Daily Mashriq


کے پی پولیس کے خلاف شکایات میں اضافہ

کے پی پولیس کے خلاف شکایات میں اضافہ

قارئین کرام کے خطوط اور برقی مراسلہ جات کی تسلسل کیساتھ بڑی تعداد میں وصولی جہاں حوصلہ افزاء امر ہے وہاں مشکل یہ ہے کہ ان تمام کو کیسے کالم میں سمودیا جائے۔ میرے نزدیک مسئلہ مسئلہ ہوتا ہے اور اس کا حل اس سے دو چار ہر فرد کا بنیادی حق اور متعلقہ حکومتی محکمے کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ قارئین کرام کے مسائل کو حتی الوسع ا ختصار کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعداد میں کالم میں سمو دینے کی اس امید کیساتھ سعی کی جارہی ہے کہ ارباب حل وعقد اس سلسلے میں سنجید گی اور ہمدردی کا مظاہرہ کرینگے ۔ گوجر گڑھی مردان سے ایک قاری نے ایک ایسے اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے جو صرف ان کے علاقے کا نہیں پورے خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے کہ عطائی جن کے پاس کبھی کبھی کوئی چھوٹا موٹا ڈپلومہ ہوتا ہے اور اکثر کے پاس نہیں ہوتا مگر وہ ہر بیماری کا علاج کرتے ہیں اور خود کو سپیشلسٹ ظاہر کرتے ہیں ۔ یہ لوگ ادویات بھی جعلی دیتے ہیں ۔ محکمہ صحت اور ڈرگ انسپکٹر ز خدارا لوگوں کی جانوں سے کھیلنے والے ان عاقبت نااندیشوں کیخلاف کارروائی کریں۔ ایک قاری نے سوال کرتے ہوئے اس کا جواب بھی دیا ہے کہ آخر کیوں سارے سرکاری فنڈز مردان اور صوابی کیلئے مختص ہوتے ہیں اسلئے کہ یہ عاطف خان اور شہرام ترکئی کے علاقے ہیں ۔ سپیکر اسد قیصر اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے حلقوں میں بھی فنڈز کی کمی نہیں یہ دستور حکمرانان وقت ہے کہ جو اقتدار میں ہوا پنے حلقے کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز بٹور تا ہے اس میں کوئی ایک قصور وار نہیں روایت ہی یہی چلی آرہی ہے ۔ بابافضل الرحمن کہتے ہیں کہ 1956سے ان کو کوئی انصاف والا نظر نہیں آیا۔ پاکستان میں قانون صرف غریب کیلئے ہے بااثر کیلئے نہیں ۔ اس مشاہدے سے سوائے اتفاق کے کوئی چارہ کار نہیں ہمارے معاشرے میں جس دن انصاف آئے اور قانون کی بالا دستی ہو تو پھر سمجھو ہمارے بڑے بڑے مسائل بھی ختم نہیں تو کم ضرور ہونگے۔ دعاہی کی جا سکتی ڈسٹرکٹ ہنگو سے ایک مہربان لکھتے ہیں کہ ہنگو میں پولیس راج ہے ۔ پولیس اور ٹریفک اہلکار ہر گاڑی سے بھتہ لیتے ہیں ۔ آئی جی اورڈپی پی او ہنگو چاہیں تو صورتحال بہتر ہوسکتی ہے ۔ ضلع دیر عبدالقدوس کو شکایت ہے کہ وہ ایک سال سے ڈرائیونگ لائیسنس کے حصول کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں مگر بقول ان کے پولیس ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے ممکن ہے وہ ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس نہیں کرسکے ہوں مگر بہرحال ان کی شکایت یہ ہے کہ ٹال مٹول سے کا م لیا جارہا ہے جس کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں ۔ ڈی پی او دیر لوئر تیمرگرہ کے اس رہائشی کا مسئلہ حل کروا سکیں تو غریب آدمی روزگار کر کے دوچار پیسے کمانے کے قابل ہو جائے گا۔ زاہد علی محب بانڈہ تحصیل پبی معذور ہونے کے باوجود ان کو بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ نہیں دیا گیا ۔ بی آئی ایس پی کے اعلیٰ حکام اس معذور شخص کا مسئلہ حل کروا کر ثواب دارین اور دعائیں کیوں حاصل نہیں کر تے ۔ چارسدہ کے مکمل شاہ کو شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کی روک تھام نہ کرنے پر پولیس سے شکایت ہے ۔ ڈی پی او چار سدہ کو نوٹس لینا چاہئے۔ یونین کونسل گڈی خیل زریں کلے ضلع کرک کے نور جمال کو شکایت ہے کہ ان کی پوری یونین کونسل میں آبنوشی کی سہولت دستیاب نہیں ممکن ہے پینے کے پانی کی شدید قلت ہوگی ۔ بجلی نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ ہسپتال کا کوئی وجود نہیں انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے توجہ کا مطالبہ کیا ہے تو قع ہے کہ وزیر اعلیٰ اس مسئلے کا سنجید گی سے نوٹس لیں گے اور کم از کم آبنوشی کی ناپید گی یا قلت کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کر وا ئیں گے۔ شانگلہ سے سلیم خان کا مراسلہ ہے کہ محکمہ زکوۃ وعشر کا آڈٹ سٹاف گزشتہ پندرہ سالوں سے فکس تنخواہ پر کام کر تا ہے ان کو ریگولر کیا جائے۔ ہم ایگریکلچرل یونیورسٹی سکول اینڈ کالج میں پچھلے بیس سال سے درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں لیکن ہمیں مستقل ملازمت نہیں دی جارہی اس سلسلے میں موجودہ وی سی اور سابقہ ادوار کے وی سی صاحبان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ ایسا لگتا ہے کہ جب تک کوئی سڑکوں پر نہ نکلے تو ان کا سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہم پچھلے بیس سال سے خوار ہو رہے ہیں، اللہ کے بعد آپ کا آسرا ہے کہ ہمارا مسئلہ ارباب اختیار تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں۔ گاؤں دلو خیل لکی مروت کے حکمت اللہ درخواست گزار ہیں کہ اس کے گائوں کے مکتب سکول کو پہلے ختم کیا گیا پھر بحال کیا گیا اگر اس کو پرائمری کا درجہ دیا جائے تو بچوں کو چھ کلو میٹر دور جاکر پڑھنے کی مشکل پیش نہ آئے ۔ پچاس طلباء گورنمنٹ کامرس اینڈ مینجمنٹ کالج زرکی نصرتی تحصیل تخت نصرتی ضلع کرک میں وزیراعظم یوتھ سکیم یعنی (نیوٹیک) کی طرف سے سلیکٹ ہوئے۔DIT ، بک کیپنگ اور اکاؤنٹ کیلئے پچیس پچیس طلباء کیلئے چھ ماہ پر مشتمل کورس تھا۔ چار ماہ تک حکومت کی طرف سے تین ہزار وظیفہ ملتا رہا لیکن دو ماہ کا وظیفہ باقی ہے۔ ڈی جی نیوٹیک اسلام آباد ذوالفقار احمد چیمہ کو بھی انہوں نے کئی خطوط ارسال کئے اور ڈی جی نیوٹیک کے پی سے بھی بار بار فون پر بات ہوتی ہے لیکن ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے لوگوں کے مسائل ایسے نہیں کہ متعلقہ حکا م کو معلوم نہ ہوں سب نوشتہ دیوار ہے صرف توجہ کی ضرورت ہے۔ بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کا مقامی طور پر حل ممکن بھی ہے اور اس کیلئے وسائل اور فنڈز بھی موجودہوتے ہیں اس کے باوجود لوگوں کو کن مسائل و مشکلات کا سامنا ہے سب کے سامنے ہے ۔ اس مرتبہ پولیس کے خلاف شکایات کی تعداد سب سے زیادہ رہی جو تحریک انصاف کے قائد کے ، کے پی پولیس کے حوالے سے دعوئو ں کی نفی کرتی ہے ۔ حکام کی تھوڑی سی توجہ سے لوگوں کے بہت سارے مسائل کا حل باآسانی ممکن ہے مگر توجہ کون دے ؟۔

متعلقہ خبریں