Daily Mashriq


تشدد پر مبنی معاشرے کا پھیلائو

تشدد پر مبنی معاشرے کا پھیلائو

چیئر مین سینیٹ رضار بانی نے بجا کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی اس وقت قائم ہوگی جب اشرافیہ سے لیکر تانگے والے تک سب پر قانون کا اطلاق یکساں ہوگا ۔ انہوں نے اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ جب وار لا رڈازم معاشرے کو کنٹرول کرے گا تو سیاست کیسے ہوگی گو کہ فی الوقت معاشرے میں وار لارڈ ازم کی صورت تو نہیں لیکن جب ہر مسئلے کا حل طاقت اور گولی رائج ہو جائے تو وار لارڈ ازم کی نوبت خود بخود آتی ہے ۔ وار لارڈ ازم ایک دو قدم آگے کی بات ہوگی اور اس کا اندازہ ہم جیسے سطح بینوں کو ممکن ہے نہ ہو کیونکہ ہمارے ذہن میں وار لارڈ ازم کا تصور افغان معاشرے سے آتا ہے لیکن شدت پسندی کا معاشرے میں بڑھتا رجحان کسی سے پوشیدہ امر نہیں ۔شدت پسندی کو فروغ اس لئے مل رہا ہے کہ ہم سیاسی و جمہوری معاشرے سے دانستہ و نا دانستہ ہٹنے لگے ہیں اور مطالبات و معاملات کا فیصلہ گفت و شنید اور رواداری و ہم آہنگی کی فضا میں کرنے کی بجائے طاقت و تشدد سے کرنے لگے ہیں ۔ستم بالائے ستم یہ کہ جو عناصر اعلانیہ طور پر تشدد و شدت پسندی سے اظہار برأت کرتے آرہے تھے آج ان کا شمار بھی معاشرے میں شدت پسندی کے اثرا ت سے رنگے جانے کا ہوگیا ہے یہ وار لارڈ ازم ہی کی قسم ہے کہ معاشرے میں شدت پسند عناصر کا باقاعدہ جھتے اور تنظیموں کا نہ صرف وجود ہے بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کو نہ تو کالعدم قرار دینے سے فرق پڑتا ہے اور نہ ہی کسی اور طریقے سے۔ یہ عناصر اب باقاعدہ سیاست کی بھی تیاری میں ہیں 2018ء کے انتخابات اس بناء پر مختلف ہو سکتے ہیں کہ اس میں ایک نیا عنصر داخل سیاست ہوگا ۔ معاملات کو آخری سطح پر لیجانے کی مقابلہ بازی سے ہاتھ کھینچ لینا ہی اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ ہے اس پر قومی و سیاسی رہنمائوںاور جملہ مقتدرین کو غور کرنے اور عملی طور پر تشدد پر مبنی معاشرے کو نارمل سطح پر لانے کی ضرورت ہے اس سے بڑھ کر کسی معاشرے کے متشدد ہونے کی مثال کیا ہوگی کہ اب خانگی جھگڑوں اور معمولی جھگڑوں میں انتہا درجے کی انتہا پسندی کے مظاہرسامنے آنے لگے ہیں کیا ہم اب بھی معاشرے میں رواداری و برداشت کے کلچر کی واپسی کیلئے کوشاں نہیں ہوں گے اور اس سلسلے کو یونہی بڑھتا ہوا دیکھتے رہ جائیں گے ۔

سرکاری عملے کو تحفظ ملنا چاہیئے

نوشہرہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات ہٹانے کی مہم کے دوران صوبائی وزیر کی اسسٹنٹ کمشنر سے تلخ کلامی کا کوئی جواز اس لئے نہیں تھا کہ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کے کام میں مداخلت نہ کی جاتی تو اس کی نوبت ہی نہ آتی ۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے آبائی علاقے میںتجاوزات کے خلاف مہم کا دوبارہ آغاز انتظامیہ کی آزادی کا بہر حال ایک ثبوت ضرور ہے بشرطیکہ اس مہم کو نمت بالخیر ہونے دیا جائے۔ جہاں تک اسسٹنٹ کمشنر اور صوبائی وزیر کے درمیان تلخ کلامی کا سوال ہے ایک سرکاری ملازم سے اس امر کی توقع ہی عبث ہے کہ وہ کسی صوبائی وزیر سے بلاوجہ الجھے تجاوزات ہٹانے کے وقت نوٹس نہ دینے اور اعتماد میں نہ لینے، مشاورت نہ کرنے جیسے سطحی نوعیت کے اعتراضات صرف اس مہم کے وقت ہی سامنے نہیں لائے گئے بلکہ ہر جگہ تجاوزات کے خلاف مہم میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے یہی رٹ لگائی جارہی ہے ۔ اگر صوبائی وزیر اور متعلقہ دکاندار وکاروباری طبقہ سمجھتا ہے کہ متعلقہ سرکاری عملہ تجاوزات کے خلاف مہم نہیں بلکہ لوگوں کی قانونی جائید اد وں، دکانوں اور نقشے کے مطابق بنے عمارتوں اور املاک کو نقصان پہنچا رہا ہے تو ان کے خلاف سخت کارروائی میں کسی کسر کی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔ لیکن یہ اگر تجاوزات کے خلاف مہم تھی تو اس میں کسی کو رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔ سرکاری عملے کو قانون کے نفاذ میں کسی دبائو میں نہیں آنا چاہیئے اور اپنا فرض بلا خوف وخطر نبھانے کی ضرورت ہے اس طرح سے ملک میں قانون کی حکمرانی کا قیام اور تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوگا ۔

متعلقہ خبریں