آئین کی دفعہ 63Aمیں جزوی ترمیم کا بل

آئین کی دفعہ 63Aمیں جزوی ترمیم کا بل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ایک بل کی منظوری دی ہے جو اگر آئین کا حصہ بن گیا تو اس کے مطابق ارکان اسمبلی کو پارٹی کی ہدایت کو درکنار رکھتے ہوئے بعض آئینی معاملات پر اپنے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کا حق حاصل ہو جائے گا۔ اس پر مزید بات کرنے سے پہلے مناسب محسوس ہوتا ہے کہ ارکان اسمبلی پر پارٹی کی ہدایت کے مطابق ووٹ دینے کے لازم ہونے کے پس ِ منظر پر بات کر لی جائے۔ پارٹی کے ارکان پر پارٹی کی ہدایت کے مطابق ووٹ دینے کی مجبوری آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے لازم ہوئی تھی۔اس بات کی نشاندہی کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر چہ یہ ترمیم ن لیگ کے دور اقتدار میں منظور ہوئی تھی تاہم مشہور ہے کہ یہ ترمیم خود چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی تصنیف ہے۔ اور جس فورم میں اس میں متذکرہ بالا ترمیم کی منظوری دی ہے وہ بھی سینیٹ ہی کی قائمہ کمیٹی ہے اور سینیٹ کے چیئرمین آج بھی میاں رضا ربانی ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد آئین کی شق 63Aکی رو سے کسی پارلیمانی پارٹی کے ارکان یا رکن ایوان کی رکنیت کے لیے نااہل ہو جائے گا (ا)۔ اگر وہ پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو جائے گا یا کسی دوسری پارٹی میں شامل ہو جائے گا۔ (ب)اگر وہ اس پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جاری کردہ ہدایت کے برعکس (١)۔ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخاب (٢)۔اعتماد یا عدم اعتماد کے ووٹ یا (٣) منی بل یا دستوری ترمیم پر ایوان میں ووٹ دے گا یا ووٹ دینے سے اجتناب کرے گا ۔سینیٹ کمیٹی میں جو بل منظورہوا ہے اس میں ''کسی دستوری ترمیمی بل'' الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں۔ باقی شق کو زیرِ بحث نہیں لایا گیا۔ مجوزہ ترمیم کی حمایت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی ہی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ شق کا یہ حصہ آئین کی روح اور پارلیمان کی بالادستی کے منافی ہے۔ واضح رہے کہ چند سال سے جب اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کی گئی تھی تو یہ ایوان نے متفقہ طور پر منظور کی تھی جس میں پیپلز پارٹی ' ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے ارکان بھی موجود تھے۔ زیرِ نظر ترمیم کی رُو سے پارٹی ارکان کو دستوری ترمیم کے بارے میں اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کی اجازت توہو گی البتہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب' اعتماد یا عدم اعتماد کے ووٹ یا منی بل پر اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق ووٹ دینے کی آزادی نہ ہو گی بلکہ ان موضوعات پر رائے دینے میں وہ پارٹی کی ہدایت کے پابند ہوں گے۔اٹھارہویں ترمیم کے لائے جانے کا پسِ منظر یہ ہے کہ اس ترمیم سے پہلے پارٹیوں کی قیادتیں اپنے ارکان پر اعتماد کرتے ہوئے خائف رہتی تھیں کہ آیا وہ پارٹی لائن کے مطابق ووٹ دیں گے یا نہیں۔ دونوں بڑی پارٹیاں پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنے پارٹی ارکان کو اپنے ڈسپلن کا پابند کرنے میں اپنے آپ کو کامیاب نہیں سمجھتی تھیں۔ وزارت عظمیٰ انتخاب کے بعد بھی یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ایوان میں ارکان اسمبلی ایک طرف سے اُٹھ کر دوسری طرف بیٹھ کر اقلیت کو اکثریت میں نہ بدل دیں۔ اعتماد اور عدم اعتماد کے ووٹ میں پارٹی کی قیادت کو حکومت سازی سے محروم نہ کر دیں۔ارکان کے اس عمل کو فلور کراسنگ کہا جاتا تھا۔ جب دونوں بڑی پارٹیوں میں مک مکا ہو گیا کہ اپنے اپنے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والوں پر ہی انحصار کیا جائے گا تو ا س ترمیم پر بھی اتفاقِ رائے ہو گیا۔ شق 63(A) میں جزوی ترمیم کی حمایت کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ یہ جزو آئین کی روح اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے منافی ہے۔ آئین کا تقاضا تو یہ ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ لیکن شق 63Aکے ذریعے جمہوریت چند پارٹی لیڈروں کی حکمرانی میں تبدیل کر دی گئی ہے۔ اگر کوئی رکن اپنے ضمیر کے مطابق اور پارٹی لائن کے مخالف ووٹ دے گا تو وہ رکنیت ہی سے محروم ہو جائے گا۔ پارلیمان کی بالادستی بھی ختم ہو جاتی ہے جب ارکان پارلیمان پارٹی لیڈروں کی ہدایت کے مطابق ووٹ دینے کے پابند ہو جاتے ہیں۔ جس طرح اٹھارہویں ترمیم جمہوری روح اور پارلیمان کی بالادستی کو یقینی بنانے کی بجائے وقتی مصلحتوں کے تابع منظور کی گئی تھی اسی طرح یہ ترمیم بھی وقتی مصلحتوں کے تحت لائی جا رہی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے وقت ضرورت یہ محسوس کی گئی کہ ارکان کو پارٹی بدلنے سے روکا جائے اسی طرح آج اس ترمیم کا مقصد وقتی مصلحت ہے کہ ن لیگ کو کوئی ایسی آئینی ترمیم لانے سے روکا جائے جو اپوزیشن پارٹیوں کو بجا طور پر باعث تشویش نظر آتی ہے اور اس صورت میں ن لیگ کے ارکان کو دستوری ترمیم کے لیے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کا حق حاصل ہو جائے۔ جس کی طرف انہیں اپوزیشن والے راغب کر سکیں۔اٹھارہویں ترمیم کے لیے جواز یہ بیان کیا جاتا ہے کہ منتخب رکن کا ووٹ پارٹی ٹکٹ کا مرہون منت ہوتا ہے۔ اگر پارٹی ٹکٹ کی بنیاد پر ارکان کو پابند کیا جانا مقصود ہے تو امیدواروں کے بغیر پارٹیوں کے منشور کی بنیاد پرانتخاب کرائے جانے چاہئیں جن کے نتائج کی روشنی میں پارٹیاں ایوان میں اپنے نمائندوں کی ایک تعداد بھیج دیں۔ ہمارے ملک میں امیدوار کے ذاتی اوصاف اور اثر ورسوخ کے ووٹ بھی ہوتے ہیں اس لیے وہ محض پارٹی کا نمائندہ نہیں بلکہ عوام کا نمائندہ بھی ہوتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم نے فلور کراسنگ تو روک دی لیکن جمہوری رویے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ بغیر کسی اصولی اختلاف کے فلور کراسنگ نہایت غیر اخلاقی حرکت ہے ۔ لوگ ایسے ارکان کو لوٹے کہا کرتے تھے۔ ایسے ارکان ملک میں اور اپنے حلقے میں احترام سے محروم ہو جاتے تھے۔ اگر فلور کراسنگ جاری رہتی تو ایسے لوگ اپنے حلقے میں احترام سے محروم ہو جاتے اور آئندہ الیکشن میں ان کا امیدوار ہونا مخدوش ہو جاتا۔ ارکان کو پارٹی لیڈروں کی مرضی کا پابند کرنے کی بجائے اگر کوئی ایسا انتظام کر دیا جاتا کہ فلور کراسنگ کرنے والوں کا مواخذہ ہو جاتا تو یہ رجحان ختم ہو جاتا یا پھر ایک دوبار عوام کے سامنے بے عزت ہو جانے کے بعد ہر رکن بے اصولی کا مرتکب ہونے سے اجتناب کرتا۔

اداریہ