Daily Mashriq

حقائق جاننے کیلئے غیرملکی سفرا لائن آف کنٹرول پہنچ گئے

حقائق جاننے کیلئے غیرملکی سفرا لائن آف کنٹرول پہنچ گئے

پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے دعوے کو بے نقاب کرنے اور حقائق سے آگہی کے لیے غیرملکی سفرا، ہائی کمشنر کو آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ کروانے کے لیے وادی نیلم پہنچا دیا۔

تاہم پاکستان میں متعین بھارتی ناظم الامور گورو اہووالیا ان سفرا کے ساتھ ایل او سی پر نہیں گئے۔

ایل او سی کا دورہ کرنے والے غیرملکی سفرا کے ہمراہ وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود ہیں۔

اس دورے کے دوران سفرا و ہائی کمشنرز کو بریفنگ بھی دی جائے گی اور ان وہ جورا، شاہ کوٹ اور نوشہری سیکٹرز کا دورہ کریں گے اور ان مقامات کا جائزہ بھی لیں گے جنہیں بھارتی اشتعال انگیزی کی صورت میں نقصان پہنچا۔

قبل ازیں اس دورے سے کچھ گھنٹوں قبل ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کچھ ٹوئٹس بھی کی تھی، جس میں انہوں نے اس معاملے پر بات کی تھی۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ 'بھارتی آرمی چیف کا دعویٰ محض دعویٰ ہی رہ گیا، بھارت کا کوئی سفارتکار ایل او سی کے دورے پر نہیں آیا اور نہ ہی بھارت نے مبینہ لانچنگ پیڈز کے کوآرڈینیٹس فراہم کیے'۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ نے ایک ٹوئٹ کی تھی، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ 'بھارتی سفارتخانے نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پیش کش کا جواب نہیں دیا، یہ چیز اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ان کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے دعووں کی حمایت کرنے کے لیے کوئی زمینی حقائق نہیں ہیں'۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ بھارتی حکام جلد جواب دیں گے۔

بعد ازاں ڈاکٹر فیصل کے ٹوئٹ کے ردعمل میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ بھارت کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے دعوے کو سچ کہنے کا جواز نہیں، اگر وہ دورہ نہیں کرنا چاہتے تو ہمارے دفتر خارجہ سے جگہ کی لوکیشن شیئر کر لیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم غیر ملکی سفارت کاروں اور میڈیا کو کل ان مقامات پر لے جائیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔'

واضح رہے کہ 20 اکتوبر کی رات کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'بھارتی آرمی چیف کا آزاد جموں و کشمیر میں مبینہ طور پر 3 کیمپس تباہ کرنے کا دعویٰ مایوس کن ہے، کیونکہ وہ ایک انتہائی ذمہ دارانہ عہدے پر فائز ہیں۔'

انہوں نے کہا تھا کہ 'ایسے کوئی کیمپس نہیں ہیں جنہیں ہدف بنایا گیا ہو جبکہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن اگر یہ ثابت کر سکتی ہے تو غیر ملکی سفارت کاروں اور میڈیا کو اس جگہ لے جائے۔'

خیال رہے کہ بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے آزاد کشمیر میں واقع وادی نیلم میں مبینہ دہشت گرد کیمپس تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جسے پاکستان نے مسترد کردیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں ‘ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ( یو این ایس سی ) کے 5 مستقل ممالک (پی -5) سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بھارت کو مبینہ ٹھکانوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا کہیں‘۔

دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممالک کے سفارتکاروں کو بھارت کا جھوٹ بے نقاب کرنے کے لیے ان مقامات کا دورہ کروانےکی خواہش کا اظہار کیا تھا'۔

دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ’ بھارت کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانا مقبوضہ جموں کشمیر میں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے‘۔

ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزی

واضح رہے کہ 20 اکتوبر کو آزادجموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال شیلنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان اور 6 شہری شہید ہوگئے تھے۔

بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سماجی رابطے پر کیے گئے ٹوئٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید جبکہ دیگر 2 زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا تھا کہ پاک فوج نے بھارتی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کرتے ہوئے بھارتی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 9 بھارتی فوجی ہلاک جبکہ دیگر 9 زخمی ہوگئے۔

بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی کے باعث 2 بھارتی بنکرز بھی تباہ ہوگئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ 'پاکستان کی موثر کارروائی کے بعد بھارتی فوج نے سفید جھنڈا لہرا دیا، بھارتی فوج لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانے کی کوشش کی'۔

ٹوئٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ 'بھارتی فوج کو سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی سے پہلے سوچنا چاہیے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرتے ہوئے فوجی اصولوں کا احترام کرنا چاہیے'۔

متعلقہ خبریں