Daily Mashriq


شرح سود میں اضافہ مزید مہنگائی کا خطرہ

شرح سود میں اضافہ مزید مہنگائی کا خطرہ

بینک دولت پاکستان کی جانب سے آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد شرح سود میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جو اب ڈیڑھ فیصد کے اضافے کیساتھ12.25فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ جنوری2018 میں یہ شرح 6فیصد تھی۔ جولائی2018میں عام انتخابات کے بعد بھی یہ شرح سات فیصد سے کم متعین کی گئی تھی۔ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے شرحِ سود میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت ملک کے اندر سے بھی ادھار لیتی ہے، ملک کے باہر سے بھی اور آئی ایم ایف سے بھی۔ حکومت کی جانب سے شرح سود کو بڑھانے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ حکومت ملکی بینکوں سے مزید قرض لینے کی خواہاں ہے تاکہ مختلف بینک، کارپوریٹس اور لوگ حکومت کو یہ پیسہ دینے میں اپنا زیادہ منافع دیکھیں۔ ایسا کرنے سے حکومت کے پاس وقتی طور پر پیسے جمع ہو جائیں گے لیکن اس پالیسی کے اثرات اچھے ثابت نہیں ہوتے اور پاکستان کی حکومت کو تو اس گھن چکر سے نجات ہی نہیں ملتی تاہم حالیہ نو ماہ میں قرضوں اور شرح سود میں اضافہ خاصا تشویشناک اس لئے ہے کہ یہ ایک نہ رکھنے والا سلسلہ بن گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سال پاکستان کا مالیاتی خسارہ7.5فیصد تک بھی جا سکتا ہے جس کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو مزید پیسوں کی ضرورت ہوگی۔ شرح سود میں اضافہ کی منطق یہ ہے کہ جب لوگوں کو زیادہ شرح سود ملے گا تو وہ بینک میں پیسے جمع کرنے پر راغب ہوں گے اور وہ خرچ پر بچت کو ترجیح دینے لگیں گے جس کی وجہ سے ان کا شدید مہنگی درآمد شدہ اشیا پر بھی خرچہ کم ہوگا۔ اس طریقۂ کار سے درآمد وبرآمد کے توازن میں بہتری بھی لائی جا سکتی ہے، لیکن یہ یقینی اور ضروری نہیں بلکہ ایک امکان ہی ہوتا ہے۔ معاشی طور پر ایک فیصلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ غیرملکی کرنسی کے ذخائر بڑھا کر گرتے ہوئے روپے کو سہارا دیا جائے شرح سود بڑھنے کا اثر قومی مجموعی پیداوار میں کمی کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ اس پالیسی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس سے چھوٹے اور درمیانے سطح کے کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ بڑھتی ہوئی شرح سود کے باعث ان کیلئے ادھار لینا بھی مشکل ہو جائے گا۔ جاری حالات میں حکومت کے پاس اس طرح کے اقدامات کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اسی پر اکتفا نہیں کرے گی اور بینکوں سے ادھار لینا اور قرضے واپسی کی یہ صورت برقرار رہے گی۔ آئندہ بجٹ میں ٹیکسز میں رد وبدل، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ اضافہ اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران شرح نمو سست رہے گی زراعت اور صنعت کے شعبوں میں سست روی معاشی سست روی کی اہم وجوہات ہیں۔ ملک کے معاشی حالات اور مالیاتی پالیسیوں کے باعث عام آدمی کی مشکلات، روزگار کے مواقع چھن جانے اور بیروزگاری کی شرح میں اضافہ دراضافہ تشویشناک صورتحال بنتی جارہی ہے۔ اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت نہ صرف اس مسئلے پر قابو پانے میں ناکامی کا شکار ہے بلکہ مزید حکومتی اقدامات کا بوجھ عوام کی خمیدہ کمر پر لادنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ حکومت آئی ایم ایف کی شرط پوری کرتے ہوئے مختلف مدات میں دی گئی سبسڈی ختم کرنے جا رہی ہے جس سے عام آدمی متاثر ہوگا۔ سبسڈی ختم کرنے پر آٹا مہنگا ہونے، بجلی اور گیس کے بلوں میں مزید درمزید اضافہ، محصولات اور اخراجات میں اور اضافہ کی صورت میں متاثر ہوگا۔ گیس اور بجلی کے بلوں سے براہ راست متاثر ہونے والے چھوٹے کاروبار، جیسے ہوٹلنگ کیلئے حالات اور بھی بدتر ہوتے جائیں گے۔ ان میں سے کچھ مجبوری کے تحت پہلے سے غیررسمی شعبے میں موجود مزدوروں اور بیروں کی تعداد میں کمی کر کے بیروزگاری میں اضافہ کر رہے ہیں، یہ رجحان بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ خود مرکزی بینک کے اعلامئے کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں خوراک، ایندھن اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں کافی اضافہ ہوا۔ زیادہ خطرے کی بات بینک کی جانب سے آئندہ سال مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کی پیشگوئی ہے۔ رواں مالی سال مجموعی ملکی پیداوار کی نمو کم ہوکر3.29فیصد پر آچکی ہے۔ اس سال بنیادی شعبوں زراعت، مینوفکچرنگ اور تعمیرات کی کارکردگی زیادہ بہتر نہیں رہی۔ صرف گندم کی پیداوار قدرے بہتر رہی۔ روپے کی قدر میں باربار کمی آئی، فی کس آمدن کم ہوئی اور ڈالر کے اعتبار سے قومی معیشت سکڑ گئی، سرمایہ کاری میں منفی رجحان سامنے آیا جبکہ قومی بچت اور برآمدات بھی کم ہوئیں۔ پاکستان کے قرضوں کا حجم بھی بڑھا ہے۔ عام اشارے یہی ہیں کہ اس صورتحال نے مہنگائی کیساتھ ساتھ کاروباری طبقے کے خدشات اور ملک میں بیروزگاری میں اضافہ کیا ہے۔ حکومت کیلئے معاشی مسائل کیساتھ ساتھ سیاسی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جن پر قابو نہ پایا گیا تو حکومت دوہری مشکلات سے دوچار ہوگی۔

متعلقہ خبریں