Daily Mashriq


خطرے کی گھنٹی

خطرے کی گھنٹی

اس الیکشن میں ''ہار'' وہ ہے جو پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے حصے میں آئی چنانچہ اگر کسی کو سنجیدگی سے بیٹھ کر اپنے طرز ِعمل اور ووٹروں کی ترجیح کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے تو وہ ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو ہے کہ وہ اتنی بُری شکست سے کیوں دوچار ہوئیں۔ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی قومی سطح کی جماعتیں سمجھی جاتی ہیں اور حالت یہ ہے کہ لاہور کے ضمنی الیکشن میں ان جماعتوں کے اُمیدواران نے اتنے ووٹ بھی نہیں لیے جتنے ایک یونین کونسل میں جیتنے والا اُمیدوار عموماًلے لیتاہے۔ یہ ناگفتہ بہ حالت زار ان دو جماعتوں کی ہے جن کا لاہور سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ یوں یہ کہنا بھی مناسب نہیں کہ سندھ کی پیپلز پارٹی اور پختونخوااور دیر کی جماعت اسلامی کے لیے یہ حلقہ این اے 120کوئی اجنبی حلقہ تھا۔ پیپلز پارٹی نے لاہور سے جنم لیا جب کہ جماعت اسلامی کا مرکزی دفتر منصورہ لاہور میں ہے۔ سنی لبیک یا رسول اللہ تحریک اور نومولود ملی مسلم لیگ کی کارکردگی بھی ان کی نسبت بہتر رہی۔ جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو اس نے ہار کر بھی بہت کچھ پایا ہے۔ تحریک انصاف کے کیمپ میں جیتنے کی زیادہ اُمید کسی نے نہ لگائی تھی' وہاں پیشِ نظر صرف یہ بات تھی کہ ن لیگ کی جیت کامارجن زیادہ نہ ہو۔ یہ حلقہ ہمیشہ سے مسلم لیگ ن کا حلقہ رہا ہے۔ 2013میں میاں نواز شریف کو جو ووٹ ملے وہ مجموعی پول ہونے والے ووٹوں کاساٹھ فیصد تھے لہٰذا ن لیگ کی فتح واضح مارجن کے ساتھ تھی۔ اب صورتحال کچھ یوں تبدیل ہو گئی ہے کہ فتح کے باوجود مسلم لیگ ن پول ہونے والے ووٹوں کا پچاس فیصد لینے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ ایک لاکھ پچیس ہزار درست ڈالے گئے ووٹوں کی اکثریت نے مسلم لیگ ن کے خلاف حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہ وہ لاہور ہے جہاں پنجاب کا بیشتر بجٹ خرچ کیا گیا ہے اور جہاں میٹرو بس سروس اور اورنج ٹرین جیسے کثیر سرمائے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں' اس لاہور میں لیگی فتح کا یہ معمولی تناسب یقینی طور پر لیگی قیادت کی نیندیں اُڑانے کا باعث بنا ہوگا۔ نواز شریف کے چہرے پر بھی بے چینی اور غصے کے تاثرات نمایاں تھے۔ میاں نواز شریف اور اُن کے قریبی ساتھی ایک بڑے مارجن سے فتح کی امید لگائے بیٹھے تھے لیکن ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ این اے 120میں ہونے والے انتخابی معرکے نے 2018ء کے انتخابات کے حوالے سے لاہور کا موڈ بتا دیا ہے ۔ تحریک انصاف بجا طور پر اب یہ توقع کر سکتی ہے کہ لاہور کی نشستوں کی ایک بڑی تعداد ان کی جھولی میں آگرے گی۔ خاص طور پر جب کہ ان کے پاس جیتنے کی صلاحیت رکھنے والی امیدواروں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ چوہدری سرور' علیم خان ' چوہدری شفقت محمود اور ڈاکٹر یاسمین راشد جیسے قدآور رہنما آئندہ الیکشن میں جس سیٹ سے بھی لڑیں گے کامیابی اُن کے قدم چومے گی۔ یہ بات نوشتہ دیوار ہے کہ تحریک انصاف آئندہ عام انتخابات میں لاہو رکی اکثریتی جماعت بن کر اُبھرے گی۔ 2013ء کے الیکشن سے قبل بھی یہی صورت حال تھی مگر تحریک انصاف الیکشن کی اچھی حکمت عملی ترتیب نہ دے سکی۔ مسلم لیگ ن چونکہ انتخابات کو ''مینج'' کرنے کا ہنر جانتی تھی چنانچہ تحریک انصاف کی مقبولیت کے باوجود وہ لاہور لے اُڑی۔ 30اکتوبر 2011ء کو مینار پاکستان تلے ہونے والے بے مثال اجتماع کے بعدکیا اس بات کی گنجائش بچتی تھی کہ لاہور سے تحریک انصاف کے علاوہ کوئی دوسری جماعت ایک سیٹ بھی نکال لے۔ آج کی مسلم لیگ ن شاید وہ ہنر دوبارہ نہ آزما سکے چونکہ اب درون خانہ اختلافات کی خبریں کچھ اور پیغام دے رہی ہیں۔ شریف فیملی کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں ، وقتی طورپر اگرچہ خاموشی ہے لیکن جان رکھیے یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ تحریک انصاف کے لیے بھی اس الیکشن میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ تحریک انصاف اگر مسلم لیگ ن کو پنجاب میں چاروں شانے چت کرنا چاہتی ہے تو اُسے ان تمام لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا پڑے گا جو مسلم لیگ ن کے مخالف ہیں۔ حلقہ این اے 120میں جن دو نئی سیاسی قوتوں کا ظہور ہوا ہے ان کے ووٹ اگر تحریک انصاف کے حق میں پول ہوں گے تو اس کافائدہ ان حلقوں میں یقینا ہو گا جہاں پانچ دس ہزار ووٹوں کافرق جیت ہار میں اہم کردار ادا کرے گا۔ تحریک انصاف اگر ماضی کی طرف سولو فلائٹ کرنے کی کوشش کرے گی تو عام انتخابات میں ہر گز وہ نتائج حاصل نہ کر سکے گی جو مرکز میں حکومت بنانے کے لیے اُسے درکار ہیں۔ تحریک انصاف کو بے اعتنائی کا کلچر ختم کرنا پڑے گا اور پوری قوت اور دلجمعی کے ساتھ مسلم لیگ ن مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ معاملہ کرنا ہوگا۔ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ عمران خان اس مرتبہ پریکٹیکل اپروچ کے تحت چل رہے ہیں جو معروضی حالات میں ایک درست فیصلہ ہے۔ گزشتہ الیکشن کی حرکیات مختلف تھیں' پی ٹی آئی کا رومانس سر چڑھ کر بول رہا تھا اور عمران خان کو یقین تھا کہ پارٹی مقبولیت کی بنیاد پر کمزور اور گمنام امیدوار بھی جیت جائیں گے مگر ایسا پھر بھی نہ ہو سکا۔ اب صورت حال بدل چکی ہے ، آج تحریک انصاف کو ووٹ ''بائی ڈیفالٹ'' ملتا ہے تو یہ بھی اس کی کامیابی ہے لیکن مسلم لیگ ن مخالف ووٹ تقسیم نہیں ہونے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں