Daily Mashriq

افغانستان کے افسوسناک واقعات

افغانستان کے افسوسناک واقعات


افغانستان کے دارالحکومت کابل کی مساجد میں دو الگ الگ دھماکوں کے نتیجے میں 60 افراد ہلاک اور55 زخمی ہونے کا واقعہ انتہائی دلخراش اور قابل مذمت ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔افغانستان کی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ کابل کی ایک امام بارگاہ میں دھماکے سے 30 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے۔بعد ازاں غور کے علاقے میں واقع ایک اور مسجد میں دھماکا ہوا جس سے مزید 33 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔ داخلی امن کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا رہنے کی وجہ سے افغانستان ایک پرخطر اور عدم استحکام سے دوچار ملک بن چکا ہے جبکہ گزشتہ روز افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان نیشنل آرمی کے ایک بیس کیمپ پر خود کش حملے کے نتیجے میں 41 اہلکار ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے تھے جبکہ دو روز قبل جنوب مشرقی صوبے پکتیا میں قائم پولیس ٹریننگ سینٹر پر ہونے والے خود کش حملے اور مسلح جھڑپ کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔افغانستان میں جہاں داعش کی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے وہاں دوسری جانب امریکہ کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف ڈرون کارروائیوں میں اچانک تیزی آئی ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں پاک افغان سرحد پر ہونے والے ڈرون حملے میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)سے علیحدہ ہونے والے گروپ جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی اپنے 9 ساتھیوں کے ساتھ ہلاک ہوگئے تھے۔قبل ازیں پاک افغان سرحد پر ہونے والے ڈرون حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے جن کے بارے میں سیکورٹی حکام کا دعویٰ تھا کہ وہ دہشت گرد تھے۔ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان سیکورٹی اور سلامتی کے لحاظ سے اب ایک ایسا ملک بن چکا ہے جس کے امن اور حالات کے بارے میں کوئی پیشگوئی بھی نہیں کی جاسکتی۔ افغانستان میں داخلی امن و استحکام کا نظام اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ شدت پسند عناصر جب چاہتے ہیں اس کے بخیئے ادھیڑ دیتے ہیں۔ ایک جانب جہاں امریکہ سرحدی علاقوں میں تواتر سے ڈرون حملوں کے ذریعے دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کی مہم پر ہے تو دوسری جانب سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بقول امریکہ افغانستان میں داعش کو اسلحہ سپلائی کر رہا ہے اور داعش کو افغانستان میں ہیلی کاپٹروں پر رسد سپلائی کرکے اس کے قدم جمانے کی سعی میں ہے۔ حامد کرزئی کے اس بیان پر یقین کرنا مشکل اس لئے ہے کہ امریکہ جو افغانستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنے چلا آیا تھا ایسا کیوں کرے گا لیکن داعش کے امریکی زیر اثر ہونے کے شواہد اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی میں داعش کے قوت پکڑنے کااقدام بھی کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ قطع نظر اس صورتحال کے داعش کا اب افغانستان میں شیعہ برادری کی منظم نسل کشی کا مقصد جو بھی ہو لیکن اس کے پس پردہ منصوبہ بندی میں پاکستان کے ساتھ افغانستان کی پہلے سے موجود غلط فہمیوں میں اضافہ کرنا اور پاکستان میں فرقہ وارانہ منافرت و تصادم کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس مذموم منصوبے میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راکا گٹھ جوڑ نا ممکن نہیں۔ ایک قابل غور بات بہر حال یہ ضرور ہے کہ چھوٹے واقعات کو چھوڑ کر اکثر بڑے واقعات سرحد کے دونوں جانب آگے پیچھے یا تھوڑے سے وقفے کے بعد ہوتے ہیں جس کا پس پردہ مقصد دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے ان کو مد مقابل لانا ہے۔ اس وقت جبکہ ایک جانب امریکہ میں پاکستان اور افغانستان نے حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بات چیت کا سلسلہ شروع کررکھا ہے وہاں اس موقع پر سرحد کے دونوں جانب اس طرح کے واقعات کا مقصد ان مساعی کو سبو تاژ کرنا ہی گردانا جائے گا۔ یہاں اس شبے کا اظہار بے موقع نہیں کہ کہیں امریکہ خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لئے دوہرے کردار کا تو مظاہرہ نہیں کر رہا ہے۔ اس خطے کا دنیا بھر کے حساس اداروں کے اہلکارں کا آماجگاہ ہونا اور افغانستان کے داخلی معاملات کا نہ سدھرنے والا بگاڑ وہ عوامل ہیں جس سے نہ صرف افغانستان کے امن کو خطرات لاحق ہیں بلکہ خطے کے ممالک پر اس کے اثرات بھی فطری امر ہے۔ اگر امریکہ خطے میں امن کا واقعی خواہاں ہے تو اسے بھارت کو تھانیداری دینے کی سوچ کو ترک کرنا پڑے گا اور افغانستان میں قیام امن کے لئے کابل کو حقیقی داخلی قوتوں سے معاملت کی آزادی دینے پر آمادگی کا اظہار کرنا پڑے گا۔ خطے کے دیگر ممالک سے بھی حقیقی مشاورت اور طے پانے والے معاملات کو بالاتفاق آگے بڑھانے کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ افغان حکمرانوں کو دوست اور دشمن میں امتیاز کرکے اپنے فیصلے خود کرنے کی ہمت پیدا کرنی پڑے گی۔ علاوہ ازیں کوئی ایسی صورت نظر نہیں آتی کہ خطے میں امن و استحکام کی بنیاد پڑے۔ افغانستان کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں بھی نرم پڑتے حفاظتی اقدامات کو ایک مرتبہ پھر سخت کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔

اداریہ