سو دیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے

سو دیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے

کیا یہ مکافات عمل ہے ؟ شاید ایسا ہی ہے ، بات سمجھنے کیلئے بہت پیچھے جانا پڑے گا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب آمرجنرل ضیاء الحق نے اپنے ہی بنائے ہوئے وزیر اعظم کو اس وقت وزارت عظمیٰ سے بر طرف کیا جب ابھی ان کا طیارہ فضائی حدود ہی میں تھا اور جب طیارہ زمین کو چھونے کے بعد بیرونی دورے سے واپس آنے والے وزیراعظم وی آئی پی لائونج میں داخل ہوئے تو انہیں ان کی برطرفی کی اطلاع دی گئی ۔ شریف النفس انسان تھے ، خاموشی سے سر جھکا کر چلے گئے ، تاہم اس مسلم لیگ کی صدارت انہی کے پاس تھی جو غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے انعقاد کے بعد منتخب شدہ اسمبلی ہی کے اندر سے تخلیق کر کے ضیاء الحق نے خود اپنے ہی اصولوں کی نفی کر دی تھی ، اور اب وہی مسلم لیگ میاں نواز شریف کے نام سے وابستہ ہونے کی وجہ سے نون لیگ کہلانے کے باوجود قائد اعظم کی اصلی مسلم لیگ ہونے کی دعویدار ہے ، حالانکہ اس سے بڑا جھوٹ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا ، کیونکہ پاکستان تقسیم ہونے کے بعد اصل مسلم لیگ (کسی حد تک ) کونسل مسلم لیگ کے نام سے زندہ تھی جس کے حصے بخرے کرتے ہوئے ایک دھڑا سردار شوکت حیات ، میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور دیگر مسلم لیگیوں کی قیادت میں باقی رہی ، ایک محدود حصے پر خان قیوم مرحوم نے قیوم لیگ کے نام سے قبضہ کیا ، جبکہ ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ نابود ہو کر دیگر گروپوں میں ضم ہوگئی ، اور کونسل لیگ نے بھی بعد میں فدا محمد خان مرحوم اور حامد ناصر چٹھہ کی قیادت میں ضیاء الحق کی جھرلو مارکہ مسلم لیگ کے ساتھ مل کر سیاست کو جاری رکھا جبکہ جونیجو مرحوم کے وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کئے جانے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہونے کے ناتے بالآخر اپنے قبضے میں لیکر جونیجو مرحوم کو مکمل طور پر اس سے بے دخل کر دیا ۔ گویا بقول میر محمد سجاد
اس زمانے میں دوستی کا رنگ
آن میں کچھ ہے ، آن میں کچھ ہے
تازہ ترین سیاسی خبروں کے مطابق اور بقول شیخ رشید ، مسلم لیگ (ن) میں دراڑیں واضح ہوتی جارہی ہیں۔مسلم لیگ میں دراڑوں کے حوالے سے جو بیان شیخ رشید نے دیا ہے اس کی تصدیق پاکستان کے تین اہم تجزیہ نگاروں نے مختلف چینلوں پراپنے تجزیوں کے دوران کیا ہے ، ایک اہم کالم نگار اور تجزیہ نگار ہارون الرشید نے ایک چینل کے پروگرام تھنک ٹینک میں بتایا کہ یہ خبر کئی روز پہلے سے انہیں معلوم تھی تاہم وہ نام لیکر کسی مشکل میں پڑنا نہیں چاہتے تھے ۔ اسی طرح ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ وہ بلاخوف تردید اس اطلاع کو نہ صرف درست سمجھتے ہیں بلکہ اس کی کسی تردید کا سامنا کرنے کو بھی تیار ہیں ، انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہ اطلاع میاں نواز شریف کو گزشتہ روز لندن میں پہنچائی گئی تو انہیں شدید دکھ اور افسوس ہوا ، جبکہ ایک اور اہم تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے البتہ اسے ایک اور نکتہ نظر سے دیکھا اور ذاتی تجربے ، معلومات اور میاں برادران کے ساتھ ذاتی تعلقات اور ملاقاتوں کے حوالے سے کہا کہ چھوٹے میاں ، نواز شریف کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ احتجاج کے دوران ہاتھ ہولا رکھیں اور کم از کم مارچ تک صبر کریں ، جب سینیٹ کے انتخابات میں پارٹی کو واضح اکثریت مل جائے تو اس کے بعد ایسی ترمیم کی جا سکتی ہے جس سے پارٹی کے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیابی مل سکتی ہے ، کیونکہ حال ہی میں جو ترمیم سامنے آئی اور جس رو سے میاں نواز شریف کو پارٹی قیادت دوبارہ مل گئی ہے ، اسے عدالت کسی بھی وقت آئین سے متصادم قرار دے کر رد کر سکتی ہے ، اس صورت میں پارٹی کی قیادت کسی اور کے حوالے کرنا لازمی ہو جائے گی ۔ ادھر دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو میں اس تاثر کو رد کر دیا کہ پارٹی میں رفٹ پڑی ہوئی ہے ، انہوں نے کہا کہ فارورڈ بلاک کی خبریں بالکل غلط اور بے بنیا د ہیں کیونکہ پارٹی کے ارکان اب بھی میاں نواز شریف کے ساتھ دلی وابستگی رکھتے ہیں اور جولوگ پارٹی میں دراڑ پیدا کر یں گے وہ آنے والے انتخابات میں زیرو ہو جائیں گے ۔ کوئی انہیں ووٹ نہیں دے گا بلکہ میاں نواز شریف جو حکم دیتے ہیں وہ اسی پر عمل کرتے ہیں ۔ اگر رانا ثناء اللہ کی بات کو درست سمجھ لیا جائے تو پھر میاں نواز شریف کبھی یہ کہتے ہوئے نہیں ملیں گے کہ
بہت بھروسہ تھاہم کو عدیل اپنوں کا
ہمارے کام تو آئی وفا کسی کی نہیں
یعنی میاں صاحب کو اس مکافات عمل سے گزرنا نہیں پڑ ے گا جس کی جانب کالم کی ابتداء میں اشارہ کیا گیا ہے ، یہ الگ بات ہے کہ اگر لیگ کے اندر ممکنہ پھوٹ کی باتیں درست نہیں ہیں تو اتنا ضرور ہے کہ جو لوگ میاں نوازشریف کو اقتدار سے الگ کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرنے میں کامیاب ہوئے وہ اب انہیں سیاست سے ہی نکالنے کی تد بیر کر رہے ہیں ، اورا س مقصد کیلئے وہ موجودہ حکومت کو جتنی جلدی ہوسکے گرانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ معاملات مارچ میں سینیٹ کے انتخابات سے پہلے نمٹا کر میاں نواز شریف کو مکمل طور پر بے دست وپا کر دیں ، اس لیئے وہ بھی اپنی چالیں چل رہے ہیں اور شیخ رشید نے ایک بار پھر حکومت کے خاتمے بلکہ مسلم لیگ (ن) کے بخئے ادھڑنے کیلئے مدت کا تعین کر دیا ہے ، سو دیکھتے ہیں کہ اب کی بار اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کہ بقول اشکر فاروق
خطیب شہر کی جنگ اب امیر شہر سے ہے
سو دیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے

اداریہ