دہشت گردی کی اس قسم کو بھی شکست ہونی چاہئے

دہشت گردی کی اس قسم کو بھی شکست ہونی چاہئے

وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے زور بازو سے دہشتگردوں کو شکست سے دو چار کیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ دنیا 2013ء میں پاکستان کو خطرناک ملک سمجھ رہی تھی تاہم آج ملک سے دہشتگردی ختم ہوچکی ہے۔ملک نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کیا ہے ، ان قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ نہ صرف ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی بلکہ اقتصادی ترقی میں بھی مسلسل بہتری آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا پاکستان کو ایشیاء کی ابھرتی ہوئی معیشت تسلیم کرنے پر مجبور ہے اور کوئی بھی قوت اسے دہشت گرد ملک قرار دینے کی جرات نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی ملک کا دفاع اس کی مضبوط معیشت سے منسلک ہوتا ہے اور معیشت کی مضبوطی کیلئے امن و امان کا قیام اور سیاسی استحکام ضروری ہوتا ہے ، پاکستان کو2025ء تک ایشیا کا ٹائیگر بنانے کیلئے ان باتوں پر عمل ضروری ہے۔اس بارے دوسری رائے ممکن ہی نہیں کہ وطن عزیز کی معاشی ترقی کے لئے امن و امان ضروری ہے لیکن ہمارے سیاستدانوں کو اب اس امر کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملکی ترقی و استحکام کے لئے بدعنوانی کا خاتمہ بھی انسداد دہشت گردی سے کم ضروری نہیں۔ وزیر داخلہ نے ایک ایسے وقت میں یہ بیان دیا ہے جب سابق وزیر اعظم اپنی نا اہلی کے بعد ملک چھوڑ چکے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں ان کے خلاف ریفرنسز دائر ہو رہے ہیں جبکہ ملک کے وزیر خزانہ کو نیب نوٹس کی تعمیل کروانے کی سعی میں ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ سابق وزیر اعظم کی علیحدگی کے بعد ملک کا سرمایہ دار طبقہ اپنے سرمایہ کو سمیٹنے لگاہے جس کی بناء پر بنکوں اور منی ایکسچینج سے لے کر کاروباری طبقے کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے بلکہ بری طرح متاثر ہوچکا ہے۔ سٹاک ایکسچینج میں لوگوں کا کروڑوں اربوں کا سرمایہ ڈوب چکا ہے اور انڈیکس مسلسل نیچے آرہا ہے۔ سیاسی ہمدردی جماعتی وابستگی اور کسی فیصلے سے اختلاف یہاں تک کہ نا انصافی سمجھنے کا سبھی کو حق حاصل ہے۔ لیکن پسند و نا پسند کی بنیاد پر حکومتیں ہٹانے اور ہٹوانے کا جو کھیل وطن عزیز میں ایک عرصے سے جاری ہے اس کے رد عمل میں وطن عزیز میں کاروباری امور کو ٹھپ کردینے والے عوامل اختیار کرنا اور اس کا سبب بننا ان عناصر کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے خلاف اقدام کے مترادف ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں اب اداروں کو اپنا کام بہتر طور پر کرنے کی ضرورت ہے تو سیاستدانوں کو صرف سیاست کرنی چاہئے اسے ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع اور اختیار نہیں گرداننا چاہئے۔ ہم کو جس دور میں بقاء کی جنگ لڑتے ہوئے متحد ہوجانا چاہئے آج دیکھا جائے تو ہم تاش کے پتوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں اور دشمن کے لئے تر نوالہ بنے ہوئے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال ہمیں دھمکانے کا از خود موقع دیتی ہے ۔ احسن اقبال کی اس بات سے تو اتفاق ہے کہ کوئی بھی قوت ہمارے وطن کو دہشت گرد قرار دینے کی جرأت نہیں کرسکتی۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج ہم پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور ہم خود اپنے گھر کی صفائی کی ضرورت کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اغیار کی سازشوں' دھمکیوں اور دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ملکی معیشت کی ترقی اور ملکی ترقی کے لئے دیانتدارانہ حکمرانی کے قیام اور پالیسیوں کی ضرورت ہے جب تک ملک میں کرپشن کے باعث ملکی ترقی کے وسائل افراد کے ہاتھوں میں جاتے رہیں گے ہماری معیشت میں بہتری آنہیں سکتی۔ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی ہی یہ ہے کہ ہم ایک مقروض قوم ہیں جن کو اپنے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لئے مزید سود پر قرضے لینے پڑتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں مصلحت اور مصلحت ہی ہماری مجبوری بن جاتی ہے۔ آج دنیا کی طاقتور قومیں اور ملک وہی سمجھے جاتے ہیں جن کی معیشت مضبوط ہو اور وہ اپنی ضرورتوں میں خود کفیل اور خوشحال ہوں ۔ کیا پاکستان میں اب تک کی گزری ہوئی حکومتوں کی کرپشن کی داستانوں کی گونج میں ہمیں ترقی کی کوئی آواز سنائی دینا ممکن ہے۔ یقینا نہیں ۔بنا بریں ہمیں جہاں اپنی بقاء اور سلامتی کے لئے دہشت گردوں اور دہشت گردی کے پس پشت قوتوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے وہاں ہمیں کرپشن اور بد عنوانی کے ناسور کو بھی کاٹ پھینکنے کے لئے جہاد کی ضرورت ہے۔ ہمیں من حیث القوم اس امر کو سمجھنا ہوگا کہ جب تک ہم دیانت اور ایمانداری کا رویہ اختیار نہیں کریں گے ہماری معاشی صورتحال میں بہتری نہیں آسکتی اور جب تک ہم ایک مضبوط معیشت کا حامل ملک نہیں بن جاتے اور اپنے اوپر سے قرضوں کا بوجھ ہلکا نہیں کر پاتے تب تک خود کو کسی خوش فہمی کاشکار بنانے کی بجائے بہتر یہی ہوگا کہ ہم حقائق کے مطابق ہی رویہ اختیار کریں۔ محولہ تمام حالات کے باوجود بھی اگر مغربی میڈیا پاکستان کو ایشیاء کی ابھرتی ہوئی معیشت قرار دیتا ہے تو یہ کسی اطمینان کا باعث امر نہیں بلکہ ان حالات میں تو اسے معجزہ ہی سمجھا جانا چاہئے یا پھر حقیقت حال کے تناظر میں ان تبصروں کے غیر معروضی ہونے کا گمان کیا جائے تو بھی غلط نہ ہوگا۔ سی پیک سے قوم نے جو امیدیں وابستہ کی ہیں اس حوالے سے زیادہ خوش فہمی بھی موزوں نہیں اس لئے کہ معاشی ترقی اور بہتری امیدوں اور گمان سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ سی پیک کا منصوبہ یقینا ملکی ترقی اور روز گار کے مواقع کے لئے خوش آئند ضرور ثابت ہوگا لیکن اس کی کامیابی کے لئے بھی ہمیں دیانتداری کے ساتھ سعی کرنا ہوگی۔ پاکستان کا اپنے زور بازو سے دہشت گردی کو شکست دینا یقینا اطمینان کا حامل لمحہ ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر ملک میں رشوت و بدعنوانی اور ملکی وسائل کو لوٹنے والے عناصر کو بھی قابو میں کیا جاسکے تو یہ بڑی اہم کامیابی ہوگی جس کی ملکی استحکام اور ترقی کے لئے دہشت گردی پر قابو پانے سے کم اہمیت نہیں۔

اداریہ