Daily Mashriq


جنگی جنون بمقابلہ غربت و پسماندگی

جنگی جنون بمقابلہ غربت و پسماندگی

ایک حالیہ میڈیا رپورٹ کے مطابق پچھلی ایک دہائی میں امریکہ اور بھارت کے درمیان فوجی سازوسامان کی تجارت 15 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو ایک دہائی پہلے نہ ہونے کے برابر تھی ۔ اگر بھارت اور پاکستان کے جنگی سازوسامان خریدنے کے رجحانات پر غور کریں تو ایسا لگتا ہے کہ آزادی کے وقت ہتھیاروں کے ساتھ شروع ہونے والا ہمارا عشق آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے اور مستقبل قریب میں اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت اس وقت ہتھیاروں کی خریداری کی مد میں مزید 30ارب ڈالر خرچ کرنے کے لئے پر تول رہا ہے۔ 2014ء میں فوربس میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت اگلے دس سالوں میں ہتھیاروں کی خریداری پر مزید 250ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ بھارتی وزیرِ دفاع منوہر پاریکر نے فوج کی ملٹری اپ گریڈیشن کے لئے اپنی وزارت کو اخراجات کا تخمینہ لگانے کا کام سونپ دیا ہے جس کے تحت بھارت اگلے دس سالوں میں مزید 500 ہیلی کاپٹر، 12 سب میرینز، تقریباً 100 سنگل انجن فائٹر جیٹ اور 120ٹوئن انجن ائیر کرافٹ اور ائیر کرافٹ کیریئر خریدے گا۔مندرجہ بالا ہتھیار اور دیگر جدید ترین جنگی سازوسامان دنیا کا وہ ملک خرید رہا ہے جس میں دنیا کی غریب ترین آبادی کی اکثریت بستی ہے۔ 2013ء میں لگائے گئے تخمینوں کے مطابق 30فیصد (224 ملین) بھارتی باشندے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ تقریباً 800 ملین بھارتی شہریوں کی روزانہ کی آمدنی 1.90 ڈالر سے کم ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ غربت کے مذکورہ اعداد و شمار بھارتی حکومت اور کرپٹ بھارتی وزارت دفاع کو نظر نہیں آتے۔ لیکن بھارت وہ واحد ملک نہیں ہے جو جنگی جنون میں مبتلا ہوکر انسانیت کو تباہ کرنے والے مہلک ہتھیار خریدنے میں مگن ہے ۔ ہتھیار خریدنے کی اس دوڑ میں بھارت سے رقبے ، آبادی اور معیشت میں کئی گنا چھوٹا پاکستان بھی شامل ہے۔

انسان اور ماحول وہ دو اجزاء ہیں جو دولت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہیں لیکن ہماری ہوس انسان اورماحول دونوں کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اگر پوری دنیا کے عسکری بجٹ کی بات کی جائے تو پچھلے ایک سال ، یعنی 2016ء میں دنیا نے دفاع کے بجٹ پر 1600 ارب ڈالر خرچ کئے ہیں لیکن ہم میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں جو بھوک و افلاس، غربت اور بدحالی سے انسانوں کا دفاع کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہو۔ دنیا کی کل آبادی کا 9 فیصد خط ِغربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے جبکہ تقریباً 3 ارب لوگوں کی روازنہ کی آمدنی 3 ڈالر سے کم ہے اور دنیا کی 80 فیصد آبادی کی روزانہ آمدنی 10 ڈالر سے کم ہے۔ لالچی انسانوں کے بنائے گئے اس اقتصادی نظا م نے غربت کے سمندر میں امارات کے جزیرے بنائے ہیں جن پر صرف دنیا کی ایک قلیل آبادی ہی رہائش پذیر ہے۔ دنیا کی تاریخ میں شاید ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ لاکھوں لوگ خوراک کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ دولت کی بہتات کی وجہ سے لقمہِ اجل بن رہے ہیں کیونکہ یہ بے تحاشہ دولت صرف چند ہاتھوں تک محدود ہے۔ اس معاشی نظام نے دنیا کے امیر ترین ایک فیصد لوگوں اور غریب ترین طبقے کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج پیدا کردی ہے ۔ 2015ء میں لگائے گئے تخمینوں کے مطابق دنیا کی کل آبادی 7.35 ارب تھی اور دنیا میں پائی جانے والی ذاتی دولت کا اندازہ 250 کھرب ڈالرز لگایا گیا تھا جس میں نصف دولت یعنی 125 کھرب ڈالرز دنیا کے 1 فیصد (73 ملین) امیر ترین لوگوں کے پاس ہے۔ مارچ 2017ء میں فوربس میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ارب پتی افراد کی تعداد1810 سے بڑھ کر 2043 ہوچکی ہے جن کے پاس 7.67 کھرب ڈالر ز کی دولت کے ذخائر موجود ہیں ، جو ایک ریکارڈ ہے۔ ایک طرف تو ہم ہتھیاروں کی خریداری میں پاگل ہوکر ماحول کو تباہ کرنے ساتھ ساتھ انسانوں کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور دوسری طرف معاشی عدم توازن کی خلیج میںاضافہ کرکے انسانوں کو اپنی موت آپ مرنے پر مجبور کررہے ہیں۔1945ء سے پہلے ہونے والی دو جنگِ عظیموں نے دنیا سے 300 ملین افراد کا خاتمہ کیا تھا اور 1945ء کے بعد 200 سے زائد عسکری معرکہ آرائیاں لاکھوںانسانوں کو لقمہِ اجل بنا چکی ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا سے خون کی پیاس کا خاتمہ ہونا ناممکن ہے کیونکہ آج بھی عراق ، افغانستان، شام، میانمار، کولمبیا اور دیگر کئی ملکوں میں انسانیت کا خون زوروشور سے بہایا جارہا ہے ۔ دنیا کی تباہی میں صرف جنگیں ہی اپنا کردار ادا نہیں کررہیں بلکہ دنیا کے ماحول کے آلودہ کرنے کی ذمہ داری بھی دنیا کی افواج پر عائد ہوتی ہے جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بننے والی مختلف ایکسرسائز میں مصروف رہتی ہیں۔ کیا ہمیں اس بات کا اندازہ ہے کہ زمین، فضا اور سمندر میں کی جانے والی ملٹری ایکسرسائز ماحول کے لئے کس قدر نقصان دہ ہیں ؟ کیا کسی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ پچھلی چند دہائیوں میں چلائے جانے والے 2500 ایٹم بم دنیا کے ماحول پر کس طرح اثرانداز ہوئے ہیں ؟ ہم ایسے معاشی نظام کو اپنانے کی کیا توجیہہ پیش کرسکتے ہیں جس کے تحت ممبئی، کراچی، ریو، کولکتہ اور دیگر سینکڑوں بڑے شہروں میں ان گنت کچی بستیوں کے قریب ہی وہ لوگ بستے ہیں جن کے محلات کی تعداد کا اندازہ وہ خود بھی نہیں لگاسکتے۔اس نظام کو تبدیل کیسے کیا جائے ؟ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے، دنیا کے تمام ممالک جنگی جنونیت کو ختم کرکے ہتھیاروں پر دولت خرچ کرنے کی بجائے انسانوں کی فلاح و بہبود پر دولت خرچ کریں تاکہ نسلِ انسانی کے ساتھ ساتھ دنیا اور اس کے ماحول کو بھی بچایا جاسکے۔

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں