گھر گھر صفائی نہیں بھل صفائی کی ضرورت ہے

گھر گھر صفائی نہیں بھل صفائی کی ضرورت ہے

نون لیگ کے اندر ''گھر کی صفائی'' کے سوال پر جو بحث جاری ہے اس سے ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر صفائی واقعتاً ضروری تھی تو چار سال تک مسلم لیگ(ن) کی حکومت کیا کرتی رہی۔ کیوں اس نے اس اہم ترین مسئلہ پر توجہ نہ دی؟ کیا خود چودھری نثار علی خان اپنی وزارت کے چار سالوں میں ان عناصر کی سرپرستی نہیں فرماتے رہے جو عام صفائی پروگرام کی بجائے بھل صفائی کے ذریعے ختم ہونے چاہیئے تھے۔ دنیاآج ہمارے (پاکستان) بارے کیا کوئی نئی بات کہہ رہی ہے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ہمیشہ ''سارے سوار دہلی جا رہے ہیں'' والی بات کرکے تنہائی اور اس سے بندھے دوسرے معاملات پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔ ہماری اشرافیہ نے روز اول سے ہی غلط سمت میں قدم اٹھایا۔ پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کی بجائے دور کے دیسوں سے محبت واطاعت کے یکطرفہ رشتے جوڑ کر گزرے 70برسوں میں کیا ملا؟ یہاں مگر بد قسمتی یہ ہے کہ آپ سیاستدانوں کے لئے تو ہر نا مناسب لفظ بھی کھٹ سے بول لکھ لیتے ہیں لیکن جن سے سوال ہونے چاہئیں ان سے تو بات کرنے میں بھی مسائل ہیں۔ حب الوطنی کے خوانچے لگائے اسناد وفاداری فروخت کرنے والے جان کو آجاتے ہیں۔ کیا حب الوطنی کا جذبہ یا یوں کہہ لیں یہ چورن ''جنس بازار'' ہے۔ آخر کیوں ہم ان سب لوگوں کی حب الوطنی پر انگلیاں اٹھاتے ہیں جو سماجی صداقتوں اور عمرانی معاہدے کے اصولوں کے مطابق اداروں کے کردار ادا کرنے کی ضرورت کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ حب الوطنی اور مذہب ہر دو انسان کے انفرادی معاملات ہیں۔ مثلاً میں سرائیکی ہوتے ہوئے بھی پاکستانی اور مسلمان ہوں۔ یہ ضد کیوںکہ پہلے مجھے مسلمان اور پھر پاکستانی ہونا چاہئے اس کے علاوہ کی کوئی شناخت حب الوطنی کو بھرشٹ کردیتی ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ایک ملک میں مشترکہ وفاقی ( ملکی) شناخت سے بندھی اقوام کی اپنی بھی تاریخ ہے۔ انڈس ویلی( یہ اب پاکستان کی شناخت رکھتی ہے) میں جو پشتون ' سرائیکی' پنجابی' سندھی اور بلوچ آباد ہیں انہوں نے کیا راتوں رات قومی ثقافتی و تاریخی شناخت کا سفر طے کرلیا؟ جی نہیں صدیاں لگتی ہیں قومی تشخص کے بننے اور منوانے میں۔ قومی تشخص کوئی نئے فیشن کا لباس نہیں آپ نے پہنا اور دنیا تبدیل ہوگئی۔

مذہب کا معاملہ بھی وہ ہر گز نہیں جو عرف عام کے تاثر میں بندھا ہے۔ ایک مذہب پر مختلف اقوام کا اکٹھا ہونا اس کی تعلیمات کے پر اثر ہونے کی دلیل ہے۔ کیا ہم کسی افریقی' امریکی' ایرانی یا سعودی مسلمان کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی قدیم علاقائی قومی ثقافتی شناخت کو قربان کردے؟ بالکل نہیں کریں گے۔ بنیادی بات جسے مد نظر رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ کیا مذہب کی ایمان افروز اور انسانیت پر ور تعلیمات اور رہنما اصولوں پر عمل ہوا۔ ہمارے یہاں ہر کام الٹا ہوتا ہے۔ ہمیں تقسیم کے بعد پڑوسیوں سے تعلقات جوڑنے تھے ہم امریکہ کی گود میں جا بیٹھے۔ افغانستان کے اندر لڑی گئی امریکہ سوویت یونین جنگ میں غیر جانبدار رہنا چاہئے تھا ہم فریق بنے بلکہ جنون کے جھنڈے لہراتے قیادت کے درجہ پر فائز ہوگئے۔ نتیجہ کیا نکلا۔ افغان جنگ کے زمانہ میں جب سیاسیات و صحافت کے طلباء یہ سوال اٹھاتے تھے کہ ر یاست جو لشکر بنا رہی ہے جنگ کے خاتمے پر ان کا کیا ہوگا؟ تو ہمارے مجاہدین پرور دوست جھٹ سے فتوے دے مارتے تھے۔ مگر ہم سب نے دیکھا جیسے ہی امریکی مفادات پورے ہوئے وہ اپنے مغربی اتحادیوں سمیت پتلی گلی سے نکل گیا۔ خانہ جنگی کا دروازہ کھلا اور لاکھوں افغان مرد و زن کھیت ہوگئے۔ افغان خانہ جنگی کے اس زمانے میں ہمارے یہاں کے مختلف الخیال گروہوں نے اپنے لوگوں کو عسکری تربیت دلوائی نتیجتاً پرائی جنگ ہمارے گھروں میں داخل ہوگئی۔
بہت ادب سے عرض کروں کہ دستیاب معلومات کی روشنی میں آج بھی 2014ء کے سانحہ ماڈل ٹائون کو لیگی حکومت کی طرف سے غیر ریاستی لشکروں کے خلاف اقدامات کا جواب سمجھتا ہوں۔ مسلم لیگ(ن) نے پچھلے چار برسوں کے دوران عملی طور پر اپنا وزن ان قوتوں کے پلڑے میں ڈالا جن کے حوالے سے آج گھر کی صفائی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ بہت ادب سے عرض کروں صورتحال کی ذمہ داری میں لیگی قیادت اور حکومت برابر کی شریک ہے۔ اچھا چلیں اب بھی آپ کو نیک نیت مان لیتے ہیں۔ واقعتا گھر کی صفائی ناگزیر ہے۔
آغاز کیجئے پنجاب سے جو ہمہ قسم کے شدت پسندوں کے لئے جنت مقام کا درجہ رکھتا ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون اور وفاقی ٹیکس محتسب کو لائیے انصاف کے کٹہرے میں۔ ویسے لیگی حکومت صفائی پروگرام میں سنجیدہ تھی اور کسی ادارے نے رکاوٹ ڈالی تو پارلیمان میں پہنچ کر دو ٹوک انداز میں صفائی پروگرام کے مخالف ادارے کا نام لیجئے۔ معاف کیجئے گا یہاں سب ساری باتیں جانتے ہیں۔ کون کس کا پروردہ اور کس کا محفوظ اثاثہ تھا اور ہے یہ کوئی راز نہیں جو چراغ اللہ دین رگڑنے سے ظاہر ہوگا۔ عوام کو یہ پوچھنے کا حق ہے کہ یہ انداز تکلم پچھلے چار سالوں میں کیوں نہ اپنایاگیا۔ کیا یہ درست نہیں کہ جب بھی انتہا پسندی اور اس کی نرسریوں بارے سوال ہوا خود ہمارے لیگی دوست کھانے کو دوڑتے تھے۔ چلیں اب سمجھ میں آگیا ہے تو بیانات دینے کی بجائے عمل کے میدان میں قدم رکھیئے تو سہی۔

اداریہ