Daily Mashriq


نازک مزاج آپ قیامت ہیں میر جی

نازک مزاج آپ قیامت ہیں میر جی

وطن عزیز میں بعض مسائل ایسے ہیں جن کی اب ہمیں عادت ہوچکی ہے جیسے لوڈ شیڈنگ !لیکن جب گھر میں مہمان موجود ہوں تو لوڈ شیڈنگ زہر لگتی ہے یو پی ایس بیچارہ بھی دل و جاں کی ساری توانائیوں سے مقابلہ کرتا ہے مگر کب تک ؟ جب یہ ہتھیار ڈال دیتا ہے تو پھر لوڈ شیڈنگ بلائے ناگہانی لگتی ہے۔ مہمانوں کے سامنے شرمندگی الگ لیکن دل کو یہ اطمینان ضرور ہوتا ہے کہ مہمان جہاں سے تشریف لائے ہیں وہا ں بھی تو لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ انہیں بھی معلوم ہے کہ یہ ہم سب کا مشترکہ المیہ ہے مہمان چونکہ اللہ پاک کی رحمت ہوتا ہے اس لیے اس کے آرام کا سب کو خیال ہوتا ہے۔ بیاہ شادی کے موقعوں پر مہمان تھوک کے حساب سے آتے ہیں اس لیے ان کی خبر گیری کرنا ان کے آرام کا خیال رکھنا کچھ زیادہ ہی مشکل ہوتا ہے۔ پہلے زیادہ تر شادیاں عام طور پر موسم سرما میں ہی ہوتی تھیں ۔طویل راتیں اور چھوٹے دن بجلی کی کوئی پرواہ نہ ہوتی اور پھر اس زمانے میں لوڈ شیڈنگ کہاں تھی ؟بارات کے ساتھ مزدور بڑے بڑے گیس لیمپ اٹھا کر چلتے تھے ۔یہ وہ زمانہ تھا جب دولہا کے لیے گھوڑے پر سوار ہونا اور سر پر سہرا باندھنا ضروری تھا۔ سہرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کے لیے اس میں چھوٹے چھوٹے بلب لگے ہوتے انہیں روشن رکھنے کے لیے گھوڑے کے پہلو میں سر پر بڑی سی بیٹری اٹھائے ایک مزدور چل رہا ہوتا۔دولہا کے لیے چین کی دو گھوڑا بوسکی کا لباس ہوتا۔ پائوں میں بوٹ یا پشاور ی چپلی ہوتی !دولہے کا گھوڑے پر سوار ہونا سہرا باندھنا اور اسی طرح کی دوسری رسومات ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ تھیں جو اب مرور زمانہ سے معدوم ہو چکی ہیں۔ بعض رسومات کا اب بھی خاص اہتمام کیا جاتا ہے جیسے بارات کے پہنچتے ہی دولہا بھائی کو دودھ پلانا! دلہن کے گھر پہنچ کر دولہا میاں کو لڑکی کا بھائی جب دودھ کا پیالہ پیش کرتا ہے تو اس وقت بھی اچھی خاصی دھینگا مشتی دیکھنے میں آتی ہے۔ جیسے ہی دولہا تھوڑا سا دودھ چکھ کر پیالہ منہ سے ہٹاتا ہے تو اس دودھ پر اس کے دوست ٹوٹ پڑتے ہیں۔آج کی شادیوں میں جو بات ہمیں بہت زیادہ کھٹکتی ہے وہ لوگوں کا انگریزی میں شادی کارڈ لکھوانا ہے حیرت بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کہ ہم کس طرف چل نکلے ہیں۔ شادی بیاہ ہماری تہذیبی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے ہماری مثال تو یہ ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا! جب سے آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے تو اب شادیاں صرف سردی کے موسم تک محدود نہیں رہیں۔ دن کی بھی کوئی قید نہیں رہی جمعہ اتوار ہفتہ منگل کوئی بھی دن ہوسکتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ شادی کیلئے شادی ہال بک کروانا پڑتا ہے اور جو دن مل جائے وہی دن شادی کیلئے طے کر لیا جاتا ہے ۔

چند دن پہلے گھر میں چونے سفیدی کا غلغلہ تھا جو صاحب ہمارے گھر کو چمکانے کیلئے تشریف لائے تھے وہ بڑے نازک مزاج اور رکھ رکھائو والے تھے۔ انہوں نے بطور خاص ہمیں سمجھادیا تھا کہ نو بجے ہم قہوہ پینا پسند کرتے ہیں اور پھر دس بجے کالی چائے کا ایک کنگ سائز کپ بمع ایک عدد روغنی! انہیں دیکھ کر ہمیں میر تقی میر کا یہ مصرعہ یا د آگیا

نازک مزاج آپ قیامت ہیں میر جی

وہ صاحب چیونٹی کی رفتا ر سے کام کرتے رہے ہم انہیں قہوہ اور چائے اپنے اپنے اوقات پر مہیا کرتے رہے لیکن انہیں خوش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ہمارے گھر کا سامان جگہ جگہ بکھرا پڑا تھا ہماری خواہش تھی کہ ایک دو دنوں میں یہ صاحب کام ختم کریں تاکہ ہم اپنے معمول کے مطابق زندگی کی گاڑی کو پھر سے کھینچنا شروع کریں لیکن وہ صاحب میر کی نازک مزاجی سے بھی دو ہاتھ آگے تھے ایک تو وہ سارا دن حکومت کو کوستے رہتے حکومت اور سیاستدانوں کی ہر بات میں کیڑے نکالنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور اس حوالے سے کچھ ایسے جملے بھی ارشاد فرماتے کہ جنہیں یہاں درج کرنا ہمارے لیے ممکن ہی نہیں ویسے بھی یوم حشر کیلئے پیچیدگیاں پیدا کرنا ہمیں پسند نہیں ہے۔ ایک دن رنگ کا برش زمین پر رکھ کر بڑے غور سے ہماری طرف دیکھنے لگے ہم پریشان ہوگئے دل میں سوچا شاید ہم سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ ابھی ہم اپنے دفاع کے لیے کچھ جملے ترتیب دے ہی رہے تھے کہ ان کی کرخت آواز ہماری سماعتوں سے ٹکرائی: آپ کے یہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بہت زیادہ ہوتی ہے ہم نے جواباً عرض کیا جناب اس میں ہمارا کیا قصور ہے اور پھر یہ صرف ہمارا مسئلہ تو نہیں ہے سارے وطن عزیز میں یہی صورتحال ہے۔ ہر گلی کوچے میں لوگ احتجاج کر رہے ہیںلیکن توانائی کا یہ بحران حل ہونے کا نام ہی نہیں لیتا بس ہمہ یاراں دوزخ والی بات ہے۔ انہوں نے ہماری بات سن کر پہلے تو ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا پھر بڑے طنزیہ اندا ز میں کہنے لگے جناب آپ کس دنیا میں رہتے ہیں اب بھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں لوڈ شیڈنگ بالکل نہیں ہوتی مجھے ایسی بہت سی جگہوں پر کام کرنے کا اتفاق ہوا ہے سارے ڈرامے تو صرف اور صرف غریب لوگوں کے لیے ہیں پھر اپنے ہاتھوں سے چونے کی میل اتارتے ہوئے بولے اسی لیے تو اب میری بھی عادتیں بگڑ گئی ہیں اب بجلی کا جانا مجھے بری طرح کھٹکتا ہے!۔

متعلقہ خبریں