Daily Mashriq


ٹریفک کا نظام ، سب اچھا نہیں ہے

ٹریفک کا نظام ، سب اچھا نہیں ہے

آئی جی پی کے پی صلاح الدین محسود کا ایس ایس پی ٹریفک سے ریپڈ بس منصوبے کے دوران ٹریفک کے متبادل انتظامات بارے تفصیلی بریفنگ لینے کے بعد اطمیان کا اظہار ان کی لا علمی پر مبنی ہے ۔ ماتحت افسرکی طرف سے ان کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کرنے کی بجائے سب اچھا کی رپورٹ دینے سے بھی اس امر کا اظہا رہوتا ہے کہ آئی جی پی نے مسئلے کا بغور جائزہ نہیں لیا ہوگا ۔ بہرحال آئی جی نے اس موقع پر جو ہدایات دی ہیں وہ عملدر آمد کی شرط پر مفید ضرور ہیں ۔ آئی جی نے ہدایت کی ہے کہ ٹریفک کے متبادل نظام کے بارے میں عوام کے لیے آگاہی مہم کو مزید تیز کیا جائے۔اور اس مقصد کے لیے ایف ایم ریڈیو، پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کے علاوہ پمفلٹ بھی چھپوائے جائیں۔ اور اس میں تمام متبادل راستوں کے بارے میںنشاندہی کرکے ڈرائیوروں اور عام لوگوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ ڈرائیونگ کے دوران ڈرائیورحضرات میسرآسان روٹس کا انتخاب کرسکیں اور ساتھ ہی ساتھ سواریوں کو بھی اپنے منزل مقصود تک پہنچنے میں دقت اور دشوا ری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ہمارے نیوز رپورٹر نے پشاور میں ٹریفک کی صورتحال کی حقیقی تصویر اپنی رپورٹ میں پیش کی ہے جس کے مطابق ٹریفک نظام میںبد نظمی کی وجہ سے پشاور کے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ روز بھی شہر کی سڑکوں پر گاڑیوں کا اژدھام رہا جس کی وجہ سے صبح سے لیکر شام تک رنگ روڈ سے یونیورسٹی روڈ تک اطراف میں تمام سڑکیںتاریخی ٹریفک جام کا شکار رہیں اور نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ۔ہزاروں افراد خریداری اور دوسری ضروریات کے باعث روزمرہ بنیادوں پر پشاور آتے ہیں جس کے باعث شہر میں گاڑیوں اور انسانوں کیلئے تل دھرنے کو بھی جگہ نہیں رہتی گزشتہ جی ٹی روڈ کے ٹریفک جام سے شہر میں کوہاٹ روڈ اور چارسدہ روڈ پر نکلنے والی سڑکوں کے علاوہ دلہ ذاک روڈ اور یونیورسٹی روڈ پر بھی تہکال اور بورڈ بازار میں ٹریفک جام رہا۔ جی ٹی روڈ پر ٹریفک کی بندش کے سلسلے میں باچاخان چوک دوطرفہ ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا تھا جس سے فقیر آباد اور پجگی روڈ کی رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئیں مسافروں نے چند کلومیٹر کا فاصلہ تین گھنٹے سے زائد وقت میں طے کیا۔ خیال رہے کہ بی آر ٹی منصوبے کیلئے سڑک کی بندش سے شہر میں ٹریفک کے دبائومیں شدید اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ دو ہفتے سے شہر میں ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے اس مقصد کیلئے ٹریفک پلان جاری کیا گیا تھا مگر اس پر عملدر آمد نہیں ہواجس سے شہری مستقل اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔صوبائی دارالحکومت کی واحد مرکزی سڑک اور حیات آباد کی سڑکوں پر ریپڈبس منصوبے کیلئے سڑک تعمیر کرنے کیلئے جو کھدائی اور سڑک کے نصف حصوں کی بندش کی گئی ہے یہ نظر آنے والا مسئلہ بھی ہے اور اس مشکل کی وجہ بھی عوام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں یہ ایک قابل قدر منصوبہ ہے جس کیلئے عوام بخوشی مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں اس ضمن میں عوام کی حکومت اور ٹریفک پولیس سے کوئی شکایات نہیں۔ ٹریفک پولیس کی سڑکوں پر رش کم کرنے کیلئے اضافی عملے کی تعیناتی اور ممکنہ طور پر مرکزی سڑک کھلی رکھنے کیلئے ان کی بھاگ ڈور کا بھی اعتراف ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف اس ایک سڑک پر اس طرح کے انتظامات ٹریفک کے انتظام کیلئے کافی ہے یقینا نہیں۔ ٹریفک پولیس جس متبادل بندوبست کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ کہیں نظر نہیں آتا ، آئی جی نے جو ہدایات دی ہیں ان پر عملدر آمد بار ے اس لیئے بھی یقین سے کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ ہدایات دینے اور ان کو ہوا میںاڑا دینے کی ریت پرانی اور ہمارے سرکاری اداروں کی عادت ثانیہ ہے۔ اگر ٹریفک پولیس کی ذمہ داریوں سے ہٹ کر جائزہ لیا جائے تو صوبائی حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکامی کے باعث ٹریفک پولیس بھی تہی دستی کا شکار ہوگئی ہے۔ ریپڈ روٹ کیلئے سڑک کے عین وسط میں تعمیر اتی کام ضرورت اور مجبوری ہے لیکن پورے یونیورسٹی روڑ پر اطراف میں نالیوں کی تعمیر کیلئے کھدائی کر کے چھوڑ دینا مجبوری کے زمرے میں نہیں آتا اس سے صورتحال مزید گھمبیر بن گئی ہے۔ اگر تہکال سے با ب پشاور تک کی اطراف کی سڑکوں کی تعمیر کی تکمیل ہوچکی ہوتی تو سنٹر میڈیا اور ایک ایک لین کی بندش سے زیادہ فرق نہ پڑتا مستزاد پشتہ خرہ روڈ کے تعمیر اتی کام کی تجاوزات بروقت ہٹانے کے باوجود ہنوز تکمیل کیوں نہیں ہو سکی ہے ۔ ٹریفک پولیس کا رخانوں جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کو رنگ روڈ پر کیوں نہیں ڈالتی کہ ٹریفک کے رش میں بھی کمی آئے اور عوام کو بھی سہولت ہو علاوہ ازیں کارخانوں اور حیات آباد کیلئے عارضی طور پر بورڈ سے ٹرانسپورٹ کا انتظام کر کے ساری گاڑیوں کو یونیورسٹی روڈ سے آنے میں کمی کا بندوبست کیوں نہیں کیا جاتا ۔ کارخانوں کی ٹرانسپورٹ کو رنگ روڈ کی طرف موڑنے سے حیات آباد کے مکینوں کو بھی ایک متبادل روٹ میسر آئے گا ۔ اسی طرح باڑہ کی بسوں کو اگر سٹیڈیم چوک سے واپس موڑاجائے اور ان کو جی ٹی روڈ پر آنے کی اجازت نہ دی جائے تو بھی ٹریفک کے اژدھام میں کمی آسکتی ہے اسی طرح جمرود کی بڑی مسافر بسوں کو بھی بورڈ سے واپس موڑ دیا جائے ۔ جہاں تک رابطہ سڑکوں کا سوال ہے اس ضمن میں ٹریفک پولیس تو متحرک نظر نہیں آئی البتہ عوام مجبوراً متبادل راستوں کا استعمال کرنے لگے ہیں مگر وہاں پر ان کو تجاوزات کے باعث جن رکاوٹوں کا سامنا ہے اس پر توجہ دی جائے تو بہتری آسکتی ہے۔ ٹیکسی رکشوں کی بھر مار کی روک تھام کیلئے پر مٹ چیک کرنے کا طریقہ کار اختیار کر کے غیر قانونی اور بغیر پر مٹ چلنے والی اضافی گاڑیوں کی تعداد میں کمی لا ئی جا سکتی ہے ۔ ٹریفک پولیس چاہے تو اپنے مشاہدے اور تجربے سے بہتری کے کئی اقدامات کر سکتی ہے مگر ایسا شاید اس لئے نظر نہیں آتا کہ ٹریفک کے اعلیٰ حکام سڑکوں پر کھڑے ماتحتوں کے تجاویز کم ہی سنتے ہیں اوران سے رابطہ کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ آئی جی خود روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک کے مسئلے سے وابستہ رہنے والے عملے سے ایک نشست کر کے ان کی تجاویز سنیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں صوبائی حکومت نامکمل اور کھدی ہوئی سڑکوں کی فوری تعمیر کی ذمہ داری پوری کروا کے عوام کی مشکلات میں کمی لا سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں