گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ

گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ

نیپرا نے وزارت توانائی کی درخواست پر بجلی 3روپے 90پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دی ہے جبکہ دوسری جانب گیس سیکٹر میں دو مختلف قیمتوں کے تعین پر حکومتی دعوئوں کے باوجود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں بننے والی گیس سیکٹر اصلاحات کی وجہ سے گھریلو صارفین کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سیاسی بنیادوں پر گیس نیٹ ورک کی بے قابو وسعت اور بغیر کسی اقتصادی استحکام کی حدود کی وجہ سے گیس صارفین اور سیاسی رہنما بڑے پیمانے پر سماجی، اقتصادی اور معاشی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔پاکستان میں گیس کی فراہمی کا نظام اب دنیا کے وسیع ترین مربوط نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے جو 1 لاکھ 41 ہزار کلومیٹر پر محیط ہے۔اس نیٹ ورک میں اب گیس کی طلب میں رسد سے دگنا اضافہ ہو گیا ہے جس نے گھریلو صارفین کو بے بس کردیا ہے اور صنعتیں بھی اپنا کام مکمل کرنے سے قاصر ہیں۔آزاد مشیر کے مطابق ملک میں موجودہ نظام کے تحت برابری کی بنیاد پر صارفین سے گیس کی قیمت وصول کی جارہی ہے اور پہلے سے منظور شدہ نرخ میں رد و بدل ڈفرینشل مارجن ایڈجسٹمنٹ کی شکل میں ایڈجسٹ کیا جارہا ہے تاہم گیس کی مکس فراہمی اور آر ایل این جی کے اثر و رسوخ کے بعد اوسط نرخ میں اضافہ ہوگا جس سے سب سے زیادہ متاثر گھریلو صارفین ہوں گے۔بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے گھریلو صارفین کا متاثر ہوناتو فطری امر ہے لیکن ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف یہاں تک نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات ہر قسم کی مصنوعات پر پڑتے ہیں جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور عوام کو مزید سخت حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیپرا کی جانب سے اچانک فی یونٹ تقریباً چار روپے کی منظوری سمجھ سے بالا تر ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں بتدریج کمی آتے آتے اچانک ساری کسر پوری کرنے کا باعث بننے والے اقدامات پر از سر نو غور کرنے اور عوام پر ایک بھاری بوجھ لاد دینے سے گریز کی ضرورت ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس غیر حقیقت پسندانہ اضافے پر مداخلت کریں گے اور یکایک بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ کو لاگو نہیں کیا جائے گا۔
شام کی کلاسوں کا اجرائ' احسن اقدام
پشاور یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات میں بی ایس شام کی کلاسز شروع کرنے کا اقدام دیر آید درست آید کے مصداق عمل ہے جس سے صبح کی شفٹ میں داخلے سے محروم رہ جانے والے سینکڑوں طالب علموں کو داخلے کا موقع ملے گا البتہ ان کلاسز کو سیلف فنانس سکیم کے طور پر شروع نہ کیاجائے بلکہ ان طالب علموں سے اگر رعایت ممکن نہیں تو ان سے وہی مقرر فیس لی جائے جو یونیورسٹی کے بی ایس پروگرام میں مروج ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ کے باعث متعدد نجی یونیورسٹیز کی موجودگی' اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کے قیام کے باوجود بھی طلبہ کو داخلوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تقریباً ہر علاقے میں یونیورسٹی قائم ہونے کے باوجود بھی صوبائی دارالحکومت کی یونیورسٹیوں پر طلبہ کا بوجھ کم نہیں ہوسکا ہے۔ بہر حال اس خوش آئند اقدام سے ان طالب علموں کو خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آسکیں گے جو صبح کے اوقات میں محنت مزدوری کرکے شام کے اوقات میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہوں۔ یونیورسٹی میں ایک مزید شفٹ شروع ہونے سے موجودہ اساتذہ کرام کو جہاں مزید مواقع میسر آئیں گے وہاں نئی تقرریوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روز گار کے مواقع میسر آئیں گے۔ شام کی کلاسوں میں اس امر پر خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہے کہ ان کادرسی معیار کسی طور بھی صبح کی کلاسوں سے کم نہ ہو۔ علاوہ ازیں طلبہ کی حاضری اور باقاعدگی سے کلاسیں لینے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صحیح معنوں میں اس سہولت سے استفادہ کیا جاسکے اور اس سے فارغ التحصیل طالب علموں کو مستقبل میں کسی پچھتاوے اور خجالت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور انتظامیہ شام کی کلاسوں کے لئے ایسا لائحہ عمل مرتب کریں گے جس کے نتیجے میں اس کے شروع کرنے کے مقاصد کماحقہ احسن طریقے سے پورے ہوسکیں گے۔

اداریہ