Daily Mashriq

بلوچستان کے بعد گلگت بلتستان سے را کے نیٹ ورک کا خاتمہ

بلوچستان کے بعد گلگت بلتستان سے را کے نیٹ ورک کا خاتمہ

بلوچستان سے کلبھوشن نیٹ ورک کا صفایا کرنے کے بعد گلگت بلتستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا نیٹ ورک پکڑنے کا جو کارنامہ ہماری ایجنسیوں نے انجام دیا ہے وہ کتنے عرصے سے متحرک تھا اس کا تو صحیح علم اس کی بیخ کنی کرنے والوں ہی کو ہوگا البتہ اس علاقے میں ایک دہائی قبل سے اس قسم کی سرگرمیوں کی اطلاعات بہرحال تھیں، علاوہ ازیں گلگت بلتستان اور چترال میں بھی زیرزمین عناصر کی سرگرمیوں بارے خدشات کا اظہار ہوتا رہا ہے۔ ان حساس علاقوں میں اس قسم کے عناصرکی موجودگی اور سازشیں اچھنبے کی بات اسلئے نہیں کہ گلگت کے راستے چین سے تجارت اور آمد ورفت دشمنوں کو کٹھکتا ہے جبکہ چترال شندور گلگت روڈ سی پیک کا متبادل روٹ بن رہا ہے جس پر کام جاری ہے اسلئے اس پورے خطے میں دشمنوں کا جال پھیلانے کے پس پردہ مقاصد واضح ہیں۔ جن عناصر کو بے نقاب کیا گیا ہے ان عناصر کی سازش کا ایک حصہ علیحدگی پسندی کو فروغ دینا ہے جبکہ دوسرے عناصر کی منصوبہ بندی ان سے قدرے مختلف ہے۔ چترال، گلگت بلتستان اور ان سرحدی علاقوںکے عوام سے واقفیت رکھنے والے لوگوں کو بخوبی اس بات کا علم ہے کہ ان علاقوں کے لوگ حد درجہ محب وطن اور ملک وقوم پر جان نثار کرنے والے ہیں جس کا مظاہرہ عملی طور پر سب کے سامنے ہے۔ یہ خطہ ایسے سنگلاخ چٹانوں کے باسیوں کی وہ سرزمین ہے جس میں ملک دشمنوں اور سازشیوں کی جانب سے جس محنت سے بھی بیج بویا جائے یہاں حب الوطنی ہی کا بویا بیج ثمربار رہے گا۔ گلگت کے بعض علاقوں میں شیعہ سنی فسادات کی بھی سازش ہو چکی ہے جبکہ چترال میں سنی اور آغاخانی فرقے کے درمیان بھی نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی لیکن جیسے ہی لوگوں کو اس سے سازش کی بو آئی سازشی عناصر اپنی موت آپ مرگئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس خطے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان علاقوں میں حکومتی اداروں کو مزید فعالیت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مقام اطمینان یہ ہے کہ جو عناصر ملک سے باہر جاکر دشمنوں کے ہاتھوں کھیل رہے تھے ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آچکا جس کے بعد روایتی معاشرے میں ان عناصر اور ان کے ہمدردوں کو سوائے دھتکارنے کے اور کچھ نہیں ملے گا۔

قبرستان مافیا پر ہاتھ کون ڈالے؟

پشاور میں قبرستانوں کیلئے وقف اراضی قبضہ مافیا کی چائنہ کٹنگ کی نذر ہونا کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی اس اقدام پر انتظامیہ محکمۂ مال بالخصوص اور حکومت کا بالعموم ہاتھی کے کان میں سونا کوئی باعث تعجب امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں قبرستانوں کیلئے وقف 27ہزار کنال اراضی میں سے 12ہزار کنال سے زائد اراضی سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں، مارکیٹ، دکانوں، ٹیوب ویلوں اور رہائشی کالونیوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ رحمن بابا، ارباب لنڈی، باباجی قبرستان ماشو گگر، ہزار خوانی، بابا صاحب، پرانا قبرستان شیخ محمدی، غمبت بابا قبرستان اضاخیل، بڈھ بیر قبرستان، تہکال بالا، ڈاگ، شاہ ڈھنڈ، پلوسئی تلرزئی، چہل غازی، ملاکنڈھیر، زورمنڈی، بیلا برآمند خیل، ریگی للمہ، چمکنی، بڈھ بیر مریم زئی، شیخان، بازید خیل اور سوڑیزئی پایاں میں قبرستان اراضی پر مافیا قابض ہے۔ قبضہ مافیا اوقاف محکمہ، ڈپٹی کمشنر کے اہلکاروں اور متعلقہ علاقوں کے پٹواریوں سے ملکر قبرستان کی اراضی اونے پونے داموں فروخت کر چکا ہے۔ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات کیا ہوگی کہ نہ صرف سابق ادوار حکومت میں حکومتی صفوں میں قبضہ مافیا کے سرپرست موجود تھے بلکہ موجودہ حکومت کی صفیں بھی ان کے پشت پناہ قسم کے عناصر سے خالی نہیں، یہی وجہ ہے کہ شہری قبرستان بچائو تحریک چلائیں یا پھر عدالتوں سے رجوع کریں مرنے کے بعدان کے عزیز واقارب کے دفنانے کی جگہیں باقی نہیں رہیں۔ حکومت کھبیوں کی طرح اُگنے والی آبادی اور نجی ہاؤسنگ سکیمز کو قبرستان کی اراضی فراہم کرنے کا پابند نہیں کرتی، وقف قبرستان بھر چکے ہیں، صوبائی حکومت کو اسے بھی ایک سنگین مسئلہ جان کر اس پر توجہ دینی چاہئے۔

گلیشئرز کے تحفظ کے احسن اقدامات

خیبر پختونخوا حکومت نے یو این ڈی پی اور وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے درمیان اختلافات ختم ہونے کے بعد صوبے کے پانچ اضلاع میں گلیشئرز کے تحفظ کے پراجیکٹ پر کام کا دوبارہ آغاز خوش آئند امر ہے۔ یو این ڈی پی کے تعاون سے مذکورہ پراجیکٹ کے تحت صوبے کے پانچ اضلاع چترال، اپر دیر، مانسہرہ، شانگلہ اور سوات میں موجود گلیشئرز کے تحفظ کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔اس شعبے میں جس قدر کام کی ضرورت ہے اس کی اہمیت وضرورت سے انکار ممکن نہیں، البتہ گلیشئرز کے تحفظ بارے اقدامات بارے مقامی آبادی اور خاص طور پر بزرگوں کے جو تاثرات اور تحفظات ہیںکہ جب بھی گلیشئرز کا معائنہ ہوتا ہے گلیشئر پھٹتے کیوں ہیں اور سیلاب کیوں آتا ہے اس غلط فہمی کا ازالہ ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں