Daily Mashriq

عافیہ صدیقی کے امریکی قید میں 16 سال

عافیہ صدیقی کے امریکی قید میں 16 سال

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی دیگر سیاستدانوں اور اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح عافیہ کو قوم کی بیٹی کہا تھا۔ 2013 میں برسر اقتدار آنے کے بعد عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی اور بیٹی مریم سے ملاقات میں عافیہ کو 100دن میں واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے بعد 2018 کے انتخابات کے مہم کے دوران عمران خان نے عافیہ صدیقی کے خاندان سے امریکی قید سے ان کی رہائی کیلئے 100دن کا وعدہ کیا تھا۔ نواز شریف کے پانچ سال گزر گئے اور ابھی عمران خان بھی حکومت میں ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔

عافیہ کی امریکی قید سے رہائی کیلئے ہمارے حکمران عافیہ صدیقی کے نام کو کیش تو کرتے ہیں، ان کے نام پر ووٹ بھی لیتے ہیں مگر ان کی رہائی کیلئے کچھ نہیں کرتے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ دنیا کی مضبوط عسکری، جوہری اور میزائل طاقت کے حکمرانوں نے 2003 میں خود اپنی بہن اور بیٹی عافیہ صدیقی کو غیروں کے لگائے گئے بے بنیاد الزامات پر امریکہ کے حوالے کیا اور بدلے میں چند ڈالر جیب میں ڈال لئے۔ ان کو قومی عزت، غیرت اور حمیت سے زیادہ کاغذ کے چند ٹکڑے عزیز ہیں۔ بات صرف عافیہ صدیقی تک محدود نہیں بلکہ ماضی میں ایمل کانسی کو بھی حکمرانوں نے چند ڈالروں کے عوض امریکیوں کے حوالے کیا۔ نواز شریف کے سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب خان اپنی کتاب ’’ایوان اقتدار کے مشاہدات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ نواز شریف نے ایمل کانسی کو امریکی وزیر خارجہ میڈیلین البرائٹ کے کہنے پر امریکہ کے حوالے کیا۔ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ میری رہائی کیلئے پاکستان کی تمام ایجنسیاں ایک پیج پر تھیں۔

اگر ہم امریکہ کی منفی پالیسی پر مزید غور کریں تو 29مئی2002 کو لیبیا نے امریکہ کے بوئنگ جہاز گرانے کے الزام میں 2.7ارب ڈالر معاوضے کے طور پر ادا کئے۔ اس بوئنگ جہاز میں 270افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس واقعے میں تباہ شدہ بوئنگ جہاز کی جو قیمت تھی وہ علیحدہ تھی۔ نہ تو یہ بوئنگ جہاز لیبیا نے گرایا تھا اور نہ لیبیا میں اتنی سکت تھی کہ اس قسم کے جہاز کو گرا سکے۔ ماضی میں قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو لاپتہ افراد کی کمیٹی کے سربراہ نے بتایا تھا کہ ملٹری مطلق العنان پرویز مشرف کے دور میں 4ہزار پاکستانیوں کو امریکہ اور دیگر ممالک کو خفیہ طریقے سے حوالہ کیا گیا اور اس کے عوض ڈالر لئے گئے۔ مزید براں قانون میں کوئی ایسی گنجائش نہیں کہ وطن عزیز کے باسیوں کو کسی کے حوالے کیا جائے مگر کسی نے کسی سے اور پارلیمنٹ نے بھی اس کے بارے میں نہیں پوچھا۔ دراصل بات ایک عورت سے ڈرنے کی نہیں۔ وہ کبھی مسلمانوں کے سکارف اور پردے کی پابندی لگانے، آقائے نامدار اور ختم المرسلینﷺ کی شان میں گستاخی کرنے اور کبھی ہمارے دیگر انبیائے کرام کے خاکے بنا کر اور کبھی ائیرپورٹس پر خواتین کی سکریننگ کی شرط لگا کر مسلمانوں کی غیرت کو للکارتے رہتے ہیں۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں اب بے حمیتی اور بے حسی کے کونسے درجے میں ہیں ۔ حال ہی میں ترکی میں پادری کے بھیس میں جو امریکی جاسوس پکڑا گیا تھا اس پر امریکہ نے کتنا شور مچایا اور یہاں تک کہ ترکی پر اقتصادی پابندیاں لگا دیں۔ اب سعودی عرب کے باغی صحافی جو امریکہ کیلئے سعودی حکومت کیخلاف کام کرتے تھے۔ پتہ چلا ہے کہ وہ لاپتہ ہے تو امریکہ اس صحافی کو بازیاب کرنے کیلئے سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان تمام باتوں سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکہ اپنے ملک کے باسیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی دنیا میں واحد قوم ہے جو جدھر بھی جائیں وہ محفوظ ہیں جبکہ اس کے برعکس اگر ہم بھارت کو دیکھیں توایک بھارتی خاتون کو نیویارک میں امریکی قوانین کی خلاف ورزی پر مقامی پولیس نے گرفتار کیا تو فوری طور پر انڈیا میں گویا ایک بھونچال آگیا۔ وہاں کی حکومت، اپوزیشن، فوج، ریاستی ادارے، سول سوسائٹی اور عام آدمی سراپا احتجاج ہوئے۔ یہاں تک کہ معاملہ امریکہ سے سفارتی تعلقات توڑنے کی حد تک پہنچ گیا۔ جس پر امریکیوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے جبکہ ہمارے حکمران اپنے عوام کو خود اپنے ہاتھوں سے غیروں کے حوالے کرتے ہیں۔ امریکہ دنیا میں امن اور سکون کی باتیں کرتے تھکتا نہیں مگر وہ دنیا کو سکون دینے والے نہیں بلکہ دنیا کا سکون اور امن کو تباہ و برباد کرنے والے ہیں۔ اگر واقعی امریکہ اور دوسرے ممالک کسی کیخلاف ہاتھ اُٹھانے یا کسی پر حملے کو برا سمجھتے ہیں تو پھر وہ اپنے ماضی قریب اور بعید کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ 1991,1964,1960,1955,1954,1950 اور 2001 میں امریکہ نے کوریا، گوئٹے کال، انڈونیشیاء، کانگو، کیوبا، ویت نام، لبنان، عراق، اور افغانستان پر بلاجواز چڑھائی کی۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے حکمران نااہل ہیں کہ وہ اپنے مسائل کا ادراک نہیں رکھتے۔ ان کے پاس دنیا کے 70فیصد وسائل ہیں مگر اس کے باوجود بھی رسوا ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تعلیم ہے، نہ سائنس، نہ ٹیکنالوجی ہے اور نہ دوراندیش قیادت بلکہ مسلمان ممالک کی قیادت امریکہ اور غیروں کیلئے کام کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ذلیل اور رسوا ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی اس قسم کی پالیسیوں کی وجہ سے عوام میں احساس محرومی پایا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں