Daily Mashriq

پختونخوامیں 10 ماہ کے دوران دہشتگردی اورجرائم کی شرح میں کمی

پختونخوامیں 10 ماہ کے دوران دہشتگردی اورجرائم کی شرح میں کمی

پشاور(کرائمزرپورٹر) خیبر پختونخوا میں رواں سال کے 10 ماہ میںجرائم کی شرح 2018کے مقابلے میں کم رہی۔اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے واقعات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے مقابلے میں رواں سال کے 10مہینوں میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ تقابلی جائزے کے مطابق پچھلے سال اسی مدت کے دوران اغواء برائے تاوان کے 11 واقعات کے مقابلے میں رواں سال 6 واقعات ہوئے جوکہ سال گزشتہ سے5عددکم ہیں اور 45فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔اسی طرح گزشتہ سال 16613 اشتہاری مجرمان کے مقابلے میں رواں سال کے تقابلی مدت کے دوران 18011اشتہاری مجرمان گرفتار ہوئے جو کہ 1398 زیادہ ہیں۔گذشتہ سال قتل کے 2044 جبکہ رواں سال 2027واقعات رونما ہوئے جو کہ 17عدد کم ہیں۔جرائم برخلاف املاک میں سال 2018میں چوری کے1587واقعات رونما ہوئے تھے جبکہ سال 2019کے دوران چوری کے 1568 رونما ہوئے۔اسی طرح سال 2018میں بھتہ خوری کے 75 واقعات رونما ہوئے تھے۔جبکہ سال 2019میںبھتہ خوری کے 73واقعات رونما ہوئے جو کہ 2عدد کم ہیں اور 3فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ سال 2018 میںزبردستی گاڑی چھیننے کے 28 واقعات اور سال 2019 میں 23 واقعات رونما ہوئے جو کہ پچھلے سال سے 5کم ہیں اور 18فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ گذشتہ سال ہوائی فائرنگ کے حوالے سے بھی یہ سال بہتر رہا۔ 5693 کے مقابلے رواں سال 4896 واقعات رونما ہوئے۔رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ پچھلے سال اسی مدت کے دوران75واقعات رونماہوئے تھے جبکہ رواں سال72واقعات رونماہوئے جوکہ پچھلے سال کے مقابلے میں 3عدد کم ہیں۔منشیات فروشوں کے خلاف بھی پولیس کی کارکردگی ہر حوالے سے بہتر رہی۔ گذشتہ سال اسی مدت کے دوران 16221.632 کلو گرام منشیات (چرس، ہیروئن اور آئس) اور رواں سال 19291.681 کلو گرام پکڑی گئی جوکہ 3070.049 کلو گرام زیادہ ہیں اور 19فیصد زیادتی کو ظاہر کرتی ہیں۔اسلحہ آرڈیننس کے تحت گذشتہ سال 25347کیسز درج ہوئے تھے جبکہ رواں سال 27077 کیسز درج ہوئے جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 1730 عدد زیادہ ہیں۔اسی طرح 2018 میں 706عدد ڈائنامائٹس اور رواں سال کے دوران 2006 عدد ڈائنامائٹس پکڑے گئے جو کہ 1300عدد زیادہ ہیں۔ اسی طرح نیشنل ایکشن پلان کے تحت بھی خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی انتہائی تسلی بخش رہی۔ اس ضمن میں ہوٹلوں کے خلاف گذشتہ سال 1319کیسز جبکہ رواں سال 1410 کیسز درج ہوئے جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں91 عدد زیادہ ہیں۔ کریہ داری قانون کے تحت 12490کیسز جبکہ رواں سال 12524کیسز درج ہوئے جو گذشتہ سال کے مقابلے میں34عدد زیادہ ہیں۔

متعلقہ خبریں