Daily Mashriq

فیصلوں کا بوجھ صرف عوام پر کیوں؟

فیصلوں کا بوجھ صرف عوام پر کیوں؟

معاشی ابتری اور مشکل ہوتے حالات سے چشم پوشی ممکن نہیں، 12سو ارب کے گردشی قرضے ورثے میں ملے۔ اس طرح آئندہ دو ماہ کے دوران 9ارب ڈالر کی رقم بیرونی قرضوں کے سود کی قسط ادا کرنے کیلئے درکار ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط حتمی طور پر کیا ہوسکتی ہیں اور پھر سے بعض دوست ممالک سے رجوع کرنے میں کوئی سہولت مل سکے گی؟ یہ وہ سوال ہیں جن پر حکومت کے حامیوں اور ناقدین کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے۔29861 ارب کے قرضوں کا بوجھ 22کروڑ لوگوں کی گردن پر ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ صورتحال سے نجات کیسے ممکن ہوگی؟ کیا غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنے کی بجائے بجلی‘ گیس‘ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کرتے چلے جانا یا ٹیکسوں میں اضافہ مسئلہ کا حل ہے؟ ایسا ہرگز نہیں۔ پیٹ کاٹنے اور قربانیاں دینے کی بات بجا ہوتی اگر نصف سے زائد آبادی پیٹ بھر کے دو وقت کا کھانا کھا رہی ہوتی۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتائج کی جانب سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ یہ دریافت کیا جاسکتا ہے کہ اس معاشی ابتری میں کیسے یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ پنجاب میں گورنر اور وزیراعلیٰ آفسز کے سالانہ اخراجات میں مجموعی طور پر 60فیصد اور وزراء کے اخراجات میں 25فیصد اضافہ کر دیا جائے۔ ستم یہ ہے کہ سابقہ حکومتوں کے بعض فیصلوں پر اعداد وشمار کی روشنی میں ہوئی تنقید کو بھی بعض حلقے شعوری طور پر سمجھنے کی بجائے سیاسی مفاد قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اصول کو اپنے ادوار میں وہ نہیں مانتے تھے بلکہ اصرار یہ تھا کہ ہمارے فرمائے کو مستند ومعتبر تسلیم کرکے سابقین کو مجرم مان لیا جائے۔ یہاں حالت یہ ہے کہ 9ارب ڈالر قرضے کے سوا کی قسط کی ادائیگی کا دن قریب آتا جا رہا ہے نومبر کے پہلے دس دنوں میں یہ ادائیگی لازمی ہے۔ عدم ادائیگی پر آئی ایم ایف کا رویہ کیا ہوگا یہ وہ سوال ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ثانیاً یہ کہ کیا چین‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امداد یا قرضے کے طور پر اتنی رقم دے پائیں گے؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ بہت مشکل ہوگا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی شرائط پر سر تسلیم خم کرنا۔ چین نے ابھی صرف غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ان مشکل حالات کے باوجود گرانی کا بوجھ نصف فیصلوں کی بدولت بڑھتا جا رہا ہے۔ جمعرات کو ایک بار پھر سوئی گیس کے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا 462 فیصد تک ہوئے اس اضافے کی بدولت ہسپتالوں‘ فلاحی اداروں‘ مسلح افواج کے میس اور تعلیمی اداروں کو بھی 30فیصد مہنگی گیس ملے گی۔ کیا اس کا اطلاق رعایتی نرخوں پر گیس لینے والی کھاد فیکٹریوں پر بھی ہوگا؟ تواتر کیساتھ سطور میں عرض کیا جا رہا ہے کہ مہنگائی کے سیلاب بلا کی روک تھام کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ معاشی مسائل سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن لوگوں پر ان کی قوت خرید سے زیادہ بوجھ ڈالنا بھی کسی طور مناسب نہیں ہوگا۔ بالآخر غیرترقیاتی اخراجات میں ہی کٹوتی کے فیصلے کرنے ہوں گے یا کچھ دوسری مدوں کے اخراجات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ سماج کے ایک بڑے حصے کی سوچ یہ بن کر رہ گئی ہے کہ اگر موجودہ معاشی صورتحال میں کچھ وقت کیلئے دفاعی بجٹ میں ایک مناسب کمی کی تجویز رکھی جائے تو کھٹ سے ملک دشمنی کا الزام عائد کر دیا جائے گا حالانکہ معاشی مسائل کا بوجھ اگر اجتماعی طور پر اُٹھانا ہے تو پھر صرف کچلے ہوئے بحال طبقات ہی قربانی کیوں دیں ہر طبقہ اور ادارہ ملکر یہ کوشش کیوں نہ کرے کہ اولین طور پر ان چیلنجوں سے عہدہ برآ ہو لیا جائے جو سامنے ہیں۔آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے مدد حاصل کرنے میں کوئی برائی نہیں البتہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو دوست ممالک اور آئی ایم ایف کی شرائط سے ضرور آگاہ کیا جائے جو وہ تعاون کیلئے پیش کریں۔ ایسا نہ ہو کہ مشکل کا فوری حل تو مل جائے لیکن مسائل زیادہ گمبھیر ہونے کی تلوار لٹکتی رہے۔ اس طرح حکومت کا فرض ہے کہ وہ کم ازکم پچھلے 10سالوں کے د وران بیرون ملک سے لئے گئے قرضوں اور ان حوالوں سے طے پائے معاملات کو پارلیمان میں لے آئے اس سے عوام بھی حقیقت حال جان سکیں گے اور خود سابق حکمرانوں کیلئے بھی آسان ہوگا کہ وہ پارلیمان میں جواب دیں کہ ان کے ادوار میں لئے گئے قرضوں نے بہتری پیدا کرنے کی بجائے ابتری میں اضافہ کیوں کیا۔یہاں ہم سی پیک معاہدے کی تفصیلات کو پارلیمان میں لانے سے گریز کی اس حکمت عملی پر بھی سوال اُٹھانا چاہتے ہیں جس پر نون لیگ عمل پیرا رہی۔ پاکستانی عوام کو سی پیک منصوبے کے حوالے سے کہانیاں بہت سنائی جا چکیں۔ اس منصوبے میں قرضہ کتنا ہے امداد کتنی اور فیڈریشن کی اکائیوں سے منصوبے کے حوالے سے مساوی برتاؤ ہوا یا نہیں؟ یہ کیسے ممکن ہوا کہ صرف ایک شعبہ کو تو سی پیک منصوبے سے 3ارب ڈالر کی اورنج ٹرین کا تحفہ مل گیا اور طویل عرصہ تک لوگوں سے سچ کو چھپایا گیا۔ لہٰذا ضرورت یہ ہے کہ سی پیک منصوبے کی ساری جزئیات پارلیمان میں پیش ہوں۔ پارلیمان میں فیڈریشن کی اکائیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان ملک کے اجتماعی اور صوبوں کے انفرادی ہر دو مفاد میں اسے دیکھیں اپنی شکایات اور تجاویز سامنے رکھیں۔ مکرر عرض ہے کہ سخت فیصلے اور قربانی دینے کے جذبہ کا عملی مظاہرہ کریں گے؟ عمومی صورتحال سے تو ایسا لگتا ہے کہ سارا بوجھ عوام پر ڈالا جائے گا۔ ایسا ہوتا ہے تو یہ عرض کیا جانا غلط نہ ہوگا کہ اس طرح کے معاملات سے حکومت کی سیاسی ساکھ متاثر ہوگی۔ مناسب ترین بات یہ ہوگی کہ اب ان دعوؤں کی سچائی کے ثبوت پیش کئے جائیں جو قبل ازیں کئے جاتے رہے۔ بہرطور اس امر کو بطور خاص مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ انصاف‘ مساوات‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم‘ اقرباء پروری کے خاتمے اور کرپشن وکمیشن میں ہڑپ کی گئی رقوم کیساتھ ساتھ قرضہ خوروں سے مالیاتی اداروں کی رقم وصول کرنے کیلئے بھی ضروری قانون سازی پر توجہ دی جائے۔

متعلقہ خبریں