Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

شیخ عزالدین بن عبدالسلامؒ عید کے روز قصر شاہی کی طرف نکلے۔ دیکھا کہ وہاں سپاہیوںکی جماعت بادشاہ نجم الدین کے آگے صف بندی کئے ہوئے ہے اور خود سلطان آرائش وزیبائش سے آراستہ و پیراستہ ہو کر اپنی قوم کی زینت بنا ہوا ہے اور امرا زمین کو بوسہ دے رہے ہیں۔

شیخ عزالدین نے بلند آواز دی۔ اے ایوب! جب خدا تعالیٰ تم سے پوچھے گا کہ ملک مصر میں ہم نے تمہاری حکومت مستحکم کی تھی اور تم شراب کی خرید وفروخت میں حصہ لیتے تھے اس وقت تمہارا کیا جواب ہوگا؟

سلطان: کیا ایسا ہو رہا ہے؟

شیخ: ہاں‘ فلاں سرائے میں شراب بیچی جاتی ہے اور اس کے علاوہ دوسرے منکرات کا بھی ارتکاب کیا جاتا ہے لیکن تم ہو کہ اس ملک میں ناز ونعم کے مزے لے رہے ہو؟

سلطان: اے میرے سردار! یہ بازار میں نے نہیں گرم کر رکھا اور نہ اس کا آغاز میرے دور حکومت میں ہوا ہے بلکہ یہ تو میرے والد کے زمانے ہی سے چلا آرہا ہے۔

شیخ: کیا تو بھی ان ہی لوگوں میں سے ہے جنہوں نے کہا تھا: ’’ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راہ پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں۔‘‘ (الزخرف 23:)

چنانچہ سلطان نے فی الفور اس سرائے کو جلانے کا حکم دیا۔ جب شیخ عزالدین بن عبدالسلام لوٹ کر مدرسے آئے تو ان کے ایک شاگرد نے پوچھا: اُستاد محترم! آپ نے ایسا کیوں کیا جبکہ آپ کیلئے اس کو صرف نصیحت کر دینا ہی کافی تھا۔

شیخ نے جواب دیا : اے میرے عزیز! میں نے سلطان کو جب اس عظمت کیساتھ نکلتے دیکھا تو میں نے اس کی توہین کرنا چاہی تاکہ وہ اپنے آپ کو تکبر وغرور میں مبتلا نہ کرے جس سے بعد میں اسے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔

شاگرد نے پوچھا: اُستاد محترم! آپ کو اس سے خوف محسوس نہیں ہوا؟شیخ نے جواب دیا:

’’میں نے سلطان سے مخاطب ہوتے وقت خدا تعالیٰ کی ہیبت وجلال کو اپنے سامنے رکھ لیا‘ چنانچہ سلطان میری نظر میں بلے جیسا ہوگیا!‘‘ (تاریخ اسلام از اکبر شاہ خاں نجیب آبادی ج 2 ص419)

شیخ عزالدین بن عبدالسلامؒ کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ دمشق میں ایک مرتبہ سخت قحط پڑا۔ ان کی بیوی نے ان کو کچھ روپے دئیے اور فرمایا کہ اس سے کوئی باغ خرید لیجئے! شیخ نے وہ روپے لئے لیکن باغ خریدنے کے بجائے ان روپوں کا غلہ خرید کر عوام میں تقسیم کردیا۔

جب گھر تشریف لائے تو بیوی نے دریافت کیا کہ باغ خرید لیا یا ابھی نہیں؟ شیخ نے فرمایا: ہاں باغ تو خرید لیا ہے لیکن اس کے پھل اس دنیا میں نہیں بلکہ جنت میں ملیں گے۔ پاکباز بیوی سارا راز جان گئی اور خوشی کا اظہار فرمایا (کچھ دیر اہل حق کیساتھ‘50)

متعلقہ خبریں