Daily Mashriq

کشمیر اور اقوام متحد ہ

کشمیر اور اقوام متحد ہ

پاکستان کی قیا دت نے ہمیشہ کشمیر کے معاملے میں دیر ہی کی ہے جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کشمیر کے بارے میں وہ کر دار ادا نہیں کر سکا جو اس کو کر نا چاہیے تھے ، یہا ں دیر سے مراد تاخیر بھی ہے اور توجہ نہ دینا بھی ہے ، جب ایوب خان برسراقتدار تھے پا کستان کے لیے حالا ت ساز گا ر تھے کہ وہ بھارت پر عالمی سطح پر بھر پور دباؤ ڈلو ا سکتاتھا مگر اس زما نے میںبھی پا کستان کے میڈیا پر ترانے ہی بجتے رہے ۔ جنرل ضیا ء الحق کا بھی دور ایساہی تھا کہ وہ کچھ کر بیٹھتے مگر ان کی توجہ سوویت یو نین کو پچھاڑنے سے نہ ہٹ سکی مگر جب وہ اس جانب متوجہ ہوئے تو خود ساز ش کا شکا ر ہو کر زندگی گنو ا بیٹھے کیو ں کہ امریکا کے مفادات میں سوویت یو نین کی شکست کے بعدتبدیلی آگئی اور نیت کے اس فتو ر کی وجہ سے امریکا نے اپنا قبلہ بدل لیا آج جو حالا ت ہیں وہ عالمی سطح پر قوت کے عدم تو از ن کا نتیجہ ہے ۔ اسی عدم توازن کی بنیاد پر بھارت نے مقبو ضہ کشمیر کے عوام کو یر غمال بنالیا ہے ، صورت حال یہ ہے کہ مقبوضہ وادی سے نہ تو کسی کو نکلنے دیا جا تا ہے اور نہ داخل ہو نے کی اجا زت ملتی ہے حتٰی کہ میڈ یا کے جو افرا د وہا ں پہنچے ہیں جب وہ متاثرہ علاقوں میں داخل ہوتے ہیں تو ان کو بھارتی قابض فو ج کے نا کو ں پر روک لیا جاتا ہے اور داخلہ کا پرمٹ مانگا جاتا ہے جب وہ پر مٹ کے لیے مقبوضہ وادی کی انتظامیہ سے رجو ع کر تے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ حکومت نے تو کرفیو نا فذہی نہیں کیا ہے تو پھر کس بات کا پر مٹ جا ری کیا جائے ، اس وقت مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ وہاں کے عوام کی حریت کا ہے وہا ں انسانی مسئلہ بھی ہے کہ بھارت عالمی برادری کی بے حسی کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کو پا ما ل کیے ہو ئے ہے ۔ اس وقت اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی کا ایک ایسا اکٹھ نیو یا رک میں لگا ہو ا ہے جس میں عالمی حالا ت کے ماضی کا جا ئزہ لیا جا ئے گا اورمستقبل کی راہ متعین کر نے کے لیے رائے دی جا ئے گی مگر یہ ادارہ اب فعل نہیں رہا ہے کیو ں کہ ماضی بھی اس کا بے حسی سے لبریز ہے ۔ وزیر اعظم خان اس عزم سے نیو یارک پد ھا رے ہیںکہ وہا ں وہ کشمیر کا مقدمہ لڑیں گے ۔ مگر اس کا حاصل حصول کیا ہو گا ویسا ہی جیسا سلامتی کونسل کا گزشتہ اجلا س رہا ہے عالمی برادری کی سوچ کا پیما نہ بدل چکا ہے ان کے نزدیک اب انسانیت کچھ نہیں ہے ، بلکہ مفادات ہی مفادات ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اصطلا حات کے معنی بھی بدل ڈالے ہیں۔ وزیر اعظم عمر ان خان نے اقوام متحد ہ کی جنر ل اسمبلی کے اجلا س میں شر کت کی غرض سے جا نے سے پہلے بیا ن دیا تھا کہ جو کشمیر جہا د کی غرض سے گیا وہ کشمیر کے عوام کو نقصان پہنچا ئے گا مگر اس بارے میں یہ واضح نہیں کیا کہ مقبوضہ کشمیر کی مد د کو جا نے والے کیو ںکر کشمیر کے کا ز کا باعث نقصان ثابت ہو ں گے پھر وزیر اعظم نے اپنی روانگی کے بعد بیا ن دیا کہ پا کستان سے کسی کو مقبوضہ کشمیر میں جہا د کے لیے جانے نہیں دیا جا ئے گا پاکستان اپنی زمین کسی دہشت گرد کو استعمال کر نے کی ہر گز اجازت نہیں دے گا ، اس بات کی سب تعریف کرتے ہیں کہ پاکستان کی سر زمین کسی دہشت گرد یا کسی دہشت گردی کے لیے استعما ل کر نے کی اجازت نہیں دی جا ئے گی ۔ اول بات تویہ ہے کہ کوئی دہشت گرد اپنے مذمو م عزائم کی تکمیل کے لئے اجا زت نہیں لیا کر تے انہیںجو کر نا ہو تا ہے وہ کر گزر تے ہیں ، دوسری بات یہ ہے جو بہت حیران کن بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد حریت کیا دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے تو اس امر کی بھی وضاحت ہونی چاہیے کہ جد وجہ د حریت کس چڑ یا کا نا م ہے ، آزادی کی جد جہد اور دہشت گردی کیا ایک ہی عمل کے دونا م کردئیے گئے ہیں ۔کیا اب حریت پسند حر نہیں رہے بلکہ دہشت گر د قرار پا گئے ہیں یا پھر یہ بتا یا جائے کہ غلا می کی نجا ت حاصل کر نے والے حروں کا کردار نہ ادا کر یں اور غلا می کو قبول کر بیٹھیں ۔وزیر اعظم عمر ان خان کے اس بیا ن کو پذیر ائی عالمی طاقتوں کے حلقو ں میں خوب تر ملی ہے اور ملنا بھی چاہیے پاکستان میں بھی اپنے وزیر اعظم کے ان عزائم کو سراہا گیا ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ پا کستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں ہو نا چاہیے پورا پاکستان اپنے وزیر اعظم سے متفق ہے ۔ لیکن بہت برسو ں کی بات ہے ابھی اس کی تاریخ مکمل نہیں ہو ئی کہ افغانستان کے عوام نے سوویت یونین کے خلا ف اپنی آزادی کی جنگ لڑی امریکا ،پاکستان سمیت ہر یو رپی یا دوسرے الفا ظ میں امریکی نو ا ز ممالک نے اس جد وجہد کو آزاد ی کی جدوجہ د تسلیم کر کے اپنا اپنا حصہ ڈالا تھا اور جب افغان عوام نے امریکی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کی تو یہ دہشت گردی قر ار دیدی گئی تو پھر یہ بتایا جا ئے کہ آزادی یا آزادی کی تحریک کیا ہو تی ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بارے میں یقین ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں کوئی کر دار ادا نہیں کر پائے گی تاہم یہ ہے کہ عمر ان خان کھل کر پاکستان کا مئو قف بیا ن کر سکیں گے او ر عمر ان خان کے مخالفین ان کے بارے میں جو طر ح طرح کی باتیں ملا تیں ہیں وہ بھی کھل جائیں گی کہ کشمیر کے بارے میں عمر ان خان کے نظریا ت کیا ہیں اور کیا مئوقف رکھتے ہیں ، لیکن بھارتی لابی وہا ں امریکی پشت بانی سے خوب کا م کر رہی ہے چنانچہ بھارتی وزیر اعظم نے نیو یا رک اپنی روانگی کے وقت میڈیاکو بتا دیا ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلا س میں کشمیر کے بارے میں کوئی ہلچل نہیںہو نے دی جائے گی کوئی سرگرمی نہیں ہو نے دی جا ئے گی کیو ں کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا معاملہ بھارت کا اندورنی معاملہ ہے اور جنر ل اسمبلی عالمی معاملا ت پر ہی بحث کر سکتی ہے کسی ملک کے اندورنی معاملا ت سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ جہا ں تک جنر ل اسمبلی کے اجلا س کے ایجنڈے کا تعلق ہے تو اب تک اس بارے میںیہ ہی معلو م ہو ا کہ اس میں کشمیر کا مسئلہ نہیں رکھا گیا ہے ،چنانچہ وزیر اعظم عمر ان خان اپنے خطاب میں ا س کا ذکر کر سکیں گے۔

متعلقہ خبریں