Daily Mashriq


غیرت کے نام پر کئے جانے والے جرائم

غیرت کے نام پر کئے جانے والے جرائم

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک نوجوان لڑکی کو اسلحے کے زور پر برہنہ کرکے گلیوں میں گھمانے اور اس کی توہین کرنیکا واقعہ نہ صرف انسانیت کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے بلکہ ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم (سی جے ایس )کی کمزوریوں کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔کچھ دیر کیلئے اس بات کو نظر انداز کرتے ہیں کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں کس پارٹی کی حکومت ہے اور کیا خیبر پختونخوا پولیس مثالی کام کررہی ہے یا نہیں۔اس وقت ہم صرف اس سوال پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں کہ کیا ریاستِ پاکستان کی نظر میں امیر اور غریب برابر ہیں اور کیا امیروں اور غریبوں پر ایک ہی قانون لاگو ہوتا ہے ؟ پولیس، عدلیہ، جیل خانہ جات، استغاثہ اورپیرول کے نظام پر مشتمل یہ نظام رنگ، نسل، صنف، مذہب اورکلاس کی تفریق کئے بغیر ریاستِ پاکستان کے تمام شہریوں کو مساوی اور سستا انصاف فراہم کررہا ہے ؟ اس بات کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری عدالتوں میں ہزاروں درخواستیں کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن ۔22 اے کے تحت صرف اسلئے دی جاتی ہیں کہ پولیس کو سائلین کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جائے ۔ اس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگانے کیلئے اتنا جاننا کافی ہے کہ ایف آئی آر درج کروانے کیلئے دی جانیوالی یہ درخواستیں اکثراوقات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک بھی پہنچ جاتی ہیں۔ہم نے آج تک کسی بھی پولیس آفیسر کو کسی قانون کی خلاف ورزی پر ایف آئی آر کاٹنے سے انکار کرنے پر سزا پاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر باآسانی ایف۔آئی۔آر درج نہیں کروائی جاسکتی تو کیا پاکستان کا ہر شہری صرف ایف۔آئی ۔آر درج کروانے کیلئے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی مالی استطاعت رکھتا ہے ؟ اب یہ فرض کرتے ہیں کہ کسی دشواری کے بغیر ایف۔آئی ۔آر درج ہو بھی جاتی ہے تو کیا تفتیشی افسر کے پاس درست تفتیش کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن فرانزک کی سہولیات میسرہیں ؟ اور کیا تفتیشی افسر بالکل غیر جانبدار ہو کر تفتیش کرتا ہے؟ یا پھر پولیس افسران امیر اور غریب کے مقدمات کی تفتیش کیلئے مختلف رویہ اپناتے ہیں؟ اسی طرح ایک عام شہری اور کسی وکیل، صحافی یا سیاسی شخصیت کے مقدمات کی تفتیش ایک ہی طریقے سے کی جاتی ہے؟ ہماری حکومتیں پولیس کو دہشت گردوں سے لڑنے کیلئے لڑائی کی تربیت دینے میں تو مصروف دکھائی دیتی ہیں لیکن آج تک کسی نے یہ بھی پوچھا ہے کہ مہذب معاشروں میں پولیس کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں ؟ چلیں یہ فرض کرلیتے ہیں کہ عدالت کی مداخلت یا مداخلت کے بغیر ایف۔آئی ۔آر درج ہوگئی ہے اور پولیس افسر نے ایمانداری اور غیر جانبداری سے اپنی تفتیش مکمل کرلی ہے تو کیا لوگ ایک سرکاری وکیل پر اعتماد کرنے پر آمادہ ہیں یا وہ پرائیویٹ وکیل کو ترجیح دیتے ہیں ؟پاکستان میں مجرم کو سزا سنانے کی شرح آج بھی 5 سے 10 فیصد کے درمیان ہے جو کہ پورے خطے میں سب سے کم شمار ہوتی ہے۔ ہمارے نظامِ انصاف کاسب سے اہم ستون عدلیہ ہے لیکن کیا ہماری عدلیہ اتنی صاف شفاف اور غلطیوں سے مبرا ہے کہ کوئی شخص اس پر انگلی اٹھانے کا نہیں سوچ سکتا ؟ اور کیا عدلیہ کی کارکردگی کو کسی بھی حوالے سے اطمینان بخش کہا جاسکتا ہے ؟کیا امیرو غریب یا سینئر اور جونیئر وکیل کو عدالت میں ایک ہی طریقے سے سنا جاتا ہے ؟ کیا کسی عام آدمی کے مقدمے کی سماعت کے دوران اپنایا جانے والا رویہ اور کسی بااثر شخص کے مقدمے کی سماعت میںاپنایا جانے والا رویہ ایک جیسا ہوتا ہے ؟ ہمارے پاس اس سوال کا جواب بھی ہونا چاہیے کہ کسی عدالت کو کسی ایک مقدمے کا فیصلہ سنانے میں 20 سے 30 سال کا عرصہ کیوں لگ جاتا ہے اور ہمارے عدالتوں میں اس وقت بھی تقریباً 30 لاکھ مقدمات زیرِ التواء کیوں ہیں ؟ کیا جیلوں میں ایک عام آدمی اور امیر اور بااثر شخصیت کے ساتھ ایک ہی رویہ اپنایا جاتا ہے اور کیا مذکورہ دونوں اقسام کے قیدیوں کو ایک جیسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں یا جیل امیروں کے لئے صرف ایک ریسٹ ہائوس کا کام کرتی ہے ؟ کیا ایک غریب آدمی بھی پیرول پر رہا ہوسکتا ہے یا یہ سہولت صرف امیر پاکستانیوں کیلئے ہی مخصوص ہے ؟سب سے زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ریاست بھی ایسے واقعات سے چشم پوشی کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ کیا غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بنائے جانیوالے قوانین کے ذریعے ایسے واقعات پر قابوپانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے ؟ پاکستان کو یہ قانون بھی بنانا چاہیے کہ ایسے کسی بھی واقعے کی رپورٹ فوری درج کی جائے اور کسی غلط بیانی کی صورت میں بھی قصوروار کو لازماً سزا کو یقینی بنایا جائے۔ان جرائم کی تفتیش کیلئے تفتیشی افسران کی خصوصی تربیت کی جائے اوران افسران کو تفتیش کے جدید طریقوں سے آگاہی دینے کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی بھی فراہم کی جائے۔ پولیس کے محکمے سے رشوت ستانی کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی کے اوقات کار کو بین الاقوامی معیارپرلایا جائے۔ مقدمے میں سائلین کو پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے سرکاری وکیلوں کی تربیت کی جائے تاکہ غریب عوام کو سستا انصاف فراہم کیا جاسکے۔ اسی طرح جیلوں کے نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے جس کیساتھ ساتھ عدلیہ میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ کسی عدالت کو چلانے پر مامور کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مذکورہ جج کے پاس ان فرائض کی انجام دہی کا مناسب تجربہ موجود ہے۔ججوں کی بہترین تربیت کو یقینی بنانے کے علاوہ ان کے فیصلوں کے تجزیئے کا نظام بھی متعارف کروایا جائے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنیوالے انسانیت سوز واقعے کی معاشر ے کے ہر حلقے کی جانب سے مذمت کی گئی ہے لیکن کیا یہ مذمت ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے کافی ہے؟

غیرت کے نام پر کئے جانے والے جرائم

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں