Daily Mashriq

کیا عمران خان جیت رہے ہیں؟

کیا عمران خان جیت رہے ہیں؟

میں اپنی پچھلی تحریروں میں ان خصوصیات کا احاطہ کر چکا ہوں جو عمران خان کو اپنے مخالفین سے ممتاز کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں روزگار کمانے کیلئے بذات خود محنت کی ہے۔ روزگار کے واسطے کسی بھی میدان میں محنت کرنا اور کامیاب ہونا انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد اور دوسروں کی ضروریات میں ایک توازن قائم رکھتے ہوئے حالات کا تجزیہ کرنے کے قابل ہو جائے۔ یہ ایک ایسی مہارت ہے جو سیاست میں بھی بہت ضروری ہوتی ہے۔عمران خان کا نواز شریف کی رہائی کو ایک بڑی رقم کے ضماتی بانڈ سے مشروط کر دینا ایک عمدہ سیاسی چال تھی۔ اگر نواز شریف یہ بانڈ بھرنے کو تیار ہو جاتے تو بلاشبہ چور کہلائے جاتے اگرچہ کچھ تبصرہ نگار اسے انصاف کے دہرے معیار سے تعبیر کر رہے ہیں۔ بہرحال ایک بات تو طے ہے کہ عمران خان اس سب طوفان کے بعد بھی اپنے احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے ایجنڈے پر بنا کوئی لچک دکھائے ڈٹے کھڑے ہیں۔عمران خان کے مخالفین کیلئے یہ سیکھنے کی بات ہے کہ کس طرح ان کے مشیروں کے مشورے انہیں اپنے مخالفین سے ممتاز رہنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس دفعہ ان مشیران نے ہی عمران خان کو ایک مشکل صورتحال کو احسن انداز میں کھیل جانے کے قابل بنایا ہے۔ ہمارے باقی راہنماؤں کو بھی اپنے مشیروں کی تجاویز اور مشوروں کے ممکنہ نتائج کو پہلے سے پرکھنے اور ان کا تجزیہ کرنا سیکھنا چاہئے۔بدقسمتی سے اب بھی اس ریاست پاکستان میں سب کچھ ٹھیک نہیں۔اگرچہ عمران خان ظاہری طور پر سیاسی فتوحات سمیٹ رہے ہیں مگر اصل میں انہیں ابھی کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا ہے۔ عمران خان بھٹو صاحب کی طرح اس ملک کے عوام کو اپنے نظرئیے کی بنیاد پر منقسم کر کے، اپنے ساتھ ملا کر اقتدار میں آئے ہیں۔ بھٹو صاحب کا نظریہ ٹھوس معاشی، قومی اور غریب نواز ایجنڈے پر منتج تھا اور جیسا کہ انہیں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑا، ٹھیک اس طرح عمران خان کو بھی یہ خطرہ لاحق ہے کہ طاقتور عناصر مل کر انہیں سیاسی طور پر ختم کرنے کے درپے ہیں۔ بھٹو صاحب کو اس خلیج کا بخوبی اندازہ تھا جس کی بنیاد پر انہوں نے اقتدار اپنے نام کیا۔ وہ اپنے دور حکومت کے پہلے دو سالوں میں ہی اس خلیج سے پیدا ہونیوالے مستقبل کے نتائج کو بھی بھانپ گئے تھے۔ سو انہوں نے اپنے اقتدار کے دوسرے نصف حصے میں اپنے نظریات اور عزائم میں کچھ لچک پیدا کی اور اشرافیہ پر گرفت کچھ ڈھیلی کرنے کیساتھ ساتھ مذہبی طبقات کی مشاورت سے بھی کچھ اصلاحات متعارف کرائیں۔ مگر اس کا انہیں نقصان یہ ہوا کہ وہ آخر میں تنہا رہ گئے۔ انہوں نے پاکستان میں بائیں بازو کو اتنا مضبوط اور مستحکم نہ کیا تھا کہ وہ ان کیلئے کچھ مزاحمت کر سکتا۔ اشرافیہ کیساتھ نرمی اور مثبت اقدامات کے باوجود وہ ان کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے سو جب ضیاء الحق اقتدار میں آئے، تو اس وقت ان کیلئے بھٹو صاحب کا شکار کرنا نہایت آسان ہو چکا تھا۔عمران خان کو بھی شاید یہی لگتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے بدعنوانی کے خاتمے کے ایجنڈے پر کسی بھی طرح کی لچک کا مظاہرہ کیا تو وہ بھی بھٹو صاحب کی طرح ایک آسان شکار بن کر رہ جائیں گے۔ مگر بدقسمتی سے عمران خان کے پاس بھٹو کی طرح کوئی ایسا معاشی نظریہ نہیں جو اس ملک کو اس غربت اور ابتری کے چنگل سے آزاد کرا سکے جس کا یہ پرانے پاکستان کے دور میں شکار ہوا تھا۔اگر ہم ان پچاس بڑی کاروباری شخصیات پر نظر دوڑائیں جنہیں ہمارے سپہ سالار پچھلے دنوں ملے تھے، تو ہم یہ پائیں گے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی کاروباری شخصیت ایسی نہیں جسے بین الاقوامی سطح پر اپنے جدت یا طرزتجارت پر تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا ہو۔ مزید برآں ان میں سے کوئی بھی کاروباری شخصیت ایسی نہیں جس نے اپنے کاروبار میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں خاطرخواہ رقم خرچ کی ہو۔ ان کی تمام تر مہارت حکومت کیساتھ مصالحت کرنے اور ملکی معیشت کو اپنے کاروباری مفاد کیلئے استعمال کرنے میں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ اسے یوں ہی رکھنا چاہتے ہیں۔پاکستان کے عوام اب تک پرانے پاکستان میں ہی جی رہے ہیں جہاں یہ اپنے کاروبار پر عائد ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہتے۔ ان کیلئے ہر دن ریاست کیساتھ کسی مک مکا یا مصالحت پر مبنی ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں روز کی بنیاد پر پولیس اہلکاروں سے بچنے، پانی کا کنکشن لگوانے، مقامی غنڈوں یا استحصالی طبقے کے شر سے بچنے کیلئے انہیں خوش رکھنے، صحت کی بنیادی سہولیات حاصل کرنے، فصلوں میں پانی کی فراہمی یقینی بنوانے اور اس جیسی دیگر چھوٹی چھوٹی چیزوں کیلئے ریاست کیساتھ مک مکا یا مصالحت کر لینا یہاں کے لوگوں کا معمول بن چکا ہے اور یہ معمول ہماری گلا گھونٹتی معیشت کا جزو ہے۔عمران خان کو ایک ایسا معاشی نظریہ متعارف کرانے کی ضرورت ہے جس میں حکومت کا عمل دخل کم اور عوام کی شمولیت زیادہ ہو، جس سے ملک ترقی کرے اور خوشحالی کے در کھلیں مگر فی الحال تو یہ حکومت اس سب کا اُلٹ ہی کئے جا رہی ہے۔ عمران خان اشرافیہ کے معیشت پر قبضے کو ختم کرنے اور ترقی وخوشحالی کا ایجنڈا متعارف کرانے کی بجائے ایف بی آر کے ہاتھوں مزید ٹیکسوں کے نفاذ کی راہ اپنائے ہوئے ہیں اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ حکومتی محکمے مزید طاقتور ہوتے ہی ملکی ترقی میں ہاتھ بٹانے کی بجائے کاروباری طبقے سے رشوت اور پیسہ بنانے کی نئی دکانیں کھول لیں گے۔ بلاشبہ یہ غیرمستحکم معاشی صورتحال عمران خان کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں