Daily Mashriq

حکومت وقت ! اپنا کام کرے

حکومت وقت ! اپنا کام کرے

اس حکومت کو درپیش مسائل کے حوالے سے اکثر سوچنے والے حیران رہتے ہیں ۔ خود حکومت بھی حیران رہتی ہوگی ۔ انہیں عنان حکومت سنبھالنے سے پہلے یہ اندازہ ہی نہیں ہوگا کہ ایسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔ یہ بھی یقیناً احساس نہ ہوگا کہ انہیں مقابلہ صرف سیاست دانوںسے نہ کرنا ہوگا۔ اس مقابلے کی کئی جہتیں ہوں گی ، کئی سطح پر مقابلہ ہوگا۔ تہہ در تہہ بدعنوانی کے شائقین ان کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے اور انہیں ہر بار انہی اپنی پتھروں پر چل کر تبدیلی تک پہنچنا ہوگا۔ وہ جو ایما نداری کے دعویدار ہیں انہیں بھی مسلم لیگی پسندہیں کیونکہ وہ چاپلوسی کے نتیجے میں مراعات اور مفادات لٹاتے ہیں۔ درباریوں کی اس قوم کو اس سب کی عادت ہے ۔ یہ کام کرنے سے زیادہ چاپلوسی کے عادی ہیں ۔ کسی بھی بات میں اگر اصول و ضوابط کو پس پشت ڈال کر بس کسی اعلیٰ عہدیدار یا وزیر کی مرضی یا اثبات پر کام کیا جا سکے تو اس میں عافیت سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے دو فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ ایک تو اس میں خود پر الزام نہیں آتا اور دوسرا کسی بات کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ۔ ذمہ داری تو اس کی ہوگی جس کا فیصلہ ہوگا ۔ ایسے کام جو ذرا مختلف ، تحقیق سے سیدھے سبھائو کیے جا سکتے ہیں ۔ ان کے لئے راستہ ، اور قانونی تحفظ بھی فراہم کیا جا سکتا ہے ۔ اور انہیں واقعی ملکی معاملات اور اداروں کی معاشی بہتری کے لیے اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ ان لوگوں کو آج تک یہ بھی سمجھ نہیں آسکی کہ سرکاری معاملات میں چاپلوسی سے زیادہ اپنی مہارت سے پذیرائی حاصل کرنا بہتر ہے ۔ اس کے نتائج ملک وقوم کے لئے بھی دور رس ہوتے ہیں اور ان کا فائدہ شخصی بھی ہوتا ہے ۔ عزت بھی ایک قابل قدر جنس ہے جس کا کمایا جانا پہلے بہت اہم سمجھا جاتا تھا اور اب جمہوریت کی چھلنی سے گزر کر اکثر قابل قدر اجناس میں اس کی موجودگی قریباً عنقاء ہو چکی ہے ۔

وزیراعظم عمران خان بھی اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں بیوروکریسی سے حقائق کے حصول کے لئے زور لگانا پڑ رہا ہے۔ انہیں اس بات کا بھی احساس ہونا چاہئے کہ بیورو کریسی کو حقیقی کام کئے بھی ایک عرصہ ہوا ہے۔سیاسی حکومتوں کی وقتی پالیسیوں کو وہ دھکا تو دیتے رہے ہیں لیکن وہ ان کی مرضی کے نتائج کے حصول کے لئے کام کرتے رہے ہیں۔ اس ساری کارروائی کا تعلق کبھی اس ملک کے مفاد اور بہتری کے حصول سے نہیں ہوا۔ یہ باتیں سمجھ لینا ضروری ہے حکومت وقت کو اپنے معاملات کی درستگی کے لئے اس سب کی اشد ضرورت ہوگی۔ پھر یہ بھی جان لیں کہ اس وقت ان کے مدد گار شاید انتظامیہ کے درمیانی حلقوں میں موجود ہیں۔ وہ لوگ جو ابھی مکمل طور پر بدعنوان نہیں ہوئے یا جن کے اعصاب بدعنوانی سے لڑتے لڑتے مضمحل نہیں ہوئے انہیں ابھی اس ملک سے محبت بھی ہے اور وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے ابھی تک ایمانداری پر تکیہ کئے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کو ڈھونڈ نکالنا بھی اس حکومت کے ذمے ہے۔ انہیں ڈھونڈنے کا پہلا سرا یہ ہوسکتا ہے کہ وہ حکومت میں کھڈے لائن لگے افسران کا بغور جائزہ لیں۔ دیکھیں کہ ان افسران کو گزشتہ حکومت میں کیوں نا پسند کیا جارہا تھا۔ ان لوگوں کا گزشتہ ریکارڈ کیسا رہا ہے‘ ان کا مزاج کیسا ہے اور کیا ان کی پذیرائی سے انہیں اس حکومت کے لئے کام کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے؟ یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ ان لوگوں کو سایوں میں رہتے ایک طویل عرصہ ہو چکا ہے۔ ان لوگوں کو اپنی جانب مائل کرنا اور یہ یقین دلانا کہ انہیں ان کے کام کے نتیجے میں کسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا بہت اہم ہے۔ حکومت وقت کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ یہ لوگ گزشتہ ادوار میں کن مسائل کا شکار رہے ہیں۔ جب تک یہ بات پوری صحت کے ساتھ سمجھ نہیں لی جاتی اس وقت تک اس بات کا اپائے قریباً نا ممکن ہے اور یہ بھی مشکل ہے کہ حکومت بیورو کریسی کے موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ کسی اپ سیٹ کاشکار نہ ہو۔ بحران تو پیدا کئے جائیں گے کیونکہ ابھی تک گزشتہ حکومت کی گرفت اپنے پسندیدہ سرکاری افسران پر ایسی مضبوط ہے کہ وہ ان کی سفارش پر تبادلے بھی کرتے ہیں۔ معاملات کو رخ بھی دیتے اور پھر انہی سیاستدانوں کو خبر بھی دیا کرتے ہیں۔ انتظامیہ پر حکومت وقت کی گرفت مضبوط ہونے میں وقت لگے گا۔ اس وقت تک اس حکومت کو کسی نہ کسی طور پر کام تو چلانا ہے۔ اس میں بہتر ہوگا کہ وزراء کو ہدایت ہو کہ وہ محکموں میں اپنی ٹیم بنائیں اور اس ٹیم میں ان لوگوں پر نظر رکھیں جو در اصل اس ملک کے وفادار ہیں۔ انہیں ٹیم کا حصہ بنائیں۔ اس ملک کے سارے مسائل کا حل اسی ملک کے لوگوں کے پاس موجود ہے۔ کہیں انہیں حکومت وقت کی مدد کی ضرورت ہے‘ کہیں معاملات میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ گزشتہ سیاسی حکومتوں کے پروردہ پریشان تو ہوں گے لیکن ان کی پریشانی میں ہی اس ملک کا سکھ پنہاں ہے۔ ان کی کارروائیوں کا اعادہ کرنے سے ہی بہتری کی راہیں تلاش کرنا ہوگی۔ اب وقت آچکا ہے کہ اس ملک کی بہتری کا آغاز ہوسکے۔ انہیں واویلا کرنے دیجئے حکومت وقت بس اپنا کام کرے۔

متعلقہ خبریں