Daily Mashriq

ٹرمپ کی ایک اور حماقت

ٹرمپ کی ایک اور حماقت

ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو اگست 2019ء کو واشنگٹن کے قصر سفید میں صحافیوں سے ایک نشست میں کہا کہ: ''وہ یعنی امریکا افغانستان جیسی جنگ کی دوبارہ حماقت نہیں کرے گا۔ اور چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اپنی افواج کا افغانستان سے انخلا یقینی بنائیں۔ اور میں امریکا کو اس احمقانہ جنگ سے نکالنا چاہتا ہوں''۔ان کے ملک کو اس جنگ میں شامل ہونا ہی نہیں چاہیے تھا''۔ یقینی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عرصے میں طالبان کے ساتھ مذاکرات میں انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ چنانچہ طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان بڑے اہتمام، تسلی اور سوچ بچار کے ساتھ مذاکرات کے نو دور ہوئے۔ پوری دنیا نے ان مذاکرات سے اچھی امید باندھی۔ علی الخصوص افغان عوام کی نگاہیں امن اور صبح آزادی پر مرکوز رہیں۔ مذاکرات کا مسودہ تیار ہوا جس کی ایک کاپی قطر کی حکومت کو دی گئی، ایک طالبان اور ایک کاپی امریکی مذاکراتی نمائندوں کے حوالے ہوئی۔ افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے بقول قطر کی حکومت کی جانب سے تقریب میں معاہدے کے اختتام کا اعلان کیا جانا تھا۔ چناںچہ یکایک ڈونلڈ ٹرمپ نے8ستمبر کو اپنے ٹویٹ کے ذریعے مذاکرات کی معطلی کا اعلان کر دیا۔ جس کے لیے طالبان کے 6ستمبر 2019کو کابل میں ایک حملے میں مارے جانے والے امریکی سپاہی کا بہانہ تراشا گیا۔ گویا امریکی صدر نے ایک اور حماقت کا مظاہرہ کر ڈالا۔ حالانکہ افغانی روزانہ کی بنیاد پر کٹ مر رہے ہیں ان کی آبادیاں نشانہ بن رہی ہیں۔ اسکول، مساجد اور بازاروں پر بم اور گولیاں برسائی جاتی ہیں۔ اور امریکا نے اٹھارہ سال سے معصوم افغان عوام پر جنگ مسلط کر رکھی ہے اور ان کے وطن پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انتخابات اور جمہوری حکومت کے نام پر کابل میں اپنے کٹھ پتلی بٹھا رکھے ہیں۔ صدر جارج ڈبلیو بش اور صدر باراک حسین اوباما کے بعد ٹرمپ تیسرے صدر ہیں کہ جنہوں نے جنگ اور افغانوں کے کشت و خون کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اس پورے عرصہ بے ثمر رہا ہے۔ اور افغانستان میں نقصان ہی اْٹھایا ہے۔ امریکا کا بھاری سرمایہ ضائع ہوا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے اور سمجھنے کی ہے کہ امریکا خواہ کوئی بھی حربہ استعمال میں لائے مگر طالبان اپنے جائز موقف اور مزاحمت سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔طالبان کی حکومت امریکی حملے سے قبل اسامہ بن لادن کی بابت ہر جائزو معقول تعاون کو تیار تھی۔ ملا محمد عمر مرحوم نے امریکی نمائندہ سے ملاقات کی ہامی بھی بھر لی تھی۔ یہاں تک کہ اسامہ کو افغانستان سے چلے جانے کا کہا اور امریکا کوآگاہ بھی کر دیا تھا۔ مگر امریکی حکام نے پھر بھی قناعت نہ کی اور طالبان پر واضح کیا کہ ان کے اسامہ بن لادن کے علاوہ افغانستان میں اور بھی مقاصد ہیں۔طالبان کی حکومت نے بھارت کے لیے بھی معاندانہ رویہ نہیں رکھا تھا۔ بلکہ ان کے ساتھ سفارتی تعلقات کی خواہش مند تھی۔ اس جانب طالبان نے ہاتھ بھی بڑھایا۔ بائیس دسمبر 1999کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے ہائی جیک ہونے والا بھارتی طیارہ قندھار کے ائیرپورٹ پر اتروانے دیا۔ طیارے نے بھارت کے امرتسر ائرپورٹ سے فیول کے لیے لینڈنگ کی تھی۔ جس کے بعد لاہور ائرپورٹ پر بھی اترا تھا۔ طالبان نے انسانی بنیادوں پر یعنی دوسو تیرہ عام مسافروں کی سلامتی کو پیش نظر رکھ کر طیارہ قندھار ایئر پورٹ پر اترنے دیا۔ حالانکہ پاکستان کی جانب سے انہیں طیارہ نہ اترنے کی درخواست کی گئی تھی۔ طالبان کے اس اقدام کو بھارت اسی طرح روس اور امریکا نے بھی سراہا۔ اس وقت کے بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ کی قیادت میں پچاس افراد پر مشتمل وفد جہاز کے ذریعے قندھار پہنچا۔ اور اپنے ہم منصب طالبان وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل کو بھارت کے دورے کی دعوت بھی دی۔ تب طالبان حکومت کا یہ اظہار بھی سامنے آیا کہ انہیں بھارت سے سفارتی تعلقات بنانے کا موقع ملا ہے۔ طالبان ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کے خواہش مند تھے۔ وہ کسی بھی ملک میں عدم مداخلت کی پالیسی رکھتے تھے۔ نہ کسی کو اجازت دی کہ وہ ان کے ملک میں بیٹھ کر اپنی دشمنیاں پالنا شروع کر دے۔ جیسے اس وقت بھارت افغانستان میں بیٹھ کر کابل انتظامیہ کے تعاون سے ہر لمحہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُن رہا ہے۔ اور یہ سب امریکی چھتر سایہ میں ہو رہا ہے۔ ان تینوں نے پاکستان کے اندر پراکسیوں کو بھی متحرک رکھا ہے۔ ان پراکسیوں کے پاس سیاسی پلیٹ فارم ہے۔ اور ہر طرح سے قابضین کی مددو مدح سرائی کرتے ہیں۔ پشتون و افغان وعوام کو بے راہ کرنے اور ان کے ذہنوں کو پراگندہ کر رہے ہیں۔ افغانستان کوآزاد اور جمہوری ملک کہنے کی تکراران کے شب و روز کا وظیفہ ہے۔ مگر یہ امر روشن ہے کہ امریکا، بھارت اور کابل انتظامیہ خواہ کتنے ہی جتن کریں، پراکسی پالیں مگر افغانستان میں ان کی موجودگی دیر پا نہ رہے گی۔شرم و حیا سے عاری ڈاکٹر اشرف غنی افغانوں پر ہونے والی بمباریوں پر کبھی رنجیدہ نہیں ہوئے۔ بلکہ انہیں فقط اپنی حکمرانی اور امریکیوں کی خوشنودی سے غرض ہے۔ حامد کرزئی بھی واشنگٹن کی ہدایت پر بٹھائے گئے صدر تھے۔ لیکن وہ معصوم افغان عوام کے قتل اور بربادی پر کئی بار رو پڑے۔ سو امریکی حکومت اور پالیسی ساز اپنے عوام کو تاریکی میں نہ رکھیں۔ چناں چہ مزید حماقت کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی بحالی کے آغاز کا اعلان کریں تاکہ ان کی فوجیں اور جاسوسی کا وسیع نیٹ ورک بسلامتی امر یکا منتقل ہو۔

متعلقہ خبریں