Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

صہیبؓ رومی ان خوش نصیب صحابہ کرامؓ میں سے ہیں جن کا شمار سابقون اولون میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے مکہ آکر اپنا کاروبار شروع کیا ۔ مکہ کی منڈی میں ملک التجار کے لقب سے پکارے جاتے تھے ۔ حضوراکرمؐ نے جب تبلیغ اسلام کا آغاز کیا تو ابتدائی برسوں میں ہی حضرت صہیبؓ اس دولت سے مالامال ہوگئے ۔ حضور اکرمؐ کے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد تمام مسلمان ایک ایک کر کے مدینہ جانے لگے ۔ حضرت صہیبؓ کا کاروبار بہت پھیلا ہوا تھا۔ انہوں نے بھی اپنے کاروبار کو سمیٹنا شروع کردیا اور چند منتخب اشیاء ایک صندوق میں بند کیں اور عازم مدینہ ہوئے ۔ حاکم اور بیہقی نے حضرت صہیبؓ سے روایت کی ہے کہ ایک روز رسول اکرمؐ نے انہیں وہ مقام دکھایا تھا جو ان کی ہجرت گاہ ہوگا ۔ ایک شوریلا سا میدان جس کے دونوں طرف جلے ہوئے پتھر تھے یا تو وہ حجرتھا یا مدینہ۔ چنانچہ جب صہیب رومیؓ نے مدینہ کا عزم کیا تو قریش کے نوجوانوں نے انہیں گھیر لیا اور کہا کہ صہیب جب تم یہاں آئے تھے تو مفلس وقلاش تھے ۔ یہ ساری دولت تم نے یہاں سے کمائی ہے ۔ اگر تم یہاں رہو تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ، مگر ہم تمہیں یہ ساری دولت یثرب نہیں لے جانے دیں گے ۔ حضرت صہیبؓ نے اپنے دل سے پوچھا بتائوتمہارا کیا فیصلہ ہے ؟ ایک طرف مال ودولت کے انبار ہیں اور دوسری طرف حضوراکرمؐ کی بارگاہ میں حاضری، ایک چیزان میں سے پسند کرلو۔ ایمان سے پردل نے حضور اکرمؐ کا انتخاب کیا ۔ چنانچہ حضرت صہیبؓ رومی نے اونٹ پر لدا ہوا قیمتی سامان ان کے حوالے کیا اور پیدل یثرب کی طرف روانہ ہوئے ۔

دس گیارہ دن میں یثرب پہنچے ۔(ہجرت سے پہلے مدینۃالنبیؐ کا نام یثرب تھا) تو پائوں میں چھالے اور زخم ، بال بکھرے ہوئے لباس گردو پسینہ سے آلودہ اور میلا کیچلا ۔ اس حالت میں مدینہ میں صحابہ کرامؓ نے صہیبؓ کو دیکھا تو حیران رہ گئے اور ان سے ان کا حال پوچھا۔ حضرت صہیبؓ نے مکہ سے روانگی کی ساری تفصیل انہیں سنائی ۔ رسول اکرمؐ کو ان کی آمد سے بہت خوشی ہوئی اور فرمایا’’صہیبؓ نے سودا کیا ہے وہ بڑا نفع بخش ہے ، دنیا کے مال ومتاع کے بدلے اس نے اپنے رب کی رضا حاصل کر لی ہے ۔ اس سے زیادہ خوش نصیب اور کون ہوسکتا ہے‘‘۔

(سیرت ابن ہشام)

مشہور امام نفطویہؒ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم خلیفہ مامون رشید کے پاس بیٹھے تھے تو اس کو چھینک آئی ، لیکن ہم میں سے کسی نے دعائیہ کلمات نہیں کہے(اس موقع پر چھینکنے والا الحمدللہ اورسننے والا یرحمک اللہ کہتا ہے) ہم لوگوں کے اس فعل پر وہ حیران ہوا اور کہنے لگاتم لوگوں نے اس سنت کو کیوں ترک کر دیا؟ہم نے جواب دیا: اے امیرالمومنین! ہم لوگوں نے آپ کی تعظیم کا خیال رکھا، اس پر مامون نے کہا میں ان بادشاہوں میں نہیں ہوں ، جو دعائوں سے بے نیاز ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء للسیوطیؒ ص،134)

متعلقہ خبریں