سیاسی گفتگو اور اڑھائی فٹ کا بھتنا

سیاسی گفتگو اور اڑھائی فٹ کا بھتنا

اپنی محفلوں کے ذائقے بدلتے رہنا چاہیے سیاست پر کوئی کتنا بولے بیسیوں سیاستدان سب کی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہے سیاست پر گفتگو بڑی غیر منطقی ہوتی ہے اپنی حمایت میں دلائل پر دلائل دیے جاتے ہیں اس حوالے سے اوٹ پٹانگ دلائل دینے پر کوئی پابندی نہیں ہے اپنے پسندیدہ سیاستدان کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے دور کی کوڑیاں لائی جاتی ہیں اس کے غلط فیصلوں کا دفاع کیا جاتا ہے و طن عزیز کے لیے اس کی ذات شریف کو لازم و ملزوم سمجھاجاتا ہے، انہی بحث مباحثوں میں حالات کشیدہ بھی ہوجاتے ہیںگلے کی رگیں پھول جاتی ہیں آوازیں بلند ہوجاتی ہیں اور کبھی کبھار نوبت لڑائی مارکٹائی تک پہنچ جاتی ہے۔ سیاست ایک مشکل کھیل ہے اور اس کے کھلاڑی بھی بڑے جہاندیدہ سرد گرم چشیدہ اور گھاگ ہوتے ہیں۔ اڑتی چڑیا کے پر گننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ہمارے سیاست دانوں نے جب سے اصولی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی ہے خواہشات ہیں کہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔ شیخ سعد ی فرماتے ہیں کہ عقل کو خواہش پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ عقل زمانے کو تمہارے ہاتھوں میں دے دیتی ہے جبکہ خواہشات تمہیں زمانے کا غلام بنادیتی ہیں۔خواہشات کا سفر تو رکنے والا نہیں ہوتا یہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں جہاں ہوس زر بڑھتی ہے وہاں اختیار کی خواہش بھی پائوں کی زنجیر بن جاتی ہے یہ دونوں خواہشات ایسی ہیں کہ انسان کی بصیرت چھین لیتی ہیں !ہماری سیاست ! سیاست دانوں کی باتیں! عوام الناس کا رویہ اور اپنے سیاست دانوں کے شب و روز پر تبصرے!یہ سب کچھ ایک انسان کو حیران وپریشان کرنے کے لیے کافی ہے اسی لیے ہمارے لیے یہ بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم اپنی محفلوں کے ذائقے بدلتے رہیںسیاست کے علاوہ بھی بہت سے موضوعات ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے لطف لیا جاسکتا ہے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے سیانے کہتے ہیں انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے اچھے اور نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے والے نیک بن جاتے ہیں کسی بھی قسم کی محفل ہو اس کا ایک خاصہ یہ ہے کہ جب ایک موضوع پر گفتگو چل نکلتی ہے تو پھر ہر بندہ اس موضوع کے حوالے سے اپنے اپنے اقوال زریں ضرور پیش کرتا ہے۔ دوستوں کی ایک محفل میں ایک ساتھی نے جنات کے حوالے سے اپنے تجربات دوستوں کے ساتھ شیئر کیے تو پھر باقی دوست بھی لنگر لنگوٹ کس کر میدان کارزار میں اتر آئے ! دسمبر کا مہینہ تھا سردی جوبن پر تھی بڑے زوروں کی بارش ہورہی تھی بیوی بچے کسی تقریب میں شرکت کے لیے کسی دوسرے شہر گئے ہوئے تھے گھر میں امن و سکون کا دور دورہ تھا راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ بلا کا رومانوی موسم اور میں تن تنہا ! نیند کا دور دور تک نام ونشان بھی نہیں تھا بستر پر کروٹیں بدل بدل کر اکتا گیا سوچا نیند تو ویسے بھی نہیں آتی باہر نکل کر موسلا دھار بارش کا نظارہ کیا جائے، کمبل لپیٹ کر بستر سے نکلا اور گھر کے برآمدے میں کھڑے ہوکر چھم چھم برستی بارش کے منظر سے لطف اندوز ہونے لگا بنگلے کے مین گیٹ کے پاس چھوٹا سا باغیچہ ہے اس کے ایک کونے میں بڑا سا کوڑا دان ہے ویسے ہی اس کی طرف نظر اٹھی تو کچھ ہلتا ہوا نظر آیا جب غور سے دیکھا تو اڑھائی فٹ کا ایک چھوٹاسا بھتنا تھاکالی سیاہ رنگت ڈسٹ بن کے ساتھ کھڑا میری طرف گھور رہا تھا اچانک اس نے دانت نکال کر ایک عجیب سی غیر انسانی چیخ ماری یقین کیجیے میری تو جان نکل گئی اس کی رنگت تو کالی سیاہ تھی لیکن اتنے سفید دانت میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھے تھے بدحواس ہوکر واپس اپنے کمرے کی طرف بھاگا آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو دل اچھل کر حلق میں آجاتا ہے! ایک دوسرے دوست کہنے لگے کالج کا زمانہ تھا کوچی بازار سے کوہاٹی کی سمت نکلیے تو سامنے ہی چوک شہباز ہے جہاں آج کل کباڑ کی بہت بڑی مارکیٹ ہے پہلے یہاں ایک پارک ہواکرتا تھا جس میں بہت سی کیاریاں درخت اور پودے تھے اس وقت آبادی کے یہ ہنگامے نہیں تھے غالباً بی اے کے امتحانات تھے عصر ڈھل رہی تھی شام کی آمد آمد تھی میں ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھ کر مطالعہ کررہا تھا کہ اچانک مجھے اپنے پہلو میں موجود کیاری کے ہلنے کا احساس ہو ا میں نے مطالعہ چھوڑ کر کیاریوں کی طرف دیکھا وہاں ایک عجیب و غریب منظر میرا منتظر تھا کیا دیکھتا ہوں کہ کیاری کے دوسری طرف دو چھوٹے چھوٹے باکسنگ کے دستانے چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ فوجی انداز میں قدم کے ساتھ قدم ملا کر چل رہے تھے پہلے تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا ان کی میری طرف پشت تھی چلتے چلتے اچانک انہوں نے میری طرف مڑ کر دیکھا اور پھر بھاگنا شروع کردیا !مجھے زیادہ خوف تو محسوس نہیں ہوا لیکن وہ منظر میں کبھی نہیں بھول سکتا بس اللہ پا ک کی دنیا میں اس کی ہر قسم کی مخلوق موجود ہے انسان اس حوالے سے کیا کہہ سکتا ہے!ہم نے دوستوں کی طرف دیکھا تو سب بڑے انہماک سے پراسرار مخلوق کے حوالے سے دوستوں کے تجربات سے لطف اندوز ہورہے تھے کوئی ان واقعات پر یقین کر رہا تھا اور کسی کا خیال تھا کہ انہیں ضرور کوئی مغالطہ ہوا ہے اس طرح کی غلط فہمیاں ہوجایا کرتی ہیں اور ہم یہ سوچ رہے تھے کہ محفلوں کا ذائقہ ضرور بدلتے رہنا چاہیے نت نئی باتیں سننے کو ملتی ہیں اور دوسروں کے تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

اداریہ