Daily Mashriq

حکومت کا تجارتی خسارہ اور مہنگائی

حکومت کا تجارتی خسارہ اور مہنگائی

جمہوریت کی ترویج و اشاعت اور دنیا میں عام اور مقبول ہونے کے بعد حکومت اور عوام کا ایک عجیب تعلق بنا ہے۔ کہنے کو تو جمہوری حکومت' عوام کے لئے' عوام کے ذریعے عوام کی حکومت ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں عوام کا جمہوریت سے اتنا تعلق ہوتا ہے کہ انتخابات کے موقع پر پولنگ سٹیشن جاکر ووٹ بھگتا آئے۔ اس کے بعد منتخب ارکان اور وزراء اور حکومت کا اپنے عوام ( ووٹرز) سے تعلق برائے نام سارہ جاتا ہے ورنہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض ارکان اسمبلی یا وزراء کے ساتھ اس کے حلقے کے عوام کی ملاقات دوسرے الیکشن کے موسم میں ہوتی ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر حکومت جب اہم فیصلے کرتی ہے ان میں عوام کی ضروریات ' جذبات اور احساسات کا بہت کم خیال رکھا جاتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن ایک اہم وجہ یہ ہے کہ عوام کے یہ نام نہاد منتخب نمائندے ( الا ماشاء اللہ) حقیقی معنوں میں عوام میں سے نہیں ہوتے۔ اس لئے ان کو عوام کی ضروریات اور مجبوریوں کا احساس نہیں ہو پاتا۔ جس سربراہ خاندان کو اپنی آمدنی اور گھر کے افراد اور ان کے مسائل اور وسائل معلوم ہوں کیا وہ اپنی چادر سے زیادہ پائوں پھیلا سکتا ہے۔ قطعاً نہیں۔ لیکن وطن عزیز میں طرفہ تماشا دیکھتے جایئے کہ جب وزراء اور بیوروکریسی کے اللوں تللوں کے سبب حکومت کے خزانے پر شدید دبائو پڑنے لگتا ہے تو حکومت کے خزانہ سے منسلک وزارت کے افراد تجارتی خسارہ کم کرنے کے نام پر عوا م کی روز مرہ کی اشیاء پر بھی ٹیکس لگا کر عوام کی رسائی سے دور کرلیتے ہیں۔ حالانکہ تجارتی خسارہ یا حکومتی اخراجات کی کمی کے لئے کسی بھی مخلص حکومت کا لائحہ عمل یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے غیر ضروری اخراجات میں خاطر خواہ کمی کرے۔
اس وقت یہ بات ایک عام آدمی بھی سمجھ رہا ہے اور اس پر کڑھ رہا ہے کہ آخر مشکلات میں گھری اس حکومت کو وزراء کی فوج ظفر موج رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا اس کا مقصد اس کے علاوہ بھی کچھ ہے کہ حکمران سیاسی جماعت اپنے اراکین پارلیمنٹ کو خوش رکھنے اور ان کو حق مختانہ کے طور پر خواہ مخواہ نواز رہی ہے۔ وطن عزیز میں حکومتوں نے ایسی ایسی وزارتیں( منسٹریاں) بنائی ہیں کہ جن کے بغیر بھی حکومت' عوام اور پارلیمنٹ کے جسموں اور صحت پر کوئی برا یا مضر اثر پڑنے کا امکان نہیں رہتا۔ اکثر وزراء کا کام یہ ہے کہ سر شام مختلف چینلز پر بیٹھ کر جائز و ناجائز اپنی پارٹی اور اس کے سربراہ اور افراد خاندان کا دفاع اور خوشامد کریں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حاضری نہ دینے اور قانون سازی میں کوئی خاص کردار نہ ادا کرتے ہوئے بھی تنخواہیں اور مراعات لاکھوں میں لے کر حکومتی خزانے پر سخت بوجھ ڈالنے کا باعث بنے ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں وطن عزیز کی ایک صوبائی اسمبلی کے اراکین نے اسمبلی قرار داد کے ذریعے اپنی تنخواہوں میں کوئی تین سو فیصد اضافہ تجویز کرکے ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ دس لاکھ تک پہنچائی اور سپیکر صاحب صرف تیرہ لاکھ سکہ رائج الوقت لیں گے۔ایوان ہائے صدر وزیر اعظم کے کھانے پینے' بجلی گیس اور ان اعلیٰ ترین ایوانوں میں براجمان ناز نخرے اور چونچلوں کے حامل ملازمین کی فوج کی تنخواہیں اور مراعات سالانہ کروڑوں میں بنتی ہیں۔ برطانیہ کا وزیر اعظم 10ڈائوسنگ سٹریٹ میں چار کمروں پر مشتمل مکان میں رہ سکتا ہے لیکن ہمارے گریڈ سترہ اور اٹھارہ کے ڈپٹی کمشنر اور کمشنرز انگریز کے زمانے کے بنے ہوئے حویلی نما پانچ دس کنال پر محیط بنگلوں میں بھی سکون نہیں پاتے۔ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری اور ان کے ماتحت سیکرٹریوں کی فوج' ان کے اخراجات' مراعات اور پھر خیر سے کرپشن کے شاخسانوں نے وطن عزیز کو کنگھال کرکے رکھ دیا ہے۔ بڑے آئینی اداروں کے سربراہوں کے زیر استعمال کروڑوں کی امپورٹڈ گاڑیاں کیا اس غریب ملک کے غریب بلکہ خط غربت سے بھی نیچے رہنے والے عوام کا منہ نہیں چھڑا رہی۔ پھر بیوروکریسی فوج ظفر موج کے اوپر چار گورنر صاحبان کے اخراجات پورے کرنے کے لئے جس قسم کا بوجھ قومی خزانے پر لاد دیا گیا ہے ۔ یہ اور اس قسم کے دیگر غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کی بجائے حکومت نے جن 731 اشیاء کی درآمد پر دس سے اسی فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی ہے ان میں بڑی اور لگژری گاڑیوں' بلیوں اور کتوں کی خوراک اور بعض دیگر عیاش پسندوں کی استعمال میں آنے والی اشیاء پر ٹیکس تو یقینا ایک احسن قدم ہے لیکن اس بات کی سمجھ نہیںآ تی کہ درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی آڑ میں آٹا' گندم' مکئی' چینی اور گڑ کی قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں۔ یہ اشیاء تو وطن عزیز میں بہ مقدار وافر پیدا ہوتی ہیں لہٰذا چاہئے تو یہ تھا غریب عوام کو روٹی کا نوالہ اور چائے کا ایک کپ صبح و شام آسانی کے ساتھ فراہم کرنے کے لئے ان اشیاء کو سستا کرتی کیونکہ اس ملک کے غریب عوام کی یہی چار پانچ اشیاء بنیادی ضروریات میں شامل ہیں۔ لیکن چینی کو سستا کرکے پھر سارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی شوگر ملیں کیا کمائیں گی؟ آٹا کی ملیں کیسی چلیں گی لہٰذا ووٹ کے استعمال کے مواقع پھر حاصل ہوں گے۔ اگر عوام واقعی موجودہ حالات اور طرز حکمرانی سے تنگ ہیں تو ایسے لوگوں کا انتخاب ضروری ہوگا جو عوام میں سے ہوں اور ان کے دکھ درد کو نہ صرف جانتے ہوں بلکہ محسوس بھی کرتے ہوں ورنہ '' بول کہ لب آزاد ہیں تیرے'' تیرے ہاتھ آزاد ہیں' ووٹ کے ذریعے تبدیلی نہ لانا چاہیں تو ''اور چوبو''۔

اداریہ