتیں کہ انہوں نے پیپلز پارٹی سے کتنے فائدے لئے۔ پی پی کے ممتاز جاکھرانی نے تقریر میں الزام لگایا کہ نصرت سحر نے گیان چند سے باردانے کی بوریاں لیں‘ وہ پی پی کا کھا کر بھی الزام لگاتی ہیں۔ اس پر نصرت سحر عباسی طیش میں آگئیں اور شور شرابا شروع کر دیا۔ اس ساری صورتحال پر اگرچہ ہمیں اردو زبان کے کئی محاورے اور روزمرہ جو جوتیوں ہی کے حوالے سے یاد آئے تاہم جب تک نصرت سحر عباسی اپنی اس حرکت کی وضاحت نہیں کرتیں تب تک کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ جوتا اٹھا کر دکھانے سے ان کا مطلب کیا تھا۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت ان کے پہنے ہوئے جوتے انہیں تنگ کر رہے ہوں یعنی اکثر ہو جاتا ہے نا کہ جوتا تنگ ہو تو بندے کو پائوں میں تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور وہ پاؤں اٹھا کر جوتے کا تسمہ ایک درجہ کھول کر اس درد سے نجات کی کوشش کرتا ہے۔ سو ایسے میں نصرت سحر عباسی کی ’’نیت پہ شک‘‘ کی گنجائش نہیں رہتی۔ ویسے ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کو شکر اداکرنا چاہئے کہ نصرت سحر عباسی نے اپنا جوتا اتار کر ان کی جانب پھینک نہیں دیا تھا کیونکہ اب تو دنیا بھر میں جوتے پھینکنے کے واقعات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں اور پاکستان میں تو صحافتی حلقوں نے اس کیلئے ایک ترکیب بھی ڈھونڈ نکالی ہے یعنی ’’جوتا کلب‘‘ اور جس پر جوتا پھینک دیا جاتا ہے اسے جوتا کلب کا ممبر قرار دیا جاتا ہے البتہ تازہ واقعہ یہ ضرور بتاتا ہے کہ سندھ اسمبلی کے بعض ممبران کے بیچ جوتیوں میں دال بٹنے پر ہی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے کیونکہ ایک طرف تو پورے ملک میں بے چارے غریب کاشتکاروں کو باردانہ ملنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے اور متعلقہ حکام انہیں ضرورت کے مطابق بوریاں فراہم ہی نہیں کرتے تاکہ وہ پیداوار ان میں بھر کر سرکاری گوداموں تک پہنچا کر حق محنت وصول کرسکیں جبکہ باردانہ کی کمی کی وجہ سے ان کی پیداوار یا تو موسم کے شدائد سے متاثر ہو کر ناکارہ ہو جاتی ہے یا پھر یہ بے چارے انہیں نہایت سستے داموں آڑھتیوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔ مگر دوسری جانب عوام کی نمائندگی کا دم بھرنے والے حکومتی مراعات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باردانہ اتنی آسانی سے حاصل کرلیتے ہیں۔ تاہم تف ہے ان لوگوں پر جو اسمبلیوں میں پہنچ کر نہ صرف مراعات لیتے بھی ہیں اور مراعات ریوڑیوں کی طرح بانٹتے بھی ہیں جبکہ عوام محرومیوں سے دو چار رہتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ ڈپٹی سپیکر شہلا رضا نے مسلم لیگ فنکشنل کو نصرت سحر عباسی کو تمیز سکھانے کا جو مشورہ دیا ہے اس پر فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر صاحب پگاڑہ کس حد تک لبیک کہتے ہیں۔ البتہ اس موقع پر ہمیں مشہور ادیب اشفاق احمد کی ایک بات یاد آگئی ہے کہ جب جوتے شیشوں کی الماری میں رکھ کر سیل ہوں اور کتابیں فٹ پاتھ پر بکتی ہوں تو سمجھ لو کہ اس قوم کو علم نہیں جوتوں کی ضرورت ہے۔ جہاں تک خواتین کے جوتوں کی بات ہے تو بازار جا کر دیکھیں کہ بڑے بڑے شوکیسوں میں کتنی مہنگی قیمت کے جوتے سجے ہوئے ہیں جبکہ کتابوں کی حالت ناگفتہ بہ ہونے کی وجہ سے ہر اتوار کو مختلف شہروں میں کتاب میلوں کے نام پر ان کتابوں سے فٹ پاتھ بھرے ہوتے ہیں چونکہ تمیز انہی کتابوں کے اندر موجود ہوتی ہے مگر ان کو پڑھنے والے ہیں ہی کتنے۔ اسلئے معاشرے میں تمیز کی کمی کا رجحان ہے اور بات جوتوں کی قیمتوں سے ہوتے ہوئے جوتے دکھانے پر پہنچ چکی ہے۔ ممکن ہے سندھ اسمبلی کی خاتون رکن نے جوتا نیا نیا خریدا ہو اور وہ اس جوتے کی نمائش کرکے ڈپٹی سپیکر کو یہ سمجھانا چاہتی ہوں کہ میرے پاس اتنا قیمتی جوتا ہے تم کب خرید رہی ہو؟ جسے ڈپٹی سپیکر نے ’’غلط معنی‘‘ پہنا دئیے ہوں اور انہیں ایوان سے باہر نکال دیا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ نصرت سحر عباسی نے بھی یہ سوچ لیا ہو کہ ایوان سے باہر نکال کر آپ نے کونسا ’’تیر‘‘ مار لیا ہے کیونکہ اب اس اسمبلی کی مدت ہی کتنی رہ گئی ہے جو مجھے کوئی فرق لاحق ہو، تاہم اُمید ہے کہ اگلے ہی اجلاس میں نصرت سحر عباسی یہ سوچ کر واپس چلی آئیں کہ

شاید مجھے نکال کے پچھتا ’’رہی‘‘ ہوں آپ

محفل میں اس خیال سے پھر ’’آگئی‘‘ ہوں میں

متعلقہ خبریں