Daily Mashriq

مفاہمتی کلچر کے خوگر اور مزاحمت کی راہیں

مفاہمتی کلچر کے خوگر اور مزاحمت کی راہیں

آئی ایم ایف کی ’’مہربانیاں‘‘ عروج پر ہیں اور پاکستان کی کمزور معاشی صورتحال اور مجبوریوں کا جم کر فائدہ اُٹھانے کیساتھ کڑی شرائط کے ذریعے عوام کے صبر کا امتحان لینے کا عمل بھی زوروں پر ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عہدحاضر میں ہی کئی ملکوں میں انقلابات کی بنیاد رکھی۔ معاشی مسائل سے تنگ آئے ہوئے عوام کے ہاتھوں چشم فلک نے کئی تخت گرتے اور تاج اُچھلتے دیکھے۔ فرد کی طرح معاشرے اور مجموعۂ افراد کے صبر کی بھی ایک حد اور ایک پیمانہ ہوتا ہے۔ جب زندگی ان کیلئے دشوارتر ہوجائے تو پھر انسان بغاوتوں پر اُتر آتے ہیں، اسی کو فارسی میں ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے محاورے میں بیان کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی پالیسیاں ملک میں ایسا ہی ماحول تیار کر رہی ہیں۔ روپے کی قدر گرانے اور مہنگائی میں اضافے کے باعث عام آدمی کو دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی۔ بلی کے تمام راستے بند کرکے اسے جھپٹنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ ایک باقاعدہ حکمت عملی کے تحت اور پلان بی کے طورپر ہورہا ہے، پاکستان کو اس کے کچھ فیصلوں کی سزا دی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف سیاسی اثر رسوخ سے آزاد ادارہ قطعی نہیں، بالکل اسی طرح کہ جیسے اقوام متحدہ اور اس نوعیت کے عالمی اداروں کو کلی طور پر آزاد وخودمختار سمجھا جائے۔ ان اداروں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے والی طاقتیں ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا اپنا آپشن محفوظ رکھتی ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر اس کا استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نے پاکستانی عوام کیلئے سانس لینا بھی دشوار تر بنا دیا ہے۔ اب انہیں اس مقام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جسے پوائنٹ آف نوریٹرن کہا جاتا ہے۔ اس مقام پر لوگ سروں پر کفن باندھ کر نکلتے ہیں اور حکومتوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں۔ اس طرح آئی ایم ایف بہت عرق ریزی کیساتھ احتجاجی تحریک کیلئے زمین ہموار کر رہا ہے۔ حکومت بھی اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ ابھی تک کی صورتحال میں معاشی حالات کے خودسر گھوڑے پر سوار حکومت کے ہاتھ باگ پر اور نہ پاؤں میں رکاب میں آرہے ہیں گویا کہ یہ گھوڑا حکومت کے کنٹرول میں ہی نہیں آرہا اور یوں اس سُموں تلے عام آدمی کچلا جا رہا ہے۔ ایسے میں اپوزیشن جماعتوں نے ایک احتجاجی تحریک کے اشارے دینا، اس سے بڑھ کر دھیمے سُروں میں اعلانات کرنا بھی شروع کر دئیے ہیں۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت نیب کے ہاتھوں تنگ اور پریشاں ہیں۔ دونوں قیادتیں مقدمات کی ایک ایسی دلدل میں کھڑی ہیں جہاں ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ان جماعتوں پر نیب کا ہاتھ ڈھیلا ہو تو غصہ بھی کچھ کم ہو مگر نیب کی کارروائیاں انہیں مزید مشتعل کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ اس کیساتھ اپوزیشن کی دوسری چھوٹی زخم خوردہ علاقائی اور مذہبی جماعتیں بھی ہیں جن میں مولانا فضل الرحمان سرفہرست ہیں جو ملین مارچ کر کے حکومت پر اپنی دھاک بٹھانے کی بھرپور کوشش کر چکے ہیں مگر حکومت اس مہم سے بے نیاز ہے اس بے نیازی اور اعتماد کے پیچھے ایک راز ہے۔ دوبڑی اپوزیشن جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ دونوں ’’فائلر‘‘ جماعتیں ہیں۔ یوں تو فائلر ٹیکس اور ایف بی آر کی اصطلاح ہے اور یہ اچھے قانون پسند لوگوں کیلئے استعمال کی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں سیاستدانوں کی اس کلاس کو فائلر کہا جا سکتا ہے جس کی فائلیں احتسابی اداروں کے پاس کھلی ہوں۔ اگر فائلر اور نان فائلر کی اسی تشریح کو بنیاد بنایا جائے تو سیاست کی دنیا میں نان فائلرز کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے یہاں جس طرف دیکھیں فائلر ہی نظر آتے ہیں۔مسلم لیگ ن تو احتجاجی اور مزاحمتی کلچر کی خوگر ہی نہیں پیپلزپارٹی میں وقت کیساتھ ساتھ یہ جراثیم کمزور ہوتے چلے گئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے بعد نوتشکیل لگیسی میں تو مزاحمتی کلچر کی جگہ مکمل طور مفاہمتی کلچر غالب آگیا۔ میاں نوازشریف سیاست کی جس بند گلی میں جا پھنسے اس کی بنیاد یہ مغالطہ تھا کہ دنیا بدل چکی ہے، پاکستان بدل چکا ہے اور اب لوگ جمہوری شبیہ رکھنے والی کسی شخصیت کے اقتدار سے ہٹائے جانے اور معتوب بن جانے کو قبول کرنے کی بجائے سڑکوں اور گلیوں کو میدان کارزار بنا دیں گے۔ ایسا کچھ نہیںہوا، حد تو یہ کہ بھٹو صاحب جیسی شخصیت بھی اسی مغالطے کا شکار ہو گئی کہ انہیں اقتدار سے ہٹایا گیا تو ہمالیہ روئے گا۔ جب انہوں نے اپنے ملازم نورے کو کہا کہ باہر جا کر دیکھو پہاڑ رو رہے ہوں گے تو یہ محض ایک واہمہ اور تصور تھا۔ اقتدار تو گیا ہی تھا مگر بھٹو صاحب جان سے بھی گزر گئے مجال ہے سنگ دل ہمالیہ کی آنکھ سے ایک آنسو بھی پھوٹا ہو بلکہ خود ان کے عشاق بھی اس حادثے کو بہ آسانی سہ گئے۔ میاں نوازشریف حالات کیخلاف اُٹھ کھڑے ہونے اور اس کے نتیجے میں منظر بدل جانے کی امید پر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ بلند کرتے رہے مگر چار کی بجائے دس بیس چینلوں کا اُٹھ کھڑا ہونا بھی عوام کے بے روح جسد میں جھرجھری پیدا نہ کر سکا۔ یوں ’’میاں نوازشریف کی یہ منطق کہ ’’دنیا بدل گئی زمانہ بدل گیا اور پاکستان بدل گیا‘‘ فقط ایک مغالطہ ہی ثابت ہوئی۔ پاکستان کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں صرف اسی صورت میں تحریکیں کامیاب ہوتی رہی ہیں جب انہیں ملک کی ہئیت مقتدر کی خاموش تائید اور حمایت حاصل ہو اور یہ طاقت حکومت وقت کا تختہ اُلٹنے میں دلچسپی لے رہی ہو۔ سردست ایسا کچھ نہیں مطلع موجودہ حکمرانوں کے صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں اپوزیشن جماعتیں تحریک تو چلا سکتی ہیں مگر اس تحریک کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ انہیں تحریک چلانے سے پہلے حالات کے اس جبر سے گزرنا ہوگا کہ مزاحمت کے جس کلچر کو انہوں نے مفاہمت کے نام پر اپنے اقتدار کے دنوں میں سیاسیات کی لغت سے کھرچ کر ختم کر دیا تھا اسے دوبارہ زندہ اور بحال کرنے کے تجربے سے گزرنا ہوگا۔ انسانوں کے مزاج یکایک چھومنتر سے بدلے نہیں جاتے اس کیلئے بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ چند ہفتوں میں مزاجوں اور کلچر کی تبدیلی کا یہ معجزہ رونما نہیں ہوسکتا۔

متعلقہ خبریں