صحت کے شعبے میں جگ ہنسائی کا ایک اور موقع

صحت کے شعبے میں جگ ہنسائی کا ایک اور موقع

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں جعلی ڈاکٹر کو کام کرنے کی اجازت دینے میں غلطی کا اعتراف ایک مثبت طرز عمل کا مظاہرہ ہے کسی اگر مگر کے بغیر اگر اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے تو درگزر کیا جانا چاہیئے لیکن اجازت دینے سے متعلق ہسپتال کے ڈائریکٹر نے جوتو جیہات پیش کی ہیں وہ قابل قبول نہیں ۔ ہمارے تئیں سرکاری ہسپتالوں میں ایک باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق ہی ڈاکٹروں کو مریضوں تک رسائی کی اجازت ہوئی ہے اور اصول و طریقہ بھی یہ ہے کہ بنیادی اہلیت دیکھے بغیر کسی شخص کو سرکاری کاموں کی انجام دہی کی اجازت نہیں ہوئی اور نہ ہی دستاویزات کے بغیرایسا ممکن ہوتا ہے ۔ یہاں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہوئی نکلی کہ کسی تصدیق اور اسناد دیکھے بغیر محض ایک فردواحد کی مرضی پر ایک ایسے شخص کو مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت دی گئی جس کا طب کی دنیا سے کوئی واسطہ اور کوئی سروکار ہی نہ تھا۔ اس شخص کے حوالے سے دست درازی کی شکایات بھی ملیں لیکن پھر بھی کسی کا ماتھا نہ ٹھنکا اور بالآخر بھانڈہ پھوٹ گیا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک نظام میں ایک شخص یوں داخل ہوا کہ پھر کسی کو اس کی خبر لینے کا خیال ہی نہ آیا ۔ ہمارے تئیں جس ذمہ دار شخص نے اس کو اجازت دی تھی صرف وہ ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرتا بلکہ ہسپتال کے ڈائریکٹر ، ایم ایس، ڈی ایم ایس اور آر ایم او کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام براہ راست نرسنگ کا عملہ بھی بالواسطہ ذمہ دار ٹھہرتا ہے جنہوں نے اس ضمن میں نشاندہی میں غفلت کی یا پھر ان کو اس امر کا احساس تک نہ ہوا کہ مریضوں کا علاج کرنے والا جعلی ہے۔ یہ ایک ایسی انہونی ہے جسے پر اس طرح سے مٹی نہ ڈالی جائے بلکہ اس امر کی آزادانہ تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی جائے اور اس کی رپورٹ عام کی جائے تاکہ عوام کو علم ہو کہ کیا کارروائی عمل میں لائی گئی۔ دیگر بڑے ہسپتالوں میں بھی اس طرح کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ تمام سرکاری ونجی ہسپتالوں کی انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنے عملے کی اسناد کی جانچ پڑتال کرے اور ان کے تقررنامے دیکھے جائیں تاکہ اس قسم کا کوئی اور شخص مریضوں سے فراڈ کرتا ہوا نہ پکڑا جائے اور ان کیلئے جگ ہنسائی کا باعث نہ بنے۔ چترال میں ایمبولینس کو کوڑا کرکٹ کیلئے استعمال میں لانے کی طرح پشاور کے تیسرے بڑے تدریسی ہسپتال میں جعلی ڈاکٹر کا انکشاف محکمہ صحت کیلئے ایک اور جگ ہنسائی کا باعث لطیفہ ہے جو ہنسنے اور رونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پنجاب میں رائے ونڈ کے بعد لاہور کے ایک اور بڑے ہسپتال کے ایم ایس کے دفتر کے باہر مریضہ کے بچہ جنم دینے کا واقعہ بھی اتنا ہی افسوسناک ہے جتنا یہاں کے واقعات، ان واقعات کی تفصیل دنیا کو معلوم ہوگی تو پاکستان کے بارے میں ان کا تاثر کیا ہوگا جس کا امیج ہم روز لفظوں کے ذریعے بنانے کی تو بہت کوشش کرتے ہیں مگر عملی طور پر جگ ہنسائی ہی کے کاموں میں ملوث ہونے سے ذرا نہیں ہچکچاتے ۔

اداریہ