Daily Mashriq

کوسوو کے افسر کی تنخواہ، بیروزگاری اور غیرقانونی پارکنگ

کوسوو کے افسر کی تنخواہ، بیروزگاری اور غیرقانونی پارکنگ

رمضان المبارک کے بابرکت لمحات تیزی سے گزر رہے ہیں، پندرہ رمضان کے بعد سے تو عید کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ بہت سے لوگ رمضان کی آمد سے قبل ہی عید کی خریداری کر لیتے ہیں۔ رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر یقیناً مسلمانوں کیلئے سب سے بڑا انعام اور خوشی کا موقع ہے۔ ذرا غور کرتے ہیں کہ ہم میں سے کتنوں نے اب تک رمضان اور روزے کا حقیقی مفہوم جاننے کی کوشش کی ہے۔ کوشش تو ہر مسلمان کی رہتی ہے، میں خاص طور پر گنجائش اور وسعت رکھنے والے قارئین سے مخاطب ہوں کہ انہوں نے اب تک دوسروں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کی جتنی کوشش کی ہے اس میں مزید اضافہ کریں تاکہ سب اکٹھے اور مل کر عیدالفطر کی برکتیں اور خوشیاں سمیٹ سکیں۔ صدقہ الفطر کی ادائیگی اس شرح سے کریں کہ وسعت واستطاعت نظر آئے،جو لوگ عید پر اپنے بچوں کے کپڑے بنانے کی استطاعت سے محروم ہیں کوشش کی جائے کہ ان کے بچے نئے کپڑوں اور جوتوں سے محروم نہ رہیں۔ بعض پیغامات ایسے ملتے ہیں کہ تھوڑی دیر کیلئے غور وفکر ماؤف ہوجاتا ہے کہ بندہ کرے تو کیا کرے۔ ایک نوجوان کا برقی پیغام ہے کہ وہ ایک گریجویٹ ہے اور آٹھ سال سے ملازمت کی تلاش میں ہے مگر روزگار سے محروم ہی رہنا ہر کوشش کا انجام ہوتا ہے۔ نوجوانوں کا یہ مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ اس کا حل نہیں سوجھتا اپنی نوعیت کا یہ واحد برقی پیغام نہیں تقریباً ہر ہفتے اس طرح کے پیغامات ملتے ہیں جس میں کہیں این ٹی ایس، کہیں ایٹا اور کہیں پبلک سروس کمیشن اور کہیں سفارش ورشوت اور سیاسی وابستگیوں پر بھرتیاں جیسے معاملات کی شکایت کی جاتی ہے۔ سبھی کی شکایات جائز اور بجا ہیں، میرے خیال میں ہمارے ملک میں روزگار کے اتنے مواقع نہیں کہ ہر نوجوان کو روزگار کا حق ملے۔ میرٹ کی راہ میں رکاوٹیں افسوسناک حقیقت ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے جب اوبر اور کریم کے نوجوان ڈرائیو بتاتے ہیں کہ وہ طالب علم ہیں یا پھر فارغ التحصیل ہو کے ملازمتوں کی تلاش کے دوران گاڑی چلا کر اچھا خاصا کما لیتے ہیں۔ مجھے احساس ہے کہ بہت سارے نوجوانوں کے پاس یہ مواقع بھی نہیں، جو کر سکتے ہیں وہ تو کوئی بھی ملازمت اور چھوٹا کاروبار شروع کرلیں ممکن ہے کہ ان کو کسی ملازمت کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ایک قاری نے بہت شکستہ اور سمجھ نہ آنے والی تحریر میں ایک ایسی بات لکھ دی ہے جو نہ صرف سمجھ آگئی بلکہ آنکھیں کھل گئیں کہ دنیا میں ترقی کا راز کیا ہے۔ ہمارے قاری کوسوو میں تھے، انہوں نے وہاں ایک افسر سے پوچھا کہ تنخواہ کتنی ہے؟ افسر نے بتایا تو کہا بہت تھوڑی ہے، افسر نے جواب دیا کہ یہ ملک کس کا ہے، یہ ملک میرا ہے جب یہ ملک اچھا ہوگا تو میری تنخواہ بھی اچھی ہوگی، جس ملک میں اس قسم کے سوچ والے افسر ہوں اس ملک کی ترقی میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے ہمارے ہاں کے افسرشاہی کو اپنی تنخواہوں، مراعات اور ٹی اے ڈی اے کی پڑی رہتی ہے، ملک کی کسی کو پرواہ نہیں۔ خدمت سے عار اور انصاف سے بیر، میرٹ کا خون حقدار سے ظلم ایسے میں ملک کیا خاک ترقی کرے گا اور عوام کے مسائل کیا خاک حل ہوں گے۔پروفیسر ریٹائرڈ ڈاکٹر محمد ابرار نے لکھا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے سڑکوں پر سے غیرقانونی پارکنگ ختم کرنے کا حکم دیا ہے، اس کے باوجود پارکنگ ٹھیکیدار کے کارندے پارکنگ پر رقم وصول کرتے ہیں جو توہین عدالت ہے۔ میرے خیال میں عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ کے ایک سڑک پر پارکنگ کے حوالے سے حکم جاری کیا تھا جس کے بعد کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام نے عملدرآمد کا لیٹر بھی جاری کیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ عملدرآمد نہیں ہو رہا اور ٹھیکیدار کے لوگ بدستور پارکنگ فیس بلکہ غنڈہ ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ کوئی عدالت کا حکم ہی نہ مانے تو کیا کیا جائے۔بنوں سے حیات اللہ کے مایوس کن برقی پیغام میں دھمکی دی گئی کہ ان کو سرکاری ملازمت سے نکالنے اور پھر بحال نہ کرنے پر وہ مجبوراً خودکشی کر لینگے (خدانخواستہ)۔ حیات ایم ایس سی میتھس ہیں، آپ کے پاس جو ڈگری ہے اس کو بروئے کار لانے کا سوچیں، مایوسی گناہ اور خودکشی حرام ہے۔ آپ نے یہ تک نہیں لکھا کہ آپ کس سرکاری ادارے میں تھے اور آپ کو برخاست کیوں کیا گیا۔ بہرحال آپ ہمدردی کے مستحق ضرور ہیں مگر آپ جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی مایوسی کا اظہار کرنے لگیں تو باقی کمزور طبقے اور کم تعلیم یافتہ افراد سے کیا گلہ۔ آپ عدالت جائیں محکمانہ طور پر اپنا کیس لڑیں اس دوران کسی بھی نجی سکول میں پڑھائیں۔ میتھس کا ٹیوشن بھی معقول آمدنی کا باعث بن سکتا ہے۔ کوشش تو کریں، ہمت مرداں مدد خدا۔ مجاہد فیروز مردان سے کہتے ہیں کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ صوبے میں ٹیوب ویلز چلانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ ٹیوب ویلز کا انتظام ٹی ایم ایز کے حوالے کیا جائے۔ سمجھ نہیں آرہی کہ ایک سرکاری محکمے کی کارکردگی پر اس طرح سے اعتراض پر کیا لکھوں۔ پی ایچ ای ڈی بھی سرکاری محکمہ ہے، سرکار کے ملازمین ٹیوب ویلز چلانے پر مامور ہیں، پی ایچ ای ڈی کی کارکردگی کیوں مایوس کن ہے اور لوگوں کو کیا شکایات ہیں اس بارے تفصیلات دیتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔ بہرحال یہ ضرور ہوگا کہ ٹیوب ویل خراب ہونے پر جلد ٹھیک کروانے کا انتظام نہ ہوگا، ٹیوب ویل وقت پر نہیں چلائے جارہے ہوں گے، مختصراً لوگوں کو آبنوشی کی تکلیف ہوگی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حکام کو نوٹس لینا چاہئے کہ رمضان المبارک میں بھی لوگوں کی شکایات کا ازالہ کیوں نہیں ہورہا، گرمیوں میں پانی کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے متعلقہ حکام اصلاح احوال کے ذریعے عوام کو مشکلات سے نجات دلائیں اور عوام کی مشکلات وشکایات کا ازالہ کریں۔

متعلقہ خبریں