Daily Mashriq

بین الاقوامی واٹر سمپوزیم کا اعلامیہ

بین الاقوامی واٹر سمپوزیم کا اعلامیہ

سپریم کورٹ اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے زیرِ اہتمام پانی کے موضوع پر سہ روزہ بین الاقوامی سمپوزیم بیس نکاتی اعلامیہ جاری کرنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ میڈیا میں اس کے اہم نکات اگرچہ بیان کیے گئے تاہم یہ مکمل بیس نکات سب کے سب اخبارات میں نظر نہیں آئے۔ جو کچھ اس کے بارے میں شائع ہوا اس سے پانی کے مسئلہ کی ہمہ گیریت اجاگر ہوتی ہے اور پانی کے آنے والے بحران سے نمٹنے کے لیے جن اہم اقدامات کی سفارش کی گئی ہے وہ سامنے آئے ہیں۔ پانی کا ہمہ گیر مسئلہ جس طرح اس سمپوزیم میں مزید ابھر کر سامنے آیا ہے اس کے باعث اس میں نہ صرف حکومت کی دلچسپی ضروری ہے بلکہ رائے عامہ کے تمام نمائندہ اداروں کی اس پر بھرپور توجہ ہونی چاہیے تھی ۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر سماجی بہبود کے تمام اداروں اور انجمنوں کی اس میں دلچسپی نظر آنی چاہیے تھی کیونکہ پانی کا مسئلہ اپنی اصل میں انسانی زندگی کا مسئلہ ہے ۔ سمپوزیم میں سرکاری محکموں کے نمائندے نظر نہیں آئے حالانکہ ان سے اس سمپوزیم میں نہایت سنجیدگی سے شرکت کی توقع ہونی چاہیے تاکہ جن مسائل کا ذکر اس سمپوزیم میں کیا گیا ہے اور جو تجاویز سامنے آئی ہیں وہ حکومت کی سطح پر زیرِ غور آئیں اور سرکاری پالیسی کا حصہ بنیں۔ پانی کی کمی کا مسئلہ ہمہ گیر مسئلہ ہے اس کی سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ واٹر پالیسی میں زیرِ بحث لائے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 1951ء میں فی کس 5260مکعب فٹ پانی دستیاب تھا جو 2015ء میں ایک ہزار مکعب فٹ کے قریب رہ گیا ۔ اور پاکستان کونسل آف ریسرچ فار واٹر کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2025ء میں پاکستان قحط سالی کا شکار ہو سکتا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ روز نہایت چشم کشا باتیں کی تھیں اور اس حوالے سے نہایت اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی تھی لہٰذا پانی کے بحران کے موضوع کو دائرہ اختیار کا موضوع نہیں بنانا چاہیے ۔ یہ سمجھنا کہ حکومت کے کرنے کے کاموںمیں سپریم کورٹ کا عمل دخل نہیںہونا چاہیے غلط فہمی ہے یا غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش۔ چیف جسٹس نے اس پہلو کی وضاحت بھی نہایت صراحت کے ساتھ کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ پانی زندگی کے لیے ضروری ہے اور زندگی کا حق انسان کے بنیادی حقوق میں اہمیت رکھتا ہے اور پاکستان کا آئین تقاضا کرتا ہے کہ عدلیہ عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ دوسرے اداروں کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ کا فریضہ ہے کہ وہ انسانوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کی ذمہ داری ادا کرے۔ اس سے پہلے بھی چیف جسٹس بعض مقدمات کی سماعت کے دوران اس مفہوم کے ریمارکس دیتے رہے ہیں کہ اگر حکومت کچھ نہ کرے تو عدلیہ کو اپنا فرض ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں ایک گزارش کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے ‘اگرچہ اس کا زیر نظر موضوع سے براہ راست تعلق نہیں ہے ‘کہ بنیادی حقوق کے بارے میں کورسز تعلیمی نصاب میں شامل ہونے چاہئیں تاکہ ان سے آگہی عوام کے سیاسی اور سماجی رویے میں منعکس ہو اور وہ حکومت وقت پر اپنے حقوق کیلئے زور دے سکیں اور حکومتیں اپنے فرائض کی ادائیگی عوام پر احسان کی بجائے فرض کی ادائیگی سمجھ کر کیا کریں۔ یہ تو تھا ایک جملہ معترضہ۔ تاہم سمپوزیم کے بیس نکات نہ صرف حکومت کے اداروں کو ارسال کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ انہیں اپنی پالیسی اور پروگرام کا حصہ بنا سکیں ‘ دوسرے اس اعلامیہ کی بھرپور تشہیر ہونی چاہیے ۔ تما م سکولوں اور کالجوں میں اعلامیہ کو نمایاں جگہ پر آویزاں کیا جانا چاہیے اور تمام بلدیاتی اداروں میں بھی ان کی مستقل نمائش کا بندوبست کیا جانا چاہیے تاکہ عوام پانی کے بحران کی سنگینی اور اس سے عہدہ برآء ہونے کے لیے اقدامات کی فوری نوعیت سے آگاہی حاصل کر سکیں ۔ سمپوزیم کے اعلامیہ میں جہاں پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ملک میں متعدد چھوٹے بڑے ڈیم اور آبی ذخائر تعمیر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ پانی کی بین الصوبائی تقسیم پر عموعی اتفاق رائے حاصل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ آبپاشی کے جدید اور باکفایت طریقے اختیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو زیرِ کاشت لانے کے لیے پانی فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ پانی کا ضیاع روکنے ‘ اس کا باکفایت استعمال یقینی بنانے کے لیے پانی کی آسان ادائیگی پر مبنی قیمت مقرر کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہاں انڈس بیسن واٹر ٹریٹی یعنی سندھ طاس آبی معاہدے پر نظر ثانی کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ سالہا سال کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اس معاہدے کو جواز بنا کر بھارت پاکستان کے پانیوں پر قبضہ کیے جا رہا ہے اور جب چاہے ان میں پانی چھوڑ کر پاکستان میں سیلابی کیفیت برپا کر دینے پر قادر ہے جس کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ پر فصل تباہ ہوجاتی ہے۔ اس معاہدے پر نظر ثانی ان وجوہ کی بنا پر ضروری ہو گئی ہے ۔ لہٰذا حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ‘ سیکورٹی کونسل اور انسانی حقوق کمیشن میں لے جانے کے لیے ایک مضبوط مقدمہ تیار کرے۔ جنرل اسمبلی میں اس معاہدے میں مضمر زیادتیوں سے بین الاقوامی کمیونٹی کو آگاہ کیا جا سکے گا۔ سیکورٹی کونسل میں اس سے پیدا ہونے والے اضطراب اور بے چینی اور مخاصمت سے آگاہی فراہم کی جا سکے گی کیونکہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ آئندہ جنگیں پانی پر ہوں گی۔ اور انسانی حقوق کمیشن میں اس بات پر زور دیا جا سکتا ہے کہ پانی حق زندگی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر پانی پر انسانی حق کے حوالے سے عالمی اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لیے شروعات کی جانی چاہئیں۔ یہ معاملہ دورازکار نہیں بلکہ خشک سالی کی کیفیت اور ماحولیاتی تبدیلیاں آج جگہ جگہ دستک دیتی نظر آ رہی ہیں جو ممکن ہے چند سال میں واضح تر ہوجائیں لہٰذا آج ہی کم از کم یہ طے ہو جانا چاہیے کہ دنیا کے ہر شخص کا زندگی پر حق ہے اس لیے ضروریات زندگی کی فراہمی کو عالمی ذمہ داری قرار دیا جانا چاہیے۔ ملکی سطح پر جیسے کہ سطور بالا میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ایک تو بیس نکاتی اعلامیہ او رانسانی حقوق کی بھرپور تشہیر ہونی چاہیے۔ دوسرے اعلامیہ کو حکومت کی پالیسی کی بنیادی دستاویزات میں شامل کیا جانا چاہیے‘ تیسرے اسے پارلیمنٹ میں زیرِ بحث لایا جانا چاہیے تاکہ اس پر اہل سیاست اپنی رائے دے سکیں اور قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر آمادہ ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں