Daily Mashriq

ایٹا انٹری ٹیسٹ‘ متبادل کی ضرورت

ایٹا انٹری ٹیسٹ‘ متبادل کی ضرورت

اگرچہ سندھ میں یہ بات معمول بن چکی ہے کہ وہاں میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات میں کھلے عام نقل کی جاتی ہے اور پاکستانی میڈیا ان دنوں میں ان کی یہ مذموم حرکتیں کھلے عام عوام کو دکھاتا بھی ہے لیکن اس کے تدارک کیلئے ٹھوس بنیادوں پر کوئی خاص اقدامات آج تک سامنے نہیں آئے ہیں۔ سندھی شاید پورے پاکستان میں قومیت کے حوالے سے بنگالیوں کے بعد زیادہ حساس رہے ہیں اور شاید اسی سبب وہ اپنے سائیں لوگوں کو زیادہ تعداد میں اسلام آباد پہنچانے کی غرض سے نقل کے ذریعے سہی تعلیم کو عام کرنا چاہتے ہیں۔بلوچستان کا تو ذکر ہی کیا کہ وہاں کے تو سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ایک ذمہ دار ترین شخص نے چند برس پہلے ڈگری کے حوالے سے جو بات کہی تھی وہ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرکے اتنی زبان زد عام ہو چکی ہے کہ بچے بچے کو یاد ہے یعنی ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘‘ لے دے کے پنجاب اور پختونخوا اور وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات کی کچھ ساکھ قائم تھی لیکن وہ بھی گزشتہ چند برسوں سے معیار رازداری اور پرچہ جات کی مارکنگ اور دیگر انتظامات وغیرہ کے حوالے سے قائم رکھنے میں ناکامی اور دشواری کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن بنیادی وجہ حب زر اور جلب زر یعنی دولت کی محبت اور دولت کا حصول ہے۔ اساتذہ کرام سے ایک جملہ سنا تھا کہ کسی دوسرے شعبے میں کوئی فرد ’’ادھر ادھر‘‘ سے آبھی جائے تو شاید بہت زیادہ خرابی نہ ہو لیکن اساتذہ کی صفوں میں کوئی ایک نالائق اور ادنیٰ اخلاق کا حامل آجائے تو وہ کم ازکم تیس پینتیس برسوں تک طلبہ کا بیڑہ غرق کرنے کا سبب بنا رہتا ہے اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ اساتذہ کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔پچھلے مہینے ایٹا انٹری ٹیسٹ ہوا۔ عوام کا لاکھوں روپیہ خرچ ہوا۔ قوم کی توانائی صرف ہوئی اور غوغا اٹھا کہ پرچہ آؤٹ ہو چکا تھا۔ کسی سوشل ورکر نے اس کے معاشرے پر اثرات کے حوالے سے کوئی سروے کیا کہ والدین اور ان طلبہ پر کیا گزری جنہوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر اچھا سکور کیا تھا؟ اور پھر جب یہ ثابت ہوا کہ پرچہ آؤٹ ہوا تھا تو دوبارہ ٹیسٹ لینے کی تاریخ مقرر ہوئی اور طلبہ ایک دفعہ پھر

آگ ہے‘ اولاد ابراہیمؑ ہے نمرود ہے

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

ہاں امتحان دوبارہ مقصود ٹھہرا۔ والدین نے دل پر پتھر رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو دوبارہ دعائیں دیتے ہوئے حوصلہ دیا۔ امتحان ہوگیا‘ لیکن یا للعجب! اس دفعہ انگلش پیپر کی مارکنگ کے حوالے سے ایسے اعتراضات سامنے آئے کہ لوگ عدالت میں چلے گئے۔ عدالت نے میرٹ لسٹ کا اجراء روک دیا۔ انگریزی کے پرچے جامعہ پشاور کے انگریزی کے قابل اور تجربہ کار پروفیسرز سے چیک کروانے کے احکامات جاری کر دئیے۔ اب یہ مرحلہ طے ہوگا تو عدالت میرٹ لسٹ کے حوالے سے فیصلہ دے گی۔ اس ساری روداد سے یہ بات بلاخوف تردید سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا پورا نظام بہت بڑے اوور ہالنگ اور تبدیلی کا متقاضی ہے لیکن میٹرک‘ ایف ایس سی اور میڈیکل کالجوں کیلئے انٹری ٹیسٹ کے امتحانات تو بہت بڑے آپریشن کا ہنگامی تقاضا کرتے ہیں کیونکہ اس پر قوم کے بہت سے شعبے یعنی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے معیار اور قوم کی صحت کا انحصار ہے۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا کہ ہماری قوم میں پیسے کے حصول کی جو شیطانی لت پیدا ہوئی ہے اس نے ٹاپ سے باٹم تک پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور شعبہ تعلیم بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکا ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کے مالکان بورڈز میں ٹاپ ٹین اور ٹاپ ٹوئنٹی کے چکر میں کہ اگلے سال ان کے سکولوں میں داخلے زیادہ آئیں کوچنگ اکیڈمیوں اور انٹر میڈیٹ بورڈز کے چیئرمین سے لیکر نیچے تک ہر ضروری فرد کیساتھ رابطے میں ہوتے ہیں اور اس میں اہم کردار پیسہ ادا کرتا ہے جو طلبہ ان سارے خشخشوں اور ترددوں کے باوجود ایف ایس سی میں اچھے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اب انٹری ٹیسٹ میں کہیں چھکا لگانے کا موقع مل جائے اور پھر اس کیلئے تلاش ’’جدوجہد‘‘ اور لین دین شروع ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے جو اس وقت آچکا ہے۔ دیگر شعبوں میں بھی پرائیویٹ تعلیمی نظام خرابیوں سے مبرا نہیں لیکن میڈیکل کے شعبے میں ملک وقوم کو جو خطرات درپیش ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو طالب علم ایٹا میں 100 یا 200 کے درمیان سکور کا حامل ہوتا ہے وہ بھی چالیس لاکھ روپیہ پانچ برسوں میں خرچ کرکے ڈاکٹر بن کر والدین کی خواہش کی تکمیل کا باعث بنتا ہے۔ لڑکیاں اس میں بہت آگے ہوتی ہیں کہ اس طرح ان کا رشتہ اچھی جگہ طے پا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد اب خیر سے ’’چلتے ہو تو چین کو چلئے‘‘ والے ڈاکٹر صاحبان بھی ہیں جن میں سے بہت کم لوگ پی ایم ڈی سی کا امتحان پاس کر سکتے تھے۔ اب شنید ہے کہ اس امتحان کے پاس کئے بغیر کسی بھی ملک حتیٰ کہ افغانستان وغیرہ سے بھی ایم بی بی ایس کی ڈگری لینے والا پاکستان آکر کام کرسکے گا۔ کیا اب بھی اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی کہ کم ازکم میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات کو شفاف اور اہلیت اور صلاحیت پر مبنی بنا کر انٹری ٹیسٹ کیلئے اور ان امتحانات کے متبادل کو سوچنے اور لانے ونافذ کرنے کیلئے ایک ٹاسک فورس کی تشکیل ہو کہ آخر اس پر قوم کی صحت اور ترقی کا دار ومدار ہے۔

متعلقہ خبریں