Daily Mashriq


یہ غلامی کب تک؟

یہ غلامی کب تک؟

محنت کشوں کی بین الاقوامی تحریک اور بین الاقوامی ہجرت تنظیم کے محتاط اندازوں کے مطابق اس وقت دنیا میں 40.3 ملین لوگ ایسے ہیں جو غلامی کی بندشوں کا شکار ہیں۔ اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اس دور میں جبری مزدوری کرتے ہیں اور جبری شادی کو بھی غلامی میں ہی تصور کیاجاتا ہے۔ ان لوگوں میں سے24.9ملین لوگ فیکٹریوں' تعمیراتی جگہوں' زرعی فارموں' ماہی گیری کی کشتیوں' اینٹوں کے بھٹوں اور دیگر کئی قسم کے کاموں کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ جبکہ 15.4ملین لوگ ان شادیوں کے بندھن میں مقید ہیں جن میں وہ اپنی مرضی کے بغیر باندھ دئیے جاتے ہیں۔ اندازے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر چار میں سے تین ایسے غلام' عورتیں ہیں جبکہ ایک بچہ ہے۔ یہ غلامی افریقہ میں سب سے زیادہ ہے جبکہ اس کے بعد ایشیا اور پیسفک کا نمبر آتا ہے۔ اندازے یہ بھی کہتے ہیں کہ ان میں سے آدھے سے زیادہ لوگ قرضوں کے باعث اس غلامی کاشکار ہیں اور ان کی اکثریت اپنی ساری زندگی اسی غلامی سے نبرد آزما ہو کر گزار دیتی ہے۔

آج کے دور میں غلامی کی یہ باتیں اور غلامی کے دائروں میں الجھے لوگوں کی یہ تعداد حیران کن ہے۔ دنیا دوسرے سیاروں پر زندگی تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ وہ دوسرے سیاروں پر رہنے کے امکانات کا حساب لگا رہے ہیں اور یہاں لوگ غلامی کے بھنور سے ہی آزاد نہیں ہو پاتے۔ ان کی زندگیاں کیسے ضائع ہو رہی ہیں۔ یہ دور جو جدت اور آزادی کا دور ہے جس میں آزادی کی ایسی جہتوں پر بھی بات ہونے میں کوئی مضائقہ محسوس نہیں کیاجاتا جو اخلاقی دائرہ کار سے بھی باہر نکلی ہوئی باتیں ہیں۔ اس دور میں 40ملین لوگ غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں اور یہ غلامی ایک دو دن کی غلامی نہیں۔ اس غلامی کی سزا انہیں تمام عمر کے لئے سنا دی گئی ہے۔ انسانیت کو تو اپنی اس تذلیل پر نوحے پڑھنے چاہئیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو متحد ہو کر اس غلامی کے خاتمے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہر جانب سے بس ایک ہی آواز آنی چاہئے کہ اس دنیا کے چھ بلین لوگ مل کر 40ملین کی غلامی دور کرنے کا بیڑا اٹھا لیں گے اور اس وقت تک رات کو چین سے نہیں سوئیں گے جب تک اس سب کا سدباب نہ ہو جائے۔

دل تڑپتا ہے اور پھر سوچتی ہوں کہ اس چالیس ملین کے دکھ میں کیسے نوحہ کناں ہوں۔ میرے ارد گرد تو چہار سو غلامی پھیلی ہوئی ہے۔ میں جس ملک میں رہتی ہوں اس ملک کے بائیس کروڑ لوگ مسلسل تہہ در تہہ غلامی کا شکار ہیں۔ ہر بچہ ہزاروں کا مقروض پیدا ہوتا ہے اور اپنی ساری زندگی کی تگ و دو کے بعد بھی کبھی اس غلامی سے نہیں نکلتا۔ ہم وہ لوگ ہیں جن کا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔ ہم نے یہ پیسے کبھی دیکھے نہیں' کبھی خرچ نہیں کئے۔ یہ ہمارے بادشاہوں کی خواہشات کا سود ہے جو ہم ہر لمحہ' ہر پل چکاتے ہیں۔ لیکن کبھی گلہ نہیں کرتے۔ کبھی آہ و فغاں نہیں کرتے۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ سے ہی غلامی کی ہے۔ پہلے ہم انگریزوں کے غلام رہے اور اب ہم اپنے حکمرانوں کے غلام ہیں۔ ہم پہلے بھی غلام تھے اور اب بھی غلام ہیں اور ابھی تک اس غلامی سے آزادی کا کوئی امکان بھی نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمیں اس غلامی کا کوئی ادراک نہیں اور کوئی غم بھی نہیں اور شاید اسی لئے ہم نے کبھی اس صورتحال کا اپائے کرنے کے حوالے سے کوئی سوچ بچار بھی نہیں کی۔ اس کا اپائے کرنے کے بارے میں ہم سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔ یہ غلامی صرف اسی حد تک کہاں ہے۔ یہ غلامی تو ذہن کی بھی ہے۔ سوچ کی ہے' خیال کی ہے' احساس کی ہے۔ اس غلامی سے چھٹکارا پانے کے لئے تو اس قوم کو اپنے سوچ کے انداز بدلنے ہوں گے۔ خیالات کی رو بدلنی ہوگی۔ ذہن کے افکار بدلنے ہوں گے۔ یہ غلامی تو اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک اس قوم کو یہ احساس نہ ہو کہ انہیں اس غلامی کی ضرورت نہیں۔ اس غلامی کا کوئی کیا حل کرے کیسے کرے۔ کوئی کیا سوچے' کیا راہ تلاش کرے۔ سوچتی ہوں تو ہر جانب سے راستہ بند دکھائی دیتاہے۔ اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔ اس خیال سے دل ہولتا ہے کہ ہماری راہیں کسی منزل کی جانب سفر کرتی دکھائی نہیں دیتیں۔ ہم اندھیروں میں اپنے راستے کھو رہے ہیں کیونکہ ہمیں کسی چیز کا احساس ہی نہیں۔ ہمیں یہ خیال تک نہیں آتا کہ یہ لوگ جو ہم پر حکمران ہیں خواہ ان کے نام کوئی بھی ہوں ان کے چہرے کیسے بھی دکھائی دیں' ان کا مقصد صرف اپنے مفادات کی حفاظت ہے۔ یہ ان مفادات کی بند گلیوں میں ہمارے مستقبل کے دئیے بجھاتے رہتے ہیں۔ ان بند گلیوں میں کتنی سفاکی اور عیاری سے یہ ہمارے ہی بچوں کے مفادات کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں۔ محنت کشوں کی بین الاقوامی تنظیم کو 40ملین لوگ دکھائی دئیے۔ اس ملک کے بائیس کروڑ عوام کیسے نہ دکھائی دئیے۔ اپنی مرضی کے بر خلاف شادی کئے جانے پر بھی انہیں لوگ غلام محسوس ہوتے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ انہیں حکمرانوں کے قرضوں کا بوجھ اٹھاتی قوم غلام نہیں لگتی۔ انہیں بدعنوانی کا خون تھوکتے لوگ غلام نہیں لگتے۔ وہ سیاست دانوں کے جھوٹ کے طوق اٹھاتے لوگ بھی غلام نہیں لگتے۔ ہم ایسے غلام ہیں جو شاید اب دنیا میں کسی کو دکھائی نہیں دیتے۔ شاید ہمارے ہانپنے کی آواز بھی کسی کو سنائی نہیں دیتی۔ شاید ہم اب اس غلامی کے ایسے عادی دکھائی دیتے ہیں کہ دنیا میں کسی کو ہماری بے بسی محسوس نہیں ہوتی۔ میں سوچتی ہوں تو بے بسی کا احساس سوا ہو جاتا ہے لیکن اس بے بسی کا بھی تو کوئی اُپائے نہیں۔

متعلقہ خبریں