Daily Mashriq

آئی ایم ایف،اندازہ کاری

آئی ایم ایف،اندازہ کاری

وزیر اعظم عمران خان نے اخباروں اور ٹی وی چینلز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ اگر دو ماہ میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے قرض حاصل نہ ہو سکا تو ملک دیوالیہ ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا مسئلہ نہیں ہے البتہ آئی ایم ایف کی شرائط اصل مسئلہ ہیں۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے کچھ ایسی شرائط پیش کی جا رہی ہیں جن کے پورا کرنے پر پاکستان کو تامل ہے۔ اس خبر کے ساتھ ہی وزیر خزانہ اسد عمر کا بیان شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کوئی خطرے کی گھنٹی نہیں بج رہی ‘ معیشت کے بارے میں طوفان صرف میڈیا میں نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے جو قرضہ لیا جائے گا وہ آخری قرضہ ہو گا یعنی اسے ایسے استعمال کیا جائے گا کہ معیشت کی بنیادیں اس قدر مضبوط ہو جائیں کہ آئندہ ملک کو آئی ایم ایف کی طرف رجوع نہ کرنا پڑے گا۔ ایک طرف وزیر اعظم عمران خان کے بیان سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ اگر دو ماہ میں قرضہ حاصل نہ ہوا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا دوسری طرف وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی خطرے کی گھنٹی نہیں بج رہی‘ آئی ایم ایف سے لیا جانے والا قرضہ آخری قرضہ ہو گا یعنی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ قرضہ لینا گناہ نہیںلیکن اس پر سیاست بہت ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اصل مسئلہ اس کی شرائط ہیں۔ ان دونوں بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کی شرائط زیرِ بحث ہیں۔ اس صورت حال نے اندازہ کاری (Speculation)کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اندازے پیش کرنے والے جن معلومات کی بنا پر اندازے پیش کرتے ہیں ان میں حقائق کتنے ہیں ‘ ان کی باطنی تشویش کتنی ہے اور یہ بھی زیر غور ہونا چاہیے کہ ان کے اپنے سیاسی رخ کا اس میں کتنا دخل ہوتا ہے۔ تاہم اس گومگو کی کیفیت کی وجہ سے سب سے نے دیکھا کہ سٹاک مارکیٹ میں زلزلہ آیا اور روپے کی قدر میں کمی ہوئی جس کے بارے میں وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ سات آٹھ ماہ میں روپے کی بجائے ڈالر کی قدر میں پچیس فیصد سے زیادہ کمی آئے گی۔ ان کا بیان بھی بعض معلومات ہی پر مبنی ہے جو انہیں بطور وزیر خزانہ اور آئی ایم ایف سے معاملت کار کے حاصل ہیں۔ لہٰذا ان پر اعتماد کیا جانا چاہیے لیکن یہ اسی صورت میں ہو گا جب یہ سمجھ لیا جائے کہ آئی ایم ایف سے معاملات قطعی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں ۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف نے چین سے معاہدوں کی تفصیل طلب کی ہے جن میں حساس نوعیت کے معاہدے بھی شامل ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی کوئی دباؤ ممکن ہے کہ آ رہا ہو۔ حکومت کی طرف سے ایسے بیانات جاری ہو چکے ہیں جن میںکہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں ہے۔ یقینا ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے وزیر خزانہ کو چاہیے کہ وہ اگر آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کی تفصیل نہیں بتا سکتے جو یقینا قبل از وقت اور نامناسب ہے تو کم از کم ایسی اندازہ کاری کو خاموش کرانے کے لیے کوئی بیان دے دیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدے میں سیکورٹی کے تقاضے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ آئی ایم ایف ایک خالصتاً مالیاتی ادارہ ہے ۔ اس کی توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ قرضہ کس طرح واپس کیا جائے گا اور اس کیلئے وہ تدابیر بتاتا ہے۔ یہ واضح کر دیا جائے تو بہت سی خواہ مخواہ کی باتیں ختم ہو جائیں گی جنہیں افواہ سازی کہا جا سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں