Daily Mashriq

تنہا کھڑا ہوں میں بھی سرکربلائے عصر

تنہا کھڑا ہوں میں بھی سرکربلائے عصر

پشاور کے جس علاقے میں ہم نے اپنا بچپن، لڑکپن اور جوانی کا کچھ عرصہ گزارا وہاں صابن کا ایک کارخانہ ہوا کرتا تھا، اس کارخانے کے باہر صابن بنانے کیلئے ایک کیمیکل جسے سیلیکیٹ (Celicate) کہتے ہیں کے لاتعداد ڈرم رکھے ہوتے تھے، کارخانے کا مالک ہماری برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے بڑے بیٹے نے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر سیاست سے گہری دلچسپی رکھتے تھے، ابتداء میں تو وہ اپنے بزرگوں ہی کی طرح باچاخان کے پیروکار تھے مگر بعد میں ان کی دوستی شہر کے ایک سیدگھرانے کے چشم وچراغ کیساتھ ہوئی، اس دوران میں ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کا نظام دیا تو اسی سید گھرانے کی جانب سے ایوب خان کی جماعت کنونشن مسلم لیگ میں شمولیت کی وجہ سے یہ نوجوان بھی اسی بلدیاتی نظام میں چیئرمین بن جانے کے بعد کنونشن مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور اسی ناطے انہوں نے اپنے علاقے کی بہت خدمت کی، موصوف کے صابن کے کارخانے میں یعقوب نامی ایک نیم پاگل سا شخص کام کرتا تھا، دراصل وہ عام حالات میں تو بالکل ٹھیک ہوتا تھا مگر تھوڑا سا کھسکا ہوا تھا اور کسی بات پر غصہ ہوجاتا تو کارخانے کے باہر رکھے ہوئے سیلیکیٹ کے کسی ڈرم پر چڑھ کر چھیڑنے والوں کو بے نقط سناتا، جبکہ اپنے مالک کے سیاست میں حصہ لینے کے دوران جب بھی شہر میں کنونشن لیگ کا کوئی جلسہ یا اجتماع ہوتا تو یعقوب بھی اپنے مالک کیساتھ شرکت کرتا، تقریریں غور سے سنتا اور واپس آکر کسی ڈرم پر چڑھ کر خود بھی بے تکی سی تقریریں جھاڑتا، لوگ اس کی تقریریں سنتے، تالیاں بجاتے، قہقہے لگاتے اور پھر نیچے سے کوئی من چلا ایسی بات کرتا کہ یعقوب کو غصہ آجاتا تو اس کا ری ایکشن دیدنی ہوتا، قریب کے گھروں میں یعقوب کی اونچی آوازیں بھاشن دینے کی آوازیں آتیں تو خواتین کہتیں ''یعقوب پھر ڈرم پر چڑھ گیا ہے''۔

ہماری سیاست پر بھی کنٹینروں کی آڑ میں ''یعقوب کے ڈرم'' کا سایہ پڑا ہوا ہے، ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری کے چند برس پہلے کے (پیپلز پارٹی دور سے) کنٹینر سیاست سے ہوتی ہوئی یہ صورتحال 2014ء کے126دن کے ''کزنز'' کنٹینروں سے ہوتے ہوئے حالیہ دنوں میں مولانا کے15دنوں کے کنٹینر تک اگرچہ بظاہر اختتام تک پہنچ جانے کے بعد ملکی سیاسی حالات میں یک گونہ ٹھہراؤ آجانا چاہئے تھا، مگر نہ تو یہ سلسلہ وہاں جا کر تھما کہ اس کے بعد شہر شہر ناکے دھرنے لگ گئے تھے اور عام لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی تھی، یہاں تک کہ پشاور ہائی کورٹ نے اس صورتحال کیخلاف رولنگ بھی دیدی، تاہم گزشتہ روز رہبر کمیٹی نے ''گلی گلی'' ناکے ختم کر کے پلان کے تیسرے حصے پر عمل جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم اس دوران کتنے ''سیاسی یعقوبے'' سامنے آتے رہے بلکہ اب بھی آرہے ہیں، اس کا اندازہ عوام کو گزشتہ روز ایک بار پھر ''کنٹینر سیاست میں استعمال ہونے والی زبان'' کا مزہ چکھنے کا موقع ملنے سے ہوگیا ہوگا، دراصل کچھ لوگوں کو اب تک یقین ہی نہیں آرہا کہ ان کیلئے حالات نے کروٹ لیکر انہیں کنٹینر سے اُتارنے کا ''سنہری موقع'' دلا دیا ہے اور اب کنٹینر سیاست کا دور نہیں رہا مگر جس طرح یعقوبے کو لوگ کوئی جملہ اچھال، کوئی طنزیہ تیر داغ کر اس کی رگ کمزوری کو مجروح کر دیتے تھے جس کے بعد وہ اپنے ہوش وحواس میں نہیں رہتا تھا، اسی طرح کی صورتحال ہماری سیاست کے ''یعقوبوں'' کیساتھ بھی ہے، سیاسی تجربوں میں یہ بات تواتر کیساتھ اور تیزی سے سامنے آرہی ہے کہ سیاست کا رخ بدل رہا ہے، جس کے بعد بعض لوگ ''ڈرم'' پر چڑھ کر کف در دہاں کی کیفیت سے دوچار ہو رہے ہیں، یعنی بقول قندیل جعفری

آندھیاں اس کے تعاقب میں تھیں سرگرم عمل

خوف کا اس کی اُمیدوں پر اندھیرا چھا گیا

جب سنی قندیل اس نے رت بدلنے کی خبر

وہ سیاستدان تہہ خانے سے چھت پر آگیا

طویل ترین دھرنے کے بعد اب کے مختصر ترین (پندرہ سولہ روزہ) دھرنے سے کیا حاصل ہوا، اس پر تبصرے بھی جاری ہیں۔ ایک جانب یہ تبصرہ کہ خالی ہاتھ آئے خالی ہاتھ گئے، دوسری جانب زیرلب مسکراہٹ کیساتھ یہ تبصرہ کہ ہم نے وہ کچھ حاصل کرلیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، اقتدار کی چولیں ہل گئی ہیں، بس ایک دھکا اور چاہئے اور دھڑن تختہ، تیسرا تبصرہ یہ ہے کہ مولانا صاحب کو جو دیکر واپس بھیجا گیا ہے وہ ایک امانت ہے، جبکہ صحافتی سیاسی تجزیہ کار شہراقتدار کے اردگرد حالات میں بدلاؤ کی خبریں دے رہے ہیں، تاہم وثوق سے کوئی بھی کچھ بھی کہنے کو تیار نہیں ہے جبکہ تقاریب میں جن الفاظ کا تبادلہ کیا جارہا ہے ان سے انداہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہواؤں کا رخ تبدیل ہو رہا ہے، زمستان کی کیفیت پت جھڑ کی خبر دے رہی ہے، پھر بھی عقل وخرد کو ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے، رویوں پر سوچ کی کمندیں ڈال کر بے قابو گھوڑے کو روک لگا دی جائے تو راستے کی ناہمواری کو سکب خرامی میں بدلا جا سکتا ہے۔ وگرنہ صورتحال بقول شاعر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ

تنہا کھڑا ہوں میں بھی سرکربلائے عصر

اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے

متعلقہ خبریں