Daily Mashriq


اپوزیشن کا افطار ڈنر اور متوقع تحریک

اپوزیشن کا افطار ڈنر اور متوقع تحریک

لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اس افطار ڈنر کا مقصد کیا تھا۔ حکومت کیخلاف دونوں بڑی جماعتوںکا غیراعلانیہ اتحاد تو پہلے سے قائم ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جماعتیں ایک دوسرے کیساتھ مکمل تعاون کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمینی حاصل کرنے کیلئے ن لیگ نے جتنا زور لگایا اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ پیپلز پارٹی نے شور مچایا کہ اپوزیشن رہنما شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنایا جائے۔ پیپلز پارٹی کا یہ مطالبہ کوئی اصولی مطالبہ نہیں تھا کیونکہ اگر یہ ان کا اصولی مؤقف ہوتا تو وہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو پی اے سی کا چیئرمین بنا دیتے لیکن وہاں انہوں نے اپنے ممبر اسمبلی کو پی اے سی کا چیئرمین بنا دیا۔ اس ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ان جماعتوںکی اصول پسندی درحقیقت کیا ہے؟ کیا لوگوں کو یاد نہیں کہ یہ ایک دوسرے کے متعلق ماضی قریب میں کیا کہتے رہے ہیں؟ نواز شریف آصف زرداری کیخلاف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ جا پہنچے اور میموگیٹ میں غداری کا مقدمہ ان کیخلاف قائم کرنے کی کوشش کی۔ شہباز شریف زرداری کا پیٹ پھاڑ کر قومی دولت واپس لانے کی بات کرتے رہے۔ خود آصف زرداری نے نواز شریف کے بارے میں 2018ء کے انتخابات سے قبل کیا زبان استعمال کی۔ لیکن آج یہ باہم شیر وشکر ہیں اور بھول چکے ہیں کہ ایک دوسرے کے متعلق وہ کیا کہتے رہے ہیں۔مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت اس لحاظ سے اپنا اعتبار کھو بیٹھی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کا گٹھ جوڑ ہمیشہ اپنے آپ کو بچانے کیلئے ہوتا ہے اور تو اور مولانا فضل الرحمان اور دیگر چھوٹی جماعتوں کو بھی خدشات لاحق ہیں کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اُن کو استعمال کرنے کے بعد میدان میں تنہا چھوڑ دیں گی۔ اس بات میں کسی کو شبہ نہیں کہ حکومت مخالف اتحاد بنانے یا تحریک چلانے کی غرض فقط اتنی ہے کہ مصیبت کی شکار مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو کسی طرح احتساب کے شکنجے سے بچایا جائے یعنی حکومت پر دباؤ بڑھا کر ایک مرتبہ پھر این آر او لیا جائے جیسا کہ ماضی میں لیا گیا تھا۔ حکومت گرانے کی حکمت عملی ہے اور نہ ہی اس طرح کی سوچ اس وقت پروان چڑھ سکتی ہے، ان ہاؤس تبدیلی تو خارج ازامکان ہے۔ حکومت کے پاس سادہ اکثریت سے 10اراکین زیادہ ہیں جبکہ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ ن اور متحدہ مجلس عمل اور اے این پی یعنی متحدہ اپوزیشن کے کل اراکین کی تعداد 156ہے۔ جہاں تک سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کی حکمت عملی ہے تو لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے بہتر اس حقیقت کو کون جانتا ہے کہ ایسے احتجاج اس وقت کارگر ہوتے ہیں جب اپوزیشن کو کہیں سے اشارہ ہو، آج یہ ’’اشارہ‘‘کسی جانب سے نہیں ہے۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ماضی میں اتحاد کا جو تجربہ کیا تھا اس کا ایک جماعت کو یہ فائدہ ہوا تھا کہ اس کی قیادت کو این آر او مل گیا جبکہ دوسری جماعت کے قائدین کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔ آج لیکن وطن عزیز پر کسی جرنیل کی حکومت نہیں ہے جسے اپنے اقتدار کی بقاء کیلئے سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج پاکستان جس نہج پر ہے وہاں سیاسی قیادت‘ اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ریاستی اداروں کی سوچ میںکڑے احتساب کے حوالے سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ لہٰذا دور دور تک اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد دباؤ بڑھا کر حکومت وقت سے این آر او حاصل کر لے گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا موجود ہے۔ وقت کیساتھ پروان چڑھتی محبتوں میں ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نجانے کون کہاں راستہ بدل جائے۔ محترمہ بینظیر بھٹو ایک طرف میثاق جمہوریت پر دستخط کر رہی تھیں اور دوسری طرف اُن کی جنرل پرویز مشرف سے خفیہ ملاقاتیں شروع ہو چکی تھیں۔ یہ تو شاہ عبداللہ تھے جنہوں نے ذاتی دلچسپی لیکر نواز شریف اور شہباز شریف کو وطن واپس بھیجا ورنہ مسلم لیگ ن کیساتھ بینظیر بھٹو ہاتھ کر چکی تھیں۔ آج دونوں جماعتوں کی قیادت کو ریلیف کی اشد ضرورت ہے۔ چیئرمین نیب کے توسط سے جو معلومات باہر آچکی ہیں ان کے مطابق شہباز شریف‘ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت سب نیب کے مہمان بنیں گے جبکہ آصف علی زرداری جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے میں بُری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی پہلی ترجیح اپنے بڑوں کو سر پڑی مصیبت سے بچانا ہو سکتاہے۔ عوام کے یہ جتنے ہمدرد ہیں اس کا عوام کو پتا ہے، عوام جانتی ہے کہ دسمبر2000ء میں راتوں رات نواز خاندان اپنے معاملات طے کر کے کیسے 10سالہ جلاوطنی اختیار کر گیا تھا۔ آصف زرداری کے بارے میںکچھ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ ان کا معاملہ ’’سامنے ہے تیرے کتاب کھلی ہوئی‘‘ والا ہے۔ وہ ڈیل ماسٹر ہیں اور بلاول کی سیاست ان کے فلسفے کے تابع اور ان کی سوچوں کے ماتحت ہے۔ احتجاجی تحریک کی بابت مولانا فضل الرحمان کا معاملہ البتہ تھوڑا مختلف ہے۔ وہ اول دن سے حکومت گرانا چاہتے ہیں اور ان کی جماعت مسلسل متعدد وارم اپ جلسے بھی کر چکی ہے لیکن انہیںمعلوم ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کافی کایاں ہے ‘ وہ معاملات کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں آنے نہیں دے گی۔ ویسے بھی مولانا کو ابھی انتظارکرنا چاہئے اور خواہ مخواہ اپنی صلاحیتوںکو ضائع کرنے کی بجائے ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے جس سے ان کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ ہو اور ان کی ساکھ بہتر ہو سکے۔

متعلقہ خبریں